سعودی ولی عہد محمد بن سلمان رواں ماہ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مہمان کے طور پر واشنگٹن پہنچے، جہاں انہوں نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے کیے اور ایف—35 لڑاکا طیارے خریدنے کے معاہدے طے کیے۔
لیکن انہوں نے ایک ایسا اعلان کرنے سے انکار کیا جس کا ٹرمپ، اور ان سے پہلے وائٹ ہاؤس میں آنے والے صدور بھی برسوں سے انتظار کرتے رہے ہیں: سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان مکمل اور باضابطہ تعلقات۔
ٹرمپ کے دور میں اسرائیل نے ستمبر 2020 میں متحدہ عرب امارات اور بحرین، دسمبر 2020 میں مراکش اور جنوری 2021 میں سوڈان کے ساتھ ’ابراہیم معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے۔
ان معاہدوں کے نتیجے میں اسرائیل کو باضابطہ تسلیم کیا گیا، مکمل سفارتی تعلقات قائم ہوئے، اور سب سے اہم بات یہ کہ دوطرفہ تجارتی سمجھوتے طے پائے۔
لیکن اس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی، لبنان پر جنگ، اور یمن، ایران، شام اور قطر جیسے ممالک پر حملے شروع کیے، جس سے خطے میں شدید بے چینی، ان عرب ریاستوں کے لیے مشکلات جنہوں نے اسرائیل سے تعلقات قائم کیے تھے، اور ان ممالک میں ہچکچاہٹ پیدا ہوئی جو مستقبل میں ایسے معاہدوں پر غور کر رہے تھے۔
وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران ولی عہد نے صحافیوں کے سوال پر کہا:
“ہم سمجھتے ہیں کہ تمام مشرقی ممالک سے اچھے تعلقات رکھنا بہتر ہے۔ ہم ابراہیم معاہدوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں، لیکن ہم اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ دو ریاستی حل کا واضح راستہ موجود ہو۔”
اسرائیل کے ساتھ ’ نارملائزیشن‘ کیا ہے؟
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد عرب پڑوسی ممالک اور کئی مسلم اکثریتی ریاستوں نے اسے اجتماعی طور پر بائیکاٹ کیا۔
’نورملائزیشن‘ وہ عمل ہے جس کے ذریعے تعلقات کو باضابطہ بنایا جاتا ہے—صرف اقتصادی و سفارتی ہی نہیں بلکہ انٹیلیجنس شیئرنگ، کمیونیکیشن، ٹیکنالوجی اور ثقافتی تعاون بھی شامل ہوتا ہے۔
بہت سے لوگوں کے نزدیک ’نورملائزیشن‘ کا لفظ مسئلہ خیز ہے، کیونکہ یہ ان حالات کو نظرانداز کرتا ہے جن کا فلسطینیوں کو مقبوضہ علاقوں—غزہ، مغربی کنارے اور القدس—میں سامنا ہے، ساتھ ہی اسرائیل کی خطے میں وسیع پالیسیوں کو بھی۔
اسرائیل کو طویل عرصے تک ایک "باغی ریاست” سمجھا جاتا رہا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے ملک کے ساتھ ’معمول‘ کے تعلقات کس طرح قائم ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ لفظ یہ تاثر دیتا ہے کہ اسرائیل اور متعلقہ عرب ریاست کے درمیان پہلے بالکل کوئی رابطہ نہیں تھا، حالانکہ عملی طور پر کئی معاملات خفیہ یا ثالثوں کے ذریعے ہوتے رہے ہیں۔
اسرائیل کے قیام سے پہلے بھی عرب اور مسلم اکثریتی ممالک نے فلسطین میں یہودی بستیوں کا بائیکاٹ جاری رکھا۔
مئی 1948 میں ریاست کے اعلان اور اس کے ساتھ آنے والی نکبہ—جس میں تقریباً 13 ہزار فلسطینی شہید ہوئے اور 7 لاکھ 50 ہزار بیگھربنائے گئے—کے بعد عرب لیگ کے بانی ممالک (سعودی عرب، مصر، عراق، اردن، لبنان، شام اور شمالی یمن) نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔
دسمبر 1954 میں عرب لیگ نے قرارداد 849 منظور کی، جس نے بائیکاٹ کو مزید مضبوط کیا۔ خطے سے باہر بھی کئی ممالک—جنہوں نے حال ہی میں آزادی حاصل کی تھی—اسرائیل سے دور رہے، جن میں انڈونیشیا اور پاکستان شامل تھے۔ ایران، جو شہنشاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں اسرائیل سے تعلقات رکھتا تھا، نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے فوراً بعد تعلقات ختم کر دیے۔
مصر اور اردن کے اسرائیل سے معاہدے
1977 میں امریکی صدر جمی کارٹر کے دور میں ایسے قوانین منظور کیے گئے جن کے تحت امریکی کمپنیوں کو عرب بائیکاٹ میں حصہ لینے سے روکا گیا۔
کارٹر نے کہا کہ یہ قانون امریکہ کے ’’اسرائیل سے خاص تعلق‘‘ کا نتیجہ ہے اور اس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو گی۔
نومبر 1977 میں مصری صدر انور السادات نے کارٹر اور اسرائیلی وزیر اعظم میناخیم بیگن سے یروشلم میں ملاقات کی اور اسرائیلی پارلیمان سے خطاب بھی کیا۔ اس کے بعد 1978 میں امریکہ کی ثالثی سے ہونے والے کیمپ ڈیوڈ معاہدوں کے نتیجے میں مصر نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کیے۔
ان معاہدوں کے نتیجے میں مصر کو واشنگٹن میں سیاسی مقام اور اقتصادی تعاون ملا، اور اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں قبضہ کیے گئے جزیرہ نما سینا کو واپس کیا۔
اس کے بدلے مصر نے اقتصادی بائیکاٹ میں نرمی پیدا کی اور اسرائیلی بحری کارگو کو اپنی سمندری حدود، بشمول نہرِ سویز، سے گزرنے کی اجازت دی۔
یہ معاہدہ عرب دنیا میں شدید غم و غصے کا باعث بنا، اور عرب لیگ نے مصر کی رکنیت 1989 تک معطل رکھی۔ اندرونی مخالفت بالآخر اس بات پر منتج ہوئی کہ سادات کو 1981 میں قاہرہ میں فوجی پریڈ کے دوران قتل کر دیا گیا۔
اگلا معاہدہ 1994 میں اس وقت ہوا جب امریکہ کی کوششوں سے اردن اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ طے پایا، جو اس سے ایک سال قبل طے پانے والے اوسلو معاہدوں کی بنیاد پر تھا۔ اوسلو کے تحت فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل نے ایک دوسرے کو تسلیم کیا، اور مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو تسلیم کیا گیا۔
2002 میں عرب لیگ نے سعودی عرب کی تجویز پر مشتمل ’عرب امن منصوبہ‘ منظور کیا، جس کے تحت اسرائیل کی مقبوضہ فلسطینی و شامی علاقوں سے مکمل واپسی اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر فلسطینی ریاست کے قیام کے بدلے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی پیشکش کی گئی۔
یہ تجویز 2007 اور 2017 میں بھی توثیق ہوئی، اور یاسر عرفات اور محمود عباس دونوں نے اس کی حمایت کی۔ لیکن اسرائیل نے اسے مسترد کر دیا۔
متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ ابراہیم معاہدے
ستمبر 2020 میں ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور یو اے ای و بحرین کے وزرائے خارجہ کو وائٹ ہاؤس میں اکٹھا کیا، جہاں ابراہیم معاہدوں پر دستخط ہوئے۔
ان معاہدوں کے تحت سفارت خانے کھولے گئے، تجارت شروع ہوئی، اور امریکہ کی حمایت یقینی ہوئی۔
یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان تجارت 2024 میں بڑھ کر 3.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
یو اے ای نے اسرائیلی اسلحہ صنعت میں سرمایہ کاری کی، اور الیبت اور کونٹرول کے ذیلی ادارے وہاں قائم ہوئے۔
نیتن یاہو نے خلیجی ممالک کو کہا:
“آپ نے اسرائیل کا ساتھ دیا۔ آپ نے تہران کے جابروں کا مقابلہ کیا۔ آپ نے اسرائیل—فلسطین امن کے لیے حقیقت پسندانہ راستہ دکھایا۔”
فلسطینیوں نے ان معاہدوں کو دھوکہ قرار دیا۔
تاہم عرب دنیا میں اس پر کوئی خاص ردِعمل سامنے نہ آیا اور نہ ہی کسی ملک کو عرب لیگ سے معطل کیا گیا۔
ایران نے اس کی سخت مخالفت کی۔ ستمبر 2020 میں رہبر معظم سید علی خامنہ ای نے کہا:
“یو اے ای نے عالمِ اسلام، عالمِ عرب اور فلسطینی عوام کے ساتھ غداری کی ہے… یہ داغ کبھی نہیں دھلے گا۔”
بعد ازاں سوڈان اور مراکش بھی شامل ہوئے، اگرچہ سوڈان کی منظوری اس کی خانہ جنگی کے باعث تاحال معطل ہے۔
مراکش کے اسرائیل سے پہلے بھی محدود تعلقات رہے تھے، جو دوسری انتفاضہ کے دوران منقطع ہو گئے تھے۔
2020 کے معاہدے کے بدلے امریکہ نے مراکش کی مغربی صحارا پر حاکمیت کو تسلیم کیا۔
مراکش نے اسرائیلی اسلحہ صنعت کے ساتھ تعاون بڑھایا ہے، اور 2025 میں الیبت کو اپنا مرکزی سپلائر منتخب کیا ہے۔
سوڈان کے لیے ایک اور فائدہ یہ تھا کہ امریکہ نے اسے ’’دہشت گردی کی ریاست‘‘ کی فہرست سے نکال دیا۔
غزہ میں نسل کشی کے بعد تعلقات کا جمود
یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اگلا ملک سعودی عرب ہو گا، جو خطے کی سب سے بڑی اقتصادی قوت ہے۔
ستمبر 2023 میں معاہدہ تقریباً طے ہو جانے کی خبریں تھیں۔ محمد بن سلمان نے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ ’’ہم ہر روز قریب تر ہو رہے ہیں‘‘۔
لیکن غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی—جس میں اب تک کم از کم 69 ہزار فلسطینی قتل ہو چکے ہیں—کے بعد تمام مذاکرات معطل ہو گئے۔
یہ قتلِ عام ان ممالک میں بھی شدید عوامی غم و غصے کا باعث بنا جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں، بشمول اردن اور مراکش۔
سعودی عرب بارہا کہہ چکا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے ممکن نہیں، اور یہ کہ نیتن یاہو کی حکومت میں ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔
اس کے برعکس اسرائیل نے غربِ اردن کے انضمام کے لیے قانون سازی شروع کر رکھی ہے، جو 1967 سے زیرِ قبضہ ہے۔
قطر—جو خلیج میں فلسطین کا مضبوط ترین سفارتی مددگار ہے—نے ٹرمپ کے پہلے دور میں ہی تعلقات کے امکان کو مسترد کر دیا تھا، اور ستمبر 2025 میں اسرائیل کے قطر میں حماس وفد پر حملے کے بعد یہ مؤقف مزید سخت ہو گیا۔
شام کے نئے صدر احمد الشرع نے بھی اصرار کیا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات ممکن نہیں۔ انہوں نے 11 نومبر کو فاکس نیوز کو بتایا:
“شام کی صورتحال ان ممالک سے مختلف ہے جو ابراہیم معاہدوں میں شامل ہوئے۔ اسرائیل نے گولان ہائٹس پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ہم براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔”
2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے شام کے مزید علاقوں پر قبضہ کیا تھا اور اس کے فوجی اب بھی جنوبی شام میں موجود ہیں۔
ترکی، جس کے اسرائیل سے 1949 سے سفارتی تعلقات تھے، نے نومبر 2024 میں اسرائیلی نسل کشی کے بعد تعلقات منقطع کر دیے۔
اگرچہ انقرہ تجارت اور تیل کی ترسیل روکنے کا اعلان کر چکا ہے، لیکن رپورٹس بتاتی ہیں کہ ترکی کے کچھ تیل بردار جہاز اب بھی اسرائیل جا رہے ہیں۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ گدعون ساعر نے جون 2025 میں لبنان کے ساتھ ’نورملائزیشن‘ کا امکان ظاہر کیا، لیکن لبنان نے اس کی سختی سے نفی کی۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے 11 جون کو کہا:
“ہمارے لیے اس وقت امن کا مطلب حالتِ جنگ کا خاتمہ ہے۔ لیکن نورملائزیشن ہماری خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔”
مزید کئی عرب ریاستیں—عراق، عمان، کویت، تیونس، لیبیا، الجزائر اور یمن—اسرائیل سے معاہدے کے امکان کو رد کرتی ہیں۔
ایران، جو حماس اور حزب اللہ کی حمایت کرتا ہے، سب سے زیادہ سخت مؤقف رکھتا ہے۔
12 اکتوبر کو وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا:
“ایران کسی ایسے قابض اور نسل کُش ریاست کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔”
انڈونیشیا نے بھی اسرائیل کے دورے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
ملک میں غزہ نسل کشی کے خلاف مسلسل احتجاج جاری ہیں۔
پاکستان اور بنگلہ دیش، جہاں اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف شدید عوامی مزاحمت ہے، بھی کسی معاہدے کے سخت خلاف ہیں۔
اس ماہ کا ابراہیم معاہدہ
غزہ میں جاری نسل کشی عرب و مسلم رہنماؤں کے لیے بہت بڑا سیاسی خطرہ بن چکی ہے۔ مستقبل میں صورتحال اس بات پر منحصر ہو گی کہ تباہ شدہ غزہ میں کیا ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 17 نومبر کو ٹرمپ کی امن منصوبے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس تعینات ہو گی، جس میں انڈونیشیا، ترکی، قطر اور یو اے ای کے فوجی شامل ہو سکتے ہیں۔
لیکن اسرائیل جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے، لبنان پر بمباری جاری ہے، شام میں قبضہ برقرار ہے، اور غربِ اردن میں کارروائیاں بڑھا رہا ہے۔
بڑے معاہدوں کی عدم موجودگی میں ٹرمپ نسبتاً چھوٹے اقدامات پر توجہ دے رہے ہیں۔
امریکہ کے دباؤ پر قازقستان نے نومبر 2025 میں رسمی طور پر ابراہیم معاہدوں میں شمولیت کا اعلان کیا، حالانکہ یہ زیادہ تر علامتی فیصلہ ہے، کیونکہ وسطی ایشیا کے بیشتر ممالک کی طرح قازقستان کے اسرائیل سے پہلے ہی مکمل سفارتی تعلقات موجود ہیں۔

