تہران (مشرق نامہ) – ایران کی نیوی ڈے کی مناسبت سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریئر ایڈمرل شہرام ایرانی نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی بحری افواج کو ایسے ضروری ساز و سامان سے لیس ہونا چاہئے جو انہیں کھلے سمندروں میں مستقل آپریشنز جاری رکھنے کے قابل بنائے۔
انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت آئندہ دنوں میں نئی جنگی کشتیاں بحری بیڑے میں شامل کی جائیں گی، تاکہ ایران نہ صرف اپنی اقتصادی سلامتی کو یقینی بنائے بلکہ بین الاقوامی سمندری راستوں کی حفاظت بھی مؤثر انداز میں انجام دے سکے۔
ایرانی بحریہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آج ایران نے بحرِ ہند کے ساحلی ممالک کے تمام بحری سکیورٹی مراکز کے ساتھ فوری رابطے اور معلومات کے تبادلے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے، اور اگر انہیں کسی مدد کی ضرورت ہو تو ایرانی فورسز فوری طور پر علاقے میں تعینات کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ سال ایرانی بحریہ نے خلیجِ عدن میں اپنے 100ویں فلوٹیلا کو روانہ کیا تھا، جس کا مقصد خطے میں سمندری تجارت کے تحفظ کو مضبوط بنانا تھا۔ یہ اقدام خلیجِ عدن میں قزاقوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے جواب میں کیا گیا، تاکہ نہ صرف ایران بلکہ دنیا بھر کیلئے برآمدی اور درآمدی سمندری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایران نومبر 2008 سے خلیجِ عدن میں انسدادِ بحری ڈاکہ زنی کی بین الاقوامی کاوشوں کے تحت حفاظتی گشت سرانجام دے رہا ہے۔ یہ مشن اُس تمام تجارتی جہاز رانی، بالخصوص ایران کے زیرِ ملکیت یا لیز پر حاصل کردہ جہازوں اور آئل ٹینکروں، کے تحفظ کیلئے جاری ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں ایرانی بحری افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں اپنی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، تاکہ سمندری راستوں کی حفاظت اور تاجر بحری جہازوں اور ٹینکروں کو سیکورٹی فراہم کی جا سکے۔
اقوامِ متحدہ کی جانب سے اسنیپ بیک میکانزم کے ذریعے دوبارہ نافذ کی گئی پابندیوں پر بات کرتے ہوئے ایڈمرل ایرانی نے کہا کہ یہ اقدامات ایران کی سمندری سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے مطابق پابندیوں کے باوجود ایرانی بحری جہاز دنیا بھر کی بندرگاہوں تک آمدورفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے ایران کے 86ویں فلوٹیلا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس مشن پر روانگی کے دوران اسے بحرالکاہل میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا اور بتایا گیا کہ اسے پاناما کینال سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، حالانکہ اس فلوٹیلا کا اس راستے سے گزرنے کا کوئی ارادہ ہی نہیں تھا۔ اس کے باوجود اس نے غیرملکی بندرگاہوں پر کامیابی سے لنگر انداز ہو کر میزبان ممالک کی جانب سے مثبت پذیرائی حاصل کی۔
ایران کی بحری تاریخ میں پہلی بار، 86ویں فلوٹیلا — جس میں ملکی ساختہ ڈینا ڈسٹرائر اور مکران فلوٹنگ بیس شپ شامل تھی — نے 17 مئی 2023 کو دنیا کے گرد اپنا پہلا بحری سفر مکمل کیا۔ اس مشن کے دوران فلوٹیلا نے بحرِ ہند، بحرالکاہل اور بحراٹلانٹک کا سفر کیا، جو ایرانی بحریہ کیلئے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوا۔
یہ فلوٹیلا 20 ستمبر 2022 کو بندر عباس سے روانہ ہوئی تھی اور 236 روزہ سفر کے بعد عمان کی صلالہ بندرگاہ پر لنگر انداز ہو کر اپنا مشن مکمل کیا۔ مجموعی طور پر اس نے 63 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور چار مرتبہ خطِ استوا کو عبور کیا۔
ڈینا، مودج کلاس کا ایک ایرانی ڈسٹرائر ہے جو جون 2021 میں بحری بیڑے میں شامل ہوا۔ یہ جنگی جہاز اینٹی شپ کروز میزائلوں، ٹارپیڈوز اور نیول توپوں سے لیس ہے۔
مکران 1,21,000 ٹن وزنی ایک فلوٹنگ فارورڈ بیس شپ ہے، جو پانچ ہیلی کاپٹروں کی گنجائش رکھتی ہے۔ اسے جنگی جہازوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

