جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیل کی محفوظ جارحیت اور عالمی منافقت بے نقاب

اسرائیل کی محفوظ جارحیت اور عالمی منافقت بے نقاب
ا

اگرچہ ریاستیں پیش رفت کی بات کرتی ہیں، مگر ایک بنیادی تضاد تمام کارروائیوں پر سایہ فگن ہے۔ اسرائیل کسی بھی تخفیفِ اسلحہ معاہدے کا حصہ بنا ہی نہیں—نہ کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن (سی ڈبلیو سی) کا، نہ جوہری عدمِ پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا، نہ کسی ایسے مؤثر پلیٹ فارم کا جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو محدود کرنے کے لیے بنایا گیا ہو۔ اس انکار نے اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں جوہری اور کیمیائی ہتھیاروں سے پاک خطہ قائم کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا دیا ہے—ایک ایسا ہدف جسے اقوامِ متحدہ نے طویل عرصے سے حمایت دی ہے، لیکن جسے تل ابیب کی ضد نے عملی طور پر ناممکن بنا دیا ہے۔

جرمن تائید

مغربی شراکت داری اس وقت پوری طرح کھل کر سامنے آئی جب جرمن چانسلر فریڈرش مرز نے جون 2025 میں ایران پر اسرائیلی حملوں کو ’’وہ گندا کام جو اسرائیل ہم سب کے لیے کر رہا ہے‘‘ قرار دیا۔ اس جملے کے ذریعے مرز نے اعتراف کیا کہ اسرائیل دراصل مغرب کا آلہ کار ہے، جو وہ حملے کرتا ہے جنہیں دوسرے کھل کر انجام دینے کی ہمت نہیں رکھتے۔ یہ بیان نہ صرف اسرائیلی حملوں کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی نوعیت کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اس کی توثیق بھی کرتا ہے۔ جرمنی کا یہ مؤقف مغربی حکومتوں کے اس تضاد کو بے نقاب کرتا ہے جو بظاہر بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن جب خلاف ورزی ان کے اتحادی کریں تو اسے سراہتی بھی ہیں۔

جوہری دھمکیوں کی سیاست

اسرائیل کے خطرات مفروضے نہیں۔ وزیرِ اعظم بنیامین نتنیاہو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فورم کو بارہا ایران کو جوہری حوالوں سے دھمکانے کے لیے استعمال کر چکے ہیں۔ 2012 میں انہوں نے ایک کارٹون بم اٹھا کر پیش کیا، اور 2023 میں ان پر ’’قابلِ یقین جوہری دھمکی‘‘ دینے کا الزام لگا، جسے تہران نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور خطے کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

مزید خطرناک بات یہ کہ نومبر 2023 میں اسرائیل کے وزیرِ ورثہ امیچائی الیاہو نے ’’غزہ پر ایٹم بم گرانے‘‘ کو ایک ممکنہ آپشن قرار دیا۔ اگرچہ نتنیاہو نے انہیں کابینہ میٹنگز سے معطل کر دیا اور بیان سے لاتعلقی ظاہر کی، لیکن یہ حقیقت کہ ایسا بیان ایک موجودہ وزیر کی جانب سے دیا گیا، اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جوہری بلیک میلنگ اور نسل کشانہ دھمکیاں اسرائیلی سیاسی ڈسکورس کا معمول بنتی جا رہی ہیں۔ یہ بیانات انفرادی لغزشیں نہیں بلکہ ایسی سیاسی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں شہری آبادیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں کا استعمال کھلے عام زیرِ غور آتا ہے۔

علاقائی جارحیت

غزہ، لبنان، شام اور ایران میں اسرائیل کی عسکری کارروائیاں اس بات کی واضح مثال ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کے دائرے سے باہر عمل کرنے میں کوئی تردد نہیں رکھتا۔ مغربی میڈیا کی رپورٹس میں شہری آبادی والے علاقوں میں ممنوعہ ہتھیاروں، خصوصاً سفید فاسفورس، کے استعمال کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان عام افراد نے برداشت کیا۔

7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں تقریباً 70 ہزار فلسطینی اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ لبنان میں گزشتہ دو برسوں میں اسرائیلی حملوں نے تقریباً 4 ہزار افراد کو ہلاک کیا ہے، جو تباہی کے علاقائی دائرے کو واضح کرتا ہے۔

اس ریکارڈ کو زیادہ خوفناک اس بات نے بنا دیا ہے کہ ان حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیار بڑی حد تک مغرب کی فراہم کردہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں۔ امریکی ساختہ لڑاکا طیارے، درست نشانہ باز میزائل، اور یورپی ساختہ توپ خانہ—سب اسرائیلی حملوں میں استعمال ہوئے جنہوں نے غزہ اور لبنان میں شہری آبادیوں کو تباہ کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا تحقیقات نے ان ہتھیاروں کی اصل تک رسائی دکھاتے ہوئے بتایا ہے کہ مغربی حکومتیں وہ آلات فراہم کرتی ہیں جن سے یہ تباہی برپا کی جاتی ہے۔

ممنوعہ اسلحہ، مغربی ہتھیاروں، اور بے پناہ شہری ہلاکتوں کا امتزاج ایک دوہری استثنیٰ کو ظاہر کرتا ہے: اسرائیل قانون سے بالاتر ہو کر کام کرتا ہے، اور اس کے اتحادی اس کی پشت پناہی کے باوجود جوابدہی سے بچ جاتے ہیں۔

مغربی مفادات

اسرائیل کی قانونی گرفت سے آزادی حادثاتی نہیں بلکہ باقاعدہ طور پر پیدا کی گئی ہے۔ مغرب چاہتا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کا پابند نہ ہو، کیونکہ اس کی غیر روکی گئی جارحیت مغربی اسٹریٹجک مفادات کو آگے بڑھاتی ہے۔ امریکہ کی سفارتی ڈھال اور مغربی ٹیکنالوجی کی پشت پر اسرائیل خطے کو ایسے عدمِ استحکام کی طرف دھکیلتا ہے جس سے اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اسرائیلی رویے کی ذمہ داری صرف تل ابیب تک محدود نہیں، بلکہ واشنگٹن، برلن اور دیگر مغربی دارالحکومتوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔

ایران کا انتباہ

سی ایس پی 30 کے موقع پر ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل کے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن میں شامل نہ ہونے اور خطے کو عدمِ استحکام کی طرف دھکیلنے کے رویّے پر تنقید کی۔ ان کے بیانات، اگرچہ سفارتی زبان میں تھے، مگر اصل حقیقت یہی ہے: اسرائیل کی جوہری دھمکیاں نہ صرف ایران بلکہ پورے بین الاقوامی نظام کے لیے خطرہ ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں سے پاک خطہ قائم نہ ہونے کی بنیادی وجہ بھی اسرائیل کی یہی ہٹ دھرمی ہے۔

سی ایس پی 30 کے موقع پر عالمی برادری کو اس منافقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ اسرائیل کے ہتھیاروں اور جارحیت کو کیوں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس (ایف اے ایس) کے نیوکلیئر نوٹ بُک کے مطابق اسرائیل کے پاس تقریباً 90 جوہری وار ہیڈز موجود ہو سکتے ہیں، جبکہ بعض آزاد تجزیہ کار یہ تعداد 200 کے قریب بتاتے ہیں۔ کسی بھی تخفیفِ اسلحہ معاہدے میں شامل نہ ہونے کے باعث اسرائیل خطے اور عالمی امن کے لیے مرکزی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

اگر تخفیفِ اسلحہ کے عالمی نظام کو اپنی ساکھ برقرار رکھنی ہے تو اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانا ناگزیر ہے—ورنہ سی ایس پی 30 کے بلند بانگ وعدے محض کھوکھلے نعروں میں بدل جائیں گے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین