مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – ایران کے وزیرِ خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے عدمِ پھیلاؤ کے معاہدوں پر عدمِ عمل درآمد کو خطے کے استحکام کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے، امریکی عدمِ تعمیل پر بھی شدید تنقید کی ہے۔
عباس عراقچی نے یہ بات ہیگ، نیدرلینڈز میں منگل کے روز کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن (سی ڈبلیو سی) کے رکن ممالک کے کانفرنس کے تیسویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، یہ اجلاس آرگنائزیشن فار دی پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز (او پی سی ڈبلیو) کی نگرانی میں منعقد ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کسی بھی عدمِ پھیلاؤ یا تخفیفِ اسلحہ کے معاہدے میں شامل ہی نہیں ہوئی، جن میں کیمیائی ہتھیاروں کا کنونشن بھی شامل ہے، اور یہی حقیقت مغربی ایشیا میں بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں سے پاک زون کے قیام کی واحد رکاوٹ ہے۔
انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اسرائیلی کنٹرول میں موجود بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیار خطے کے لیے شدید خطرات رکھتے ہیں۔
عراقچی نے کہا کہ بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیار ہر حال میں خطرناک اور غیر انسانی ہوتے ہیں، لیکن جب وہ ایسے مطلوب مجرموں کے ہاتھ میں ہوں جو گزشتہ دو برسوں سے نسل کشی اور قتلِ عام میں ملوث رہے ہیں، تو وہ انسانی تہذیب اور ہمارے سیارے کے لیے وجودی خطرے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی حکومت کو لازمی طور پر کنونشن میں شامل ہونے اور مکمل نوعیت کے معائنے قبول کرنے پر مجبور کیا جانا چاہیے، اور او پی سی ڈبلیو کے لیے یہ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
عراقچی نے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کو ’’سب سے کامیاب تخفیفِ اسلحہ معاہدہ‘‘ قرار دیا، تاہم خبردار کیا کہ اس کی کامیابی مکمل اور عالمی سطح پر عمل درآمد سے مشروط ہے۔
انہوں نے چنیدہ یا سیاسی بنیادوں پر عمل درآمد کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کنونشن کی شقوں پر انتخابی یا سیاسی مقاصد سے کی جانے والی تشریح نہ صرف ہمارے مشترکہ اہداف کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ریاستی فریقین کے درمیان اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہے۔
انہوں نے امریکہ سمیت بعض ممالک میں مسلسل تعمیل نہ ہونے کے مسائل کی طرف توجہ مبذول کرائی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور بعض دیگر ممالک کی جانب سے عدمِ تعمیل یا تاخیر کے معاملات واضح طور پر تنظیم کی سرکاری رپورٹس، ان ممالک کے سابق عہدیداروں کے بیانات، اور گزشتہ اجلاسوں میں اٹھائے گئے معاملات میں درج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکمل شفافیت اور تصدیقی نظام کے ساتھ تعمیری تعاون اس کنونشن کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
عراقچی نے امریکہ کی جانب سے کنونشن کی ذمہ داریوں کی تکمیل میں تعطل یا عدمِ تعمیل کے متعدد معاملات پر ایران کی باقاعدہ شکایات کی وضاحت بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ غیر مہلک ہتھیاروں کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے، اور اس کے سرکاری ذرائع کے مطابق، نفسیاتی اثر رکھنے والے کیمیکل اور مصنوعی اوپیائیڈ پر مبنی اجزا کو فوجی مقاصد کے لیے قابلِ استعمال بنانے کے کئی منصوبے بھی جاری ہیں۔
’امریکہ طاقت پر مبنی عالمی نظام کو فروغ دے رہا ہے‘
عراقچی نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی جارحانہ اقدامات ’’جنگجو یکطرفیت‘‘ کی مثال ہیں جو عالمی اصولوں کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج بین الاقوامی تعلقات سخت دباؤ کا شکار ہیں، جہاں ’’جنگجو یکطرفیت‘‘ کو ’’قواعد پر مبنی نظام‘‘ کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کے بنیادی اصولوں پر حملہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بدتر یہ ہے کہ ان خلاف ورزیوں کو معمول بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے، یعنی اسرائیلی مستقل جنگیں، حملے، نسل کشی اور نوآبادیاتی توسیع، وہ براہِ راست امریکی پشت پناہی اور بعض یورپی ممالک کی خاموش رضامندی کا نتیجہ ہے۔
عراقچی نے کہا کہ امریکہ کا بین الاقوامی قانون سے بے اعتنائی اب ایک ایسے ’’طاقت پر مبنی عالمی نظام‘‘ کی تشکیل میں بدل چکی ہے جس میں فوجی قوت کے کھلے استعمال کو اپنے ناجائز مفادات کے حصول کے لیے جائز قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا اس طرزِ عمل سے بخوبی واقف ہے کیونکہ اسرائیلی اور امریکی جنگوں نے پورے خطے کو مستقل عدمِ تحفظ اور شدید خونریزی کی حالت میں مبتلا کر رکھا ہے، جس کی تازہ مثال غزہ میں نسل کشی اور لبنان و شام پر حملے ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ جون میں اسرائیل کا ایران پر غیر قانونی مسلح حملہ، اور اس کے فوراً بعد امریکہ کی براہِ راست فوجی مداخلت، ’’قانون کی حکمرانی‘‘ پر ’’جنگجوئی اور مسلح دھونس‘‘ کے غلبے کی کھلی علامت تھی۔
عراقچی نے واضح کیا کہ یہ اسرائیلی جارحیت نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون پر کھلا حملہ تھی بلکہ جوہری عدمِ پھیلاؤ کے نظام اور کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کے بنیادی ستونوں کو بھی شدید دھچکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے نہ صرف ہمارے محفوظ جوہری مراکز پر حملہ کیا بلکہ ان تنصیبات پر بھی حملہ کیا جو او پی سی ڈبلیو کی نگرانی اور تصدیقی دائرے میں آتی ہیں، جس سے کیمیائی اور تابکار مواد کے اخراج کا خطرہ پیدا ہوا، ایک ایسا خطرہ جو ایران کی سرحدوں سے باہر انسانی صحت اور ماحول کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا۔
ایرانی متاثرین کے لیے انصاف کی اپیل
اپنے خطاب میں عراقچی نے ایران۔عراق جنگ کے دوران عراق کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے متاثرین کے لیے انصاف کے مطالبے کو بھی دہرایا، جس میں 20 ہزار سے زائد ایرانی فوجی اور طبی کارکن شہید ہوئے، جبکہ ہزاروں افراد آج بھی دیرپا زخموں اور معذوریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن ممالک نے سابق عراقی حکومت کو کیمیائی ہتھیار بنانے کے لیے مواد اور تکنیکی معاونت فراہم کی، انہیں جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ ممالک اپنی کمپنیوں اور شہریوں کے بارے میں آزاد اور شفاف تحقیقات کریں جو اس پروگرام کی خریداری، تیاری اور استعمال میں ملوث تھے۔
خطاب سے قبل عراقچی نے او پی سی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل، فرناندو آریاس، سے ملاقات کی، اور مغربی پابندیوں کی مذمت کی جو ایران میں کیمیائی جنگ کے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران پر عائد غیر قانونی پابندیوں نے کیمیائی متاثرین کے لیے طبی سامان اور علاج تک رسائی روک کر ان کے زخموں کو دوگنا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں انسانیت کے خلاف جرم ہیں، اور جن ممالک نے یہ پابندیاں عائد کیں یا نافذ کر رہے ہیں، انہیں جواب دہ ہونا چاہیے۔

