جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامییوکرین، امریکہ کی ثالثی میں روس کیساتھ معاہدے کے قریب، رپورٹ

یوکرین، امریکہ کی ثالثی میں روس کیساتھ معاہدے کے قریب، رپورٹ
ی

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – ایک رپورٹ کے مطابق یوکرین نے روس کے ساتھ تقریباً چار سال سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے امریکہ کے تیار کردہ منصوبے کے زیادہ تر نکات خاموشی سے قبول کر لیے ہیں، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے کییف پر دباؤ بڑھانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یوکرینی حکام نے منصوبے کے نظرِ ثانی شدہ 19 نکاتی مسودے کی توثیق کر دی ہے، جس میں واشنگٹن کی بعض انتہائی متنازع شقوں کو نکال دیا گیا ہے۔ ان میں مشرقی یوکرین کے علاقے دونباس پر روسی خودمختاری کو کھل کر تسلیم کرنے کا معاملہ بھی شامل تھا۔ ذرائع کے مطابق حتمی علاقائی معاملات کا فیصلہ امریکہ اور روس کے درمیان براہِ راست مذاکرات میں کیا جائے گا۔

مغربی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے 28 نکاتی تجویز کییف کو بھجوائی تھی۔

یہ اطلاعات اس کے بعد سامنے آئیں جب خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا کہ واشنگٹن نے کییف کو اگلے جمعرات تک فریم ورک پر دستخط نہ کرنے کی صورت میں اسلحے اور انٹیلیجنس کی فراہمی محدود کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اے بی سی نیوز کے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکل نے متحدہ عرب امارات میں ایک روسی وفد سے خفیہ ملاقات کی، جبکہ جنیوا میں امریکہ اور یوکرین کے متعدد دور کے مذاکرات پہلے ہی ہو چکے تھے۔ ان مذاکرات کی سربراہی امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور علاقائی ایلچی اسٹیو وٹکوف کر رہے تھے۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق “یوکرینی فریق امن معاہدے پر رضامند ہو چکا ہے۔ چند چھوٹے نکات باقی ہیں، لیکن بنیادی طور پر وہ معاہدے پر متفق ہیں۔”

تاہم روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے واضح کیا کہ تاحال کوئی حتمی معاہدہ موجود نہیں اور ماسکو غیر مصدقہ مغربی لیکس پر کسی بھی قسم کے عوامی بیانات میں شامل نہیں ہوگا۔

ان کے مطابق روس سرکاری اور باضابطہ سفارتی ذرائع سے موصول ہونے والے پیغامات کا انتظار کر رہا ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے بھی متضاد مغربی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو حقیقی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی تجاویز میں دونباس اور کریمیا پر روسی خودمختاری کو تسلیم کرنے کا نقطہ بھی شامل ہے، جو عوامی ووٹ کے ذریعے روس میں شامل ہوئے تھے۔ منصوبے میں یوکرین کی فوجی صلاحیتوں میں بڑی کٹوتی، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں پر پابندیاں اور نیٹو میں شمولیت کے ارادے سے باضابطہ دستبرداری جیسے نکات بھی شامل ہیں — وہ مطالبات جو ماسکو طویل عرصے سے کر رہا تھا اور کییف پہلے انکار کرتا رہا تھا۔

دوسری جانب دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق یورپی یونین کی کوشش ہے کہ کییف کے لیے ایک نسبتاً بہتر “جوابی تجویز” تیار کی جائے۔

اسی دوران روس میدانِ جنگ میں اپنی پیش رفت مضبوط کر رہا ہے۔
روسی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف ویلیری گیراسیموف نے اعلان کیا کہ روسی افواج نے اوسکول دریا کے قریب واقع اسٹریٹجک اہمیت کے حامل شہر کوپینسک کو “آزاد” کرا لیا ہے، جو ایک بڑا لاجسٹک مرکز ہے۔

صدر ولادیمیر پوتین کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں تقریباً 15 یوکرینی بٹالینوں کو گھیر لیا گیا تھا۔

کییف نے البتہ شہر کے نقصان کا انکار کیا ہے، لیکن روسی رپورٹس کے برخلاف کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کیا — اور مبصرین کے مطابق یہ طرزِعمل یوکرین کے بگڑتے دفاع اور کم ہوتے افرادی ذخائر کا عکاس ہے۔

مہینوں سے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ ماسکو کسی بھی سفارتی کوشش کو “ناکام” بنا دے گا، مگر امریکی دباؤ میں اضافہ اور میدانِ جنگ میں روس کی پیش قدمی اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ شاید واشنگٹن خود اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ جنگ کو یوکرین کی شرائط پر ختم کرنا ممکن نہیں رہا۔

ماسکو کا مؤقف ہے کہ وہ سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن کوئی بھی معاہدہ اُن سیکورٹی خدشات کو لازماً حل کرے جو 2022 میں اس کی فوجی کارروائی کا باعث بنے تھے — وہ کارروائی جو کییف کی جانب سے منسک معاہدوں پر عمل درآمد سے گریز اور نیٹو میں شمولیت کی مسلسل کوششوں کے بعد شروع کی گئی تھی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین