غزہ (مشرق نامہ) – گھر کے سامنے ایک جلی ہوئی گاڑی کے قریب، جسے ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، فائق اَجور دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ بکھرے ہوئے ملبے اور ٹوٹے شیشے صاف کر رہے تھے۔
فائق ہفتے کے روز قریبی سبزی فروش سے چند چیزیں خریدنے جا رہے تھے کہ اسرائیلی حملہ ہوا۔
انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ محض ایک معجزے کے ذریعے بچ گئے۔ “میں سڑک پار کر ہی چکا تھا۔”
حملے کے فوراً بعد انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ شاید ان کا اپنا گھر نشانہ بنا ہے۔
ایسا نہیں تھا، اور جب وہ بھاگتے ہوئے واپس موقعِ واردات پر پہنچے تو دیکھا کہ اہلِ خانہ جسمانی طور پر محفوظ تھے۔ لیکن ان کی تین کم سن بیٹیاں خوف سے کانپ رہی تھیں، انہیں ڈر تھا کہ غزہ کے خلاف اسرائیلی نسل کش جنگ – جو اکتوبر میں فائر بندی کے اعلان کے بعد رکی ہوئی تھی – دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔
فائر بندی کے آغاز کے بعد سے اسرائیل بارہا غزہ پر حملے کر چکا ہے۔ وہ الزام لگاتا ہے کہ فلسطینی گروہ حماس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ حماس اس الزام کی تردید کرتا ہے، جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اصل خلاف ورزیاں اسرائیل نے کی ہیں، جو فائر بندی کے بعد سے اب تک 500 مرتبہ طاقت کا استعمال کر چکا ہے، اور 342 سے زیادہ شہریوں کو قتل کیا ہے، جن میں 67 بچے بھی شامل ہیں۔
ہفتے کے روز غزہ سٹی کے العباس علاقے میں، جہاں فائق رہتے ہیں، مارے گئے پانچ افراد اُن 24 فلسطینیوں میں شامل تھے جنہیں اسرائیل نے پورے غزہ میں نشانہ بنایا۔
فائق کہتے ہیں، یہ فائر بندی نہیں، ایک ڈراؤنا خواب ہے۔
“لمحوں میں کچھ دیر کی خاموشی ختم ہو جاتی ہے اور زندگی ایک بار پھر جنگ کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔”
“آپ جسم کے پرخچے، دھواں، ٹوٹا شیشہ، لاشیں، ایمبولینسیں دیکھتے ہیں… وہ مناظر جن سے ہم اب تک نہیں سنبھل سکے اور جو ہماری یادوں سے محو نہیں ہوئے۔”
ہر امید کا خاتمہ
29 سالہ فائق، جو مشرقی غزہ سٹی کے طفح محلے سے تعلق رکھتے ہیں، جنگ کے دوران بے پناہ مصائب سے گزرے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فروری 2024 میں ایک اسرائیلی حملے میں ان کے والدین، بھائی کے بچے، اور خاندان کے 30 افراد شہید ہوئے۔ حملے میں ان کی اہلیہ بھی شدید زخمی ہوئیں اور ڈاکٹروں کو ان کی ایک انگلی کاٹنی پڑی۔
انہوں نے کہا کہ میری والدہ اور والد، میرا بھتیجا، میری پھوپھی، میرے کزن… میرا پورا خاندان ختم ہوگیا۔
فائق تب سے اپنے اہلِ خانہ کو بار بار غزہ سٹی اور وسطی غزہ میں منتقل کرتے رہے ہیں، اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے ایک ایسی “محفوظ جگہ” کی تلاش میں، جو ان کے مطابق “سرے سے موجود ہی نہیں”۔
اکتوبر کے بعد وہ نام نہاد فائر بندی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن انہیں اب بھی کوئی تحفظ محسوس نہیں ہوتا۔
“ہر کچھ دن بعد بمباری اور ٹارگٹڈ حملوں کی ایک نئی لہر آتی ہے، اور کسی بھی لمحے سب کچھ الٹ پلٹ ہوجاتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ہم تھک چکے ہیں۔ غزہ میں زندگی 99 فیصد مرچکی ہے، اور فائر بندی صرف 1 فیصد کوشش تھی اسے دوبارہ زندہ کرنے کی۔ لیکن ہم ہر چیز سے ناامید ہوچکے ہیں۔
فائق اپنے والد کے ساتھ کپڑوں کے کاروبار میں کام کرتے تھے، لیکن جنگ نے سب کچھ ختم کر دیا۔ ان کا اپنا گھر اس علاقے میں ہے جسے اسرائیل “زرد لائن” قرار دیتا ہے، جہاں مکمل اسرائیلی کنٹرول ہے اور فلسطینیوں کا داخلہ سختی سے محدود ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہاں نہ تعمیرات ہیں، نہ کام، نہ بنیادی ڈھانچہ، نہ زندگی، نہ ہی حفاظت۔ تو پھر جنگ کا خاتمہ کہاں ہے؟
“آج میں 24 گھنٹے گھر میں بیٹھا رہتا ہوں، زندگی کی کوئی علامت نہیں۔ ہم تلخی پر زندہ ہیں… ہم صرف مایوس نہیں، ہم ایک تباہی میں ہیں۔ ہمیں جینے دو… ہمیں اپنی دکانیں کھولنے دو… راستے کھولو… ہمیں زندگی گزارنے دو۔”
دوسرا مرحلہ نہیں
غزہ کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس پر فلسطینی علاقے کے اندر اور باہر دونوں جگہ بحث جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے 20 نکاتی منصوبے میں ایک عبوری تکنوکریٹک حکومت کی تجویز شامل ہے، جس میں “اہل فلسطینی اور بین الاقوامی ماہرین” شامل ہوں گے، اور جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی “امن بورڈ” کرے گا، جس کی صدارت خود ٹرمپ کریں گے۔
منصوبے میں معاشی ترقی اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی بات بھی کی گئی ہے، جس کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ غزہ کے لیے استحکام اور ترقی ممکن ہے۔
لیکن تفصیلات اب بھی مبہم ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں مستقبل میں حماس کے کسی کردار کو رد کرتے ہیں، اور اسرائیل کی طرف سے کی گئی بے مثال تباہی نے غزہ کی بحالی کو برسوں کا کام بنا دیا ہے۔
خود اسرائیل بھی جنگ کے خاتمے کے لیے پوری طرح تیار نہیں، کیونکہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو اپنی انتہائی دائیں بازو کی اتحادی جماعتوں کا دباؤ درپیش ہے۔
فلسطینی سیاسی تجزیہ کار اور اسرائیلی امور کے ماہر، عہد فرونا کا خیال ہے کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ غزہ میں موجودہ معلق صورتحال برقرار رہے اور بحالی کے مرحلے کی طرف کوئی پیش قدمی نہ ہو۔
فرونا نے کہا کہ اسرائیلی قبضہ اسی طرح کی صورتحال قائم رکھنا چاہتا ہے جیسی جنوبی لبنان میں ہے… وقفے وقفے سے کشیدگی بڑھانا اور لگاتار ٹارگٹڈ قتل کرنا۔
نومبر 2024 میں اسرائیل نے حزب اللہ کے ساتھ ایک سالہ جنگ کے بعد فائر بندی قبول کی تھی، جس میں حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت کا بیشتر حصہ شہید ہوگیا تھا۔ لیکن اس کے بعد بھی اسرائیل لبنان پر حملے کرتا رہا، جن میں حالیہ اتوار کو بیروت میں حزب اللہ کے ایک کمانڈر کی ہلاکت، اور 18 نومبر کو ایک فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر حملے میں 13 افراد کی شہادت شامل ہے۔
فرونا کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملے محض عسکری حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک طویل مدتی منصوبے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد انتشار برقرار رکھنا اور کسی بھی سیاسی ذمہ داری سے بچنا ہے۔
انہوں نے الجزیرہ کو بتایا، نیتن یاہو دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنا نہیں چاہتے، یعنی فائر بندی کے اگلے مرحلے کی طرف، جس میں بحالی اور غزہ کے انتظام جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل غزہ میں قابض علاقے کو “جتنا ہوسکے بڑھانا چاہتا ہے، تاکہ مستقبل کے کسی بھی انتظام میں اس کا پلڑا بھاری ہو۔”
اندرونی سیاسی محرکات
کئی مبصرین کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کی ہچکچاہٹ کی ایک وجہ داخلی سیاسی پس منظر بھی ہے۔
اسرائیلی سیاست اب بائیں یا دائیں تقسیم کے بجائے “نیتن یاہو کے حق یا مخالفت” پر منقسم ہے۔ وزیراعظم جانتے ہیں کہ اگر وہ اقتدار سے نکل گئے تو ان کا سیاسی مستقبل ختم ہوسکتا ہے، اور اکتوبر 7 کے واقعے میں اپنی ناکامیوں پر تحقیقات کے کٹہرے میں کھڑے ہوسکتے ہیں۔ وہ پہلے ہی کئی کرپشن مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جو نئی انتخابات کی صورت میں تیز رفتار ہوسکتے ہیں، جن کا انعقاد اکتوبر 2026 سے پہلے متوقع ہے۔
لیکن فائر بندی کے معاملے پر اسرائیلی حکومت کی ٹال مٹول کے باوجود، فرونا کا خیال ہے کہ غزہ پر حملے اپنی سابقہ شدت تک نہیں پہنچیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت خصوصاً بہت دباؤ ڈال رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ان کا منصوبہ – یعنی نام نہاد ‘امن بورڈ’، استحکام فورسز اور دیگر عناصر – کامیاب ہو۔
صورتحال شاید ‘زرد علاقے’ کے توسیع تک، اور وقتاً فوقتاً ٹارگٹڈ حملوں تک محدود رہے گی۔ یہ بتدریج بڑھ سکتی ہے، لیکن مکمل جنگ کی سطح تک نہیں پہنچے گی۔
لیکن فرونا کے مطابق، اس معلق حالت کا مطلب یہ ہے کہ غزہ کے لوگ “کبھی بھی حقیقی سکون” محسوس نہیں کر سکیں گے۔
یہی حالت 32 سالہ رَغدہ عبید کی ہے، جو چار بچوں کی ماں ہیں۔
وہ متعدد بار بے دخلی کے مراحل سے گزر چکی ہیں، اور غزہ سٹی کے شجاعیہ محلے میں ان کا گھر مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ اب انہیں سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ جنگ دوبارہ لوٹ آئے گی۔
اس وقت رَغدہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مغربی غزہ سٹی میں ایک خیمے میں رہ رہی ہیں۔ پچھلے ہفتے اسی علاقے میں اسرائیلی حملہ ہوا تھا۔
انہوں نے بتایا، آخری حملے کا لمحہ اتنا ہی خوفناک تھا جتنا جنگ کے پہلے دن تھا۔
“ہم نے دور سے دھواں دیکھا، لوگ بھاگ رہے تھے، چیخ رہے تھے، لاشیں اٹھا رہے تھے، جسم کے ٹکڑے سمیٹ رہے تھے۔”
انہوں نے افسردہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ میں خود بھی خوفزدہ تھی۔ میں بالغ ہوں، پھر بھی ڈر گئی۔ میں نے کہا کہ بس، جنگ واپس آگئی ہے اور اب ہماری باری ہے۔
غزہ کی بڑی آبادی کی طرح رَغدہ اور ان کا خاندان بھی امدادی اداروں کے رحم و کرم پر ہے، جو کھانا فراہم کرتے ہیں، جبکہ کام کے مواقع تقریباً ختم ہوچکے ہیں۔
سخت موسم کے باوجود وہ آئندہ مہینوں تک اسی خیمے میں رہنے پر مجبور ہوں گے۔
روزانہ رَغدہ اور ان کے شوہر کا کام یہ ہے کہ کسی طرح کھانا اور پانی ڈھونڈیں۔ ان کے بچے ایک کمیونٹی کچن سے دوسرے تک بھاگتے ہیں تاکہ ایک وقت کا کھانا مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم ہم سے کیا توقع کی جارہی ہے۔ دو سال سے زیادہ ہوچکے ہیں، اور ہم تیسرے سال میں داخل ہونے والے ہیں، اسی طرح بے گھر اور ٹوٹے ہوئے۔ کیا ہمارے لیے کوئی حل نہیں؟
“ہماری کوئی آمدنی نہیں۔ ہماری زندگی ہے ہی نہیں۔ ہم کمیونٹی کچن کے کھانے اور پانی پر زندہ ہیں۔ ہماری زندگی ایسی ہے جیسے جنگ ہو، لیکن اصل جنگ نہیں۔”

