جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانفوج نے افغان فضائی حملوں کے الزام کوبے بنیاد قرار دے دیا

فوج نے افغان فضائی حملوں کے الزام کوبے بنیاد قرار دے دیا
ف

(اسلام آباد(مشرق نامہ:

پاکستانی فوج نے منگل کے روز کابل کے اس الزام کو سختی سے مسترد کر دیا کہ پاکستان نے افغان سرزمین پر فضائی حملے کیے۔ فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان نہ تو خفیہ سرحد پار کارروائیاں کرتا ہے اور نہ ہی کبھی شہریوں کو نشانہ بناتا ہے۔

راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغان طالبان کے ان الزامات کو “بے بنیاد اور حقائق کے منافی” قرار دیا جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے خوست پر بمباری کی اور کنڑ اور پکتیکا میں حملے کیے۔

ان کا کہنا تھا:

“جب بھی ہم کوئی کارروائی کرتے ہیں، اسے کھل کر بتاتے ہیں۔ اکتوبر میں جب ہم نے افغانستان کے اندر کارروائی کی تھی، سب کو آگاہ کیا تھا۔”

انہوں نے کہا:

“پاکستان کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔ ہمارا مسئلہ افغان عوام سے نہیں، دہشت گردی سے ہے۔ خون اور تجارت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ ممکن نہیں کہ ہم پر حملے ہوں اور ہم معمول کے مطابق چلتے رہیں۔”

اس سے قبل افغان حکومت کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے تین افغان صوبوں میں فضائی حملے کیے جن میں شہری مارے گئے۔

ان الزامات اور جوابی بیانات کا تبادلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور طالبان حکومت کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروہوں، خصوصاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP)، کو لگام دینے میں کابل مکمل طور پر ناکام رہا ہے اور پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

سرحدی انتظام اور افغان دھمکیاں

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور مؤثر طریقے سے سرحد کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے دوحہ اور استنبول میں ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض افغان نمائندوں نے یہاں تک دھمکی دی تھی کہ “6000 ٹی ٹی پی دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل ہونے دیں گے”۔

انہوں نے افغان حکام اور شدت پسندوں پر پاکستان مخالف بیانیے پھیلانے کا الزام بھی لگایا، جن میں نام نہاد “گریٹر پشتونستان” کی باتیں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کے اعلیٰ حکام نے خود پاکستان پر حملوں کے ارادے کے بیانات دیے ہیں۔

امریکی ہتھیار بڑا خطرہ

لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد وہاں چھوڑے گئے امریکی ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا:

“امریکی ہتھیار میانوالی کے دہشت گرد حملے میں بھی برآمد ہوئے۔ یہ میزائل اور اسلحہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ شدت پسند امریکی ہتھیار اور بلٹ پروف گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں جو منشیات کی رقم سے خریدی گئی ہیں، اور یہی اسلحہ پاکستان میں 29 دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہوا۔

انسداد دہشت گردی کارروائیاں

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، جنوری سے اب تک 67 ہزار کارروائیاں کی گئی ہیں:

  • خیبرپختونخوا میں 1,387
  • بلوچستان میں 3,485

جبکہ بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ خطہ رہا، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی مسلسل کارروائیاں جاری رہیں۔

ان کارروائیوں کے نتیجے میں 210 دہشت گرد ہلاک ہوئے، تاہم پاکستان کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین