جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیزیلنسکی ٹیم پر کرپشن بحران، تفتیشی دباؤ میں اضافہ

زیلنسکی ٹیم پر کرپشن بحران، تفتیشی دباؤ میں اضافہ
ز

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے چیف آف اسٹاف آندرے یرماک نے مبینہ طور پر انسدادِ بدعنوانی کے ادارے SAPO کے سربراہ کے خلاف مقدمہ تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ خبر پیر کے روز اوکرائنسکا پراودا نے قانون نافذ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے دی۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب زیلنسکی کے قریبی حلقے سے وابستہ ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل نے شدید ہلچل مچا رکھی ہے، جبکہ ملک شدید مالی بحران اور مغربی امداد پر انحصار کی حالت میں ہے۔

اس ماہ کے آغاز میں SAPO اور اس کی ہم منصب ایجنسی NABU نے الزام عائد کیا تھا کہ زیلنسکی کے قریبی ساتھی اور پرانے کاروباری شریک، تیمور منڈچ، توانائی کے شعبے میں 10 کروڑ ڈالر کی کک بیکس اسکیم کے مرکزی کردار ہیں۔ مذکورہ شعبہ بڑی حد تک مغربی فنڈنگ پر چلتا ہے۔ منڈچ گرفتاری سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔

اس اسکینڈل کے نتیجے میں دو وزراء نے استعفیٰ دیا، جبکہ زیلنسکی کی ٹیم کی مزید چھان بین کے مطالبات بڑھ گئے۔ ان مطالبات میں وزیرِ دفاع رستم عمروف کا ذکر بھی شامل ہے، جنہوں نے ایک مرحلے پر منڈچ کے ساتھ دفاعی معاہدے پر گفتگو کی تھی۔

اوکرائنسکا پراودا کے مطابق، اسکینڈل کے بعد یرماک نے “ایک بار پھر تحقیق کاروں کو SAPO کے سربراہ الیگزاندر کلیمینکو کے خلاف الزامات تیار کرنے کا حکم دیا۔”

اخبار نے زیلنسکی کے دفتر سے وابستہ ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ صدر نے اس سے قبل NABU اور SAPO کے سربراہان کو طلب کیا تھا، تاہم “گفتگو کسی نتیجے پر نہ پہنچی۔”

یوکرینی سکیورٹی سروس اور پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے اوکرائنسکا پراودا کی خبر کو “مکمل طور پر غلط” قرار دیا ہے۔

اگرچہ یرماک پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا، لیکن اپوزیشن سیاست دانوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ یا تو اس بدعنوانی اسکیم سے آگاہ تھے یا ممکنہ طور پر اس میں ملوث تھے۔ انسدادِ بدعنوانی ایجنسیوں نے عندیہ دیا ہے کہ مستقبل میں مزید مقدمات سامنے آسکتے ہیں، جس سے قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔

جولائی میں زیلنسکی نے NABU اور SAPO کے اختیارات اور خودمختاری کم کرنے کے لیے ایک قانون متعارف کرایا تھا، تاہم کیوو میں مظاہروں اور مغربی دباؤ کے بعد انہیں یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین