جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ میں انسانیت سوز بحران شدید تر، اسرائیلی حملے جاری

غزہ میں انسانیت سوز بحران شدید تر، اسرائیلی حملے جاری
غ

غزہ (مشرق نامہ) – اسرائیلی جنگی طیاروں نے منگل کی صبح جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مشرق میں “یلو لائن” سے آگے ایک نیا فضائی حملہ کیا، جس کے ساتھ ساتھ شہر کے مشرقی علاقوں پر شدید توپ خانے کی گولہ باری بھی جاری رہی۔

یہ تازہ جارحیت ایک اعلان شدہ جنگ بندی کے دوران سامنے آئی ہے، جسے فلسطینی ذرائع جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

ایک سنگین انتباہ میں غزہ کی سول ڈیفنس نے اعلان کیا ہے کہ ایندھن کی شدید قلت کے باعث اس کی کارروائیاں مکمل طور پر بند ہونے کے قریب ہیں۔ ادارے نے کہا کہ فوری بین الاقوامی مداخلت کے بغیر اس کی زندگی بچانے والی کارروائیاں مفلوج ہو جائیں گی، جبکہ اسرائیلی حملوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے کے دوران ہزاروں زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔

تباہی کی منظم مہم

رات گئے اسرائیلی قابض فوج نے مشرقی غزہ شہر میں رہائشی عمارتوں کو منہدم کرنے کی کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی۔ مقامی ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق جاری کارروائیاں پورے محلّوں اور اہم سول ڈھانچے کو منظم اور دانستہ طور پر تباہ کرنے کی کوشش ہیں۔

اسی دوران رفح کے ساحل کے قریب اسرائیلی بحری جہازوں کی جانب سے شدید فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس سے محصور پٹی پر زمینی، فضائی اور بحری حملوں کے دائرے میں مزید توسیع ہو گئی ہے۔

الحدیث کے مطابق خان یونس کے مشرق میں بنی سہیلہ کے علاقے میں ایک فلسطینی شہری اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہوا۔

14 شہداء کی لاشیں برآمد

دوسری جانب سول ڈیفنس کی ٹیموں نے ہنگامی کمیٹیوں کے ساتھ مل کر المغازی پناہ گزین کیمپ کے قریب ایک گھر کے ملبے تلے سے 14 شہداء کی لاشیں نکالیں، جو گزشتہ فضائی حملے میں تباہ ہوا تھا۔

یہ نشانہ بنائی گئی عمارت ابو حمدہ خاندان کی ملکیت تین منزلہ رہائشی عمارت تھی جو مکمل طور پر زمین بوس ہو گئی۔ شہداء میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جنہیں ان کے خاندانوں نے شناخت کیا اور بعد ازاں انہیں الشہداء الاقصیٰ ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں تدفین سے قبل فرانزک عملہ شناخت کا باضابطہ عمل مکمل کرے گا۔

سول ڈیفنس حکام نے تصدیق کی کہ ایندھن، آلات اور حفاظتی ساز و سامان کی شدید کمی کے باوجود تلاش کا عمل جاری رہے گا۔

مسلسل بمباری، تباہ ہوتی شہری تنظیم، اور اعلان شدہ جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے باعث غزہ میں انسانی بحران تیزی سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ سول سوسائٹی ادارے اور طبی مراکز عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ جارحیت روکی جائے اور مزید شہری جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

جرمن تحقیق: غزہ میں اموات کی تعداد 100,000 سے تجاوز کر گئی

ایک معروف جرمن ڈیموگرافک ادارے کی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ غزہ پر “اسرائیل” کی جنگ میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی حقیقی تعداد اب تک کے سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

میکس پلانک انسٹیٹیوٹ فار ڈیموگرافک ریسرچ کے محققین نے ڈی سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اندازہ لگایا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

پراجیکٹ کی شریک سربراہ ایرینا چن نے کہا کہ “ہم کبھی بھی درست تعداد نہیں جان سکیں گے۔ ہماری کوشش صرف اس ہلاکت خیزی کے حجم کا زیادہ سے زیادہ درست اندازہ فراہم کرنا ہے۔”
تحقیق کے مطابق دو سالہ جنگ کے دوران اموات کی تعداد 99,997 سے 125,915 کے درمیان ہو سکتی ہے، جبکہ اوسط تخمینہ 112,069 ہے—جو پہلے تسلیم شدہ اعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

محققین نے مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کیں، جن میں غزہ کی وزارتِ صحت، آزادانہ گھریلو سروے، اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی موت کی رپورٹس شامل ہیں۔ اب تک وزارتِ صحت کا 67,173 اموات کا ہندسہ ہی واحد باضابطہ شمار تھا۔

غیر درج شدہ اموات کی بڑی تعداد

ڈی سائٹ کے مطابق اگرچہ ڈیٹا میں ردوبدل کا کوئی ثبوت نہیں ملا، رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بڑے پیمانے پر اموات سرکاری طور پر درج ہی نہیں ہو سکیں—کیونکہ غزہ کا نظامِ صحت تباہی کے دہانے پر ہے۔

وزارتِ صحت روایتی طور پر صرف تصدیق شدہ اموات رپورٹ کرتی ہے، جو ہسپتالوں کی دستاویزات کی بنیاد پر جاری ہوتی ہیں۔ لیکن بہت سے طبی مراکز کے تباہ یا بند ہو جانے کے بعد حکام بڑی حد تک لواحقین کی طرف سے جمع کرائی گئی اطلاعات پر انحصار کر رہے ہیں، جنہیں ایک خصوصی کمیٹی جانچتی ہے۔

جبکہ متعدد شہداء جو ملبے کے نیچے دفن ہو جاتے ہیں، وہ ریکارڈ میں شامل ہی نہیں ہو پاتے۔

تحقیق میں عمر اور جنس کے مطابق اموات کا جائزہ بھی لیا گیا، جس سے پتہ چلا کہ شہداء میں 15 سال سے کم عمر بچوں کی شرح تقریباً 27 فیصد ہے، جبکہ خواتین تقریباً 24 فیصد ہیں۔

رپورٹ کے مطابق غزہ میں اوسط عمر میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے۔ جنگ سے قبل خواتین کی اوسط عمر 77 برس اور مردوں کی 74 برس تھی۔ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو 2024 میں یہ گرتے گرتے خواتین کے لیے 46 اور مردوں کے لیے 36 تک پہنچ سکتی ہے—جو خوفناک آبادیاتی تباہی ہے۔

غزہ میں بدترین حالات: UNRWA کی تنبیہ

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے UNRWA نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے دوران غزہ کے بچوں پر بڑھتا ہوا انسانی بوجھ انتہائی سنگین ہو چکا ہے، جبکہ محفوظ پانی، تعلیم اور نفسیاتی مدد تک رسائی شدید حد تک محدود ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں UNRWA نے کہا کہ علاقے بھر میں بچے “شدید مشکلات کے درمیان مدد کے طلبگار ہیں”، جن میں بہت سے بچے صدمے اور روزمرہ زندگی کے بکھر جانے کا شکار ہیں۔ ادارے کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 3 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ نفسیاتی معاونت سیشن کیے جا چکے ہیں۔

UNRWA نے واضح کیا کہ محفوظ پینے کے پانی تک رسائی غزہ کے لیے بدستور سب سے سنگین مسئلہ ہے۔ متعدد خاندان، جن میں بچے بھی شامل ہیں، روزانہ طویل فاصلے طے کر کے محض تھوڑی مقدار میں پانی حاصل کر پاتے ہیں، جو زندہ رہنے کے لیے ناکافی ہے۔

وسیع عملی مشکلات کے باوجود UNRWA اب بھی پانی کے کنویں چلا رہا ہے اور ہنگامی سپلائیز پہنچا رہا ہے، اور اس وقت غزہ شہر اور شمالی غزہ میں فراہم کیے جانے والے پانی کا تقریباً ایک تہائی ادارہ ہی فراہم کر رہا ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے کئی بار خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ کا پانی، صحت اور صفائی کا نظام مکمل انہدام کے دہانے پر ہے، جس سے لاکھوں باشندے—خصوصاً بچے—بیماری، غذائی قلت اور شدید نفسیاتی صدمات کے بڑھتے خطرات سے دوچار ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین