مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – وینیزویلا کے وزیرِ خارجہ ایوان خیل نے اسرائیلی وزیرِ خارجہ جدعون سار کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں “جنگی مجرم” اور “نسل کشی کرنے والا” قرار دیا ہے، جو بالآخر بین الاقوامی انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں گے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سار نے پیراگوئے کی ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز اور سینیٹ سے خطاب میں یہ دعویٰ کیا کہ وینیزویلا خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے، مہاجرین کے بحران کو بڑھا رہا ہے، اور حزب اللہ، حماس اور یمن کے ساتھ رابطے کا مرکز ہے۔
خیل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وینیزویلا کا نام تم جیسے شخص کے گندے منہ اور معصوموں کے خون سے رنگے ہاتھوں کے لیے بہت بڑا ہے۔ ہم اپنی خودمختاری کے لیے جدوجہد کرنے والی قوم ہیں جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کا دفاع کرتی ہے۔ تم اس کے برعکس ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ وینیزویلا کو سار کی اشتعال انگیزی سے کوئی پریشانی نہیں، اور یہ کہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ جلد یا بدیر تمہیں بین الاقوامی انصاف کا سامنا کرنا ہوگا۔
جدعون سار اس وقت پیراگوئے کے اپنے پہلے سرکاری دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے صدر سانتیاگو پینا، وزیرِ خارجہ روبن رامیرز، اور کاروباری رہنماؤں کے وفد سے ملاقاتیں کیں۔ ان کا اگلا دورہ ارجنٹینا کا ہوگا۔
وینیزویلا نے مسلسل اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور غزہ اور خطے میں وسیع تر اسرائیلی اقدامات کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے، ان کے ذمہ داران کے خلاف بین الاقوامی سطح پر مقدمات چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
فلسطین کی ’مقدس جدوجہد‘ سے دستبرداری نہیں ہوگی: مادورو
فلسطین کے یومِ آزادی (15 نومبر) کے موقع پر وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو نے کہا کہ فلسطینی قوم کو زندگی، امن اور ایک آزاد ریاست کے قیام کا ناقابل تردید حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ بندیوں کے باوجود حقیقی امن انصاف کے بغیر ممکن نہیں۔
“ہم اصل امن تب ہی حاصل کریں گے جب ان جرائم اور نسل کشی کا حساب لیا جائے گا۔ تب ہی ہم تباہی اور ملبے سے ابھرنے کا عمل شروع کر سکیں گے۔”
مادورو نے عالمی رائے عامہ کو متحرک کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اس “قتلِ عام کے بعد ہونے والے معاہدوں کے مستقل چکر” کو ختم کرنا ہوگا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وینیزویلا غزہ کی تعمیرِ نو میں عملی کردار ادا کرے گا اور ہر حال میں فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
جب فلسطین مکمل آزادی حاصل کرے گا تو یہ دنیا کے لیے وقار اور فخر کا تاریخی لمحہ ہوگا۔

