جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانآئی ایم ایف کا انتباہ: بدعنوانی پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچاتی...

آئی ایم ایف کا انتباہ: بدعنوانی پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچاتی رہی ہے
آ

مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ (GCDA) نے خبردار کیا ہے کہ بدعنوانی اور کمزور ادارے پاکستان کی معاشی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، حالانکہ ملک نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے تحت معاشی استحکام کی طرف پیش رفت کی ہے۔

یہ رپورٹ شائع کرنا ضروری ہے تاکہ آئی ایم ایف کا بورڈ اگلے ماہ 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دے سکے۔

خلاصے کے مطابق یہ جائزہ جنوری 2025 میں حکومت کی درخواست پر شروع ہوا۔ آئی ایم ایف کی ٹیم نے ورلڈ بینک کے ماہرین کے ساتھ مل کر آٹھ ماہ کام کیا اور دو فیلڈ مشنز کے دوران گورننس کے مسائل، کرپشن کے خطرات اور اصلاحات کے ضروری شعبوں کی نشاندہی کی۔

رپورٹ نے پانچ بڑے شعبوں میں گورننس کے فقدان پر توجہ دی ہے:
• مالیاتی گورننس (بجٹ سازی، سرکاری مالیات، خریداری، سرکاری اثاثے، ٹیکس)
• مارکیٹ ریگولیشن
• مالیاتی شعبے کی نگرانی
• منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام (AML/CFT)
• قانون کی حکمرانی، بشمول معاہدوں پر عمل درآمد، جائیداد کے حقوق اور عدلیہ کی شفافیت

اس میں پاکستان کے قانونی و تنظیمی نظام کا بھی جائزہ لیا گیا ہے جو بدعنوانی کے خلاف کام کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے واضح کیا کہ یہ مطالعہ صرف وفاقی سطح کی گورننس پر مبنی ہے، صوبائی معاملات شامل نہیں۔ نتائج اپریل 2025 سے پہلے جمع شدہ معلومات پر مبنی ہیں۔

معیشت مستحکم ہو رہی ہے، مگر مسائل برقرار

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے EFF کے تحت “نمایاں پیش رفت” کی ہے۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:
• مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں 2.0% بنیادی سرپلس
• اپریل میں مہنگائی 0.3% تک گر گئی
• زرمبادلہ کے ذخائر 9.4 ارب ڈالر (اگست 2024) سے بڑھ کر 10.3 ارب ڈالر (اپریل 2025) ہوگئے، جون 2025 تک 13.9 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع

تاہم آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ معاشی ڈھانچے کی گہری خامیاں اب بھی موجود ہیں۔ پاکستان کے رہنے والوں کے معیارِ زندگی میں خطے کے دیگر ممالک کی طرح اضافہ نہیں ہوسکا کیونکہ سرمایہ کاری کم ہے، ریاستی مداخلت زیادہ ہے، مالیاتی نظام کمزور ہے اور بار بار معاشی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔

آئی ایم ایف کی نشاندہی: پاکستان میں بڑے کرپشن خطرات

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بدعنوانی اب بھی سنگین مسئلہ ہے اور معاشی ترقی کو نقصان پہنچاتی ہے۔ شہریوں کو اکثر بنیادی خدمات کے حصول کے لیے غیر رسمی ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں، جبکہ ترقی کے لیے استعمال ہونے والی بڑی رقم ضائع ہو جاتی ہے۔

رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ “بااثر ادارے” — بشمول وہ جو ریاستی اداروں سے منسلک ہیں — اہم معاشی شعبوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سیاسی و معاشی اشرافیہ اکثر پالیسیاں اپنے فائدے کے لیے بناتی ہے۔ مثال کے طور پر 2019 میں پی ٹی آئی حکومت کے دوران چینی برآمد کرنے کا فیصلہ بطور مثال پیش کیا گیا۔

مزید نشاندہی کی گئی:
• کمزور بجٹ سازی، غیر مستقل اخراجات، اور شفافیت کی کمی
• پیچیدہ ٹیکس نظام جو کرپشن کی گنجائش بڑھاتا ہے
• متعدد ریگولیٹرز کے باعث الجھن اور اوورلیپنگ قواعد
• کاروباری ریگولیشن میں کمزور احتساب
• عدالتی تاخیر، پرانے قوانین، اور عدلیہ کی آزادی سے متعلق خدشات

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے انسدادِ بدعنوانی ادارے اور احتسابی نظام اکثر غیر مؤثر ہیں یا آزادانہ کام نہیں کر پاتے۔ اگرچہ پاکستان نے AML/CFT اصلاحات میں کامیابی حاصل کی اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل گیا، مگر منی لانڈرنگ کے خلاف سزاؤں اور فیصلوں کی رفتار اب بھی سست ہے۔

اصلاحاتی منصوبہ اور ممکنہ معاشی فوائد

رپورٹ میں تفصیلی اصلاحاتی روڈمیپ دیا گیا ہے، جس میں قلیل مدتی اور طویل مدتی اقدامات شامل ہیں۔ اہم سفارشات:
• سرکاری ٹھیکوں میں خصوصی مراعات ختم کرنا
• تمام سرکاری خریداری کو 12 ماہ میں ای-گورننس پر منتقل کرنا
• پارلیمانی نگرانی مضبوط کرنا
• پالیسی سازی اور مالیاتی معلومات میں زیادہ شفافیت
• انسدادِ بدعنوانی اداروں میں مؤثر نفاذ
• AML/CFT کے بہتر استعمال

آئی ایم ایف کے مطابق گورننس، احتساب اور شفافیت میں بہتری پاکستان کی معیشت کے لیے نمایاں فائدے لا سکتی ہے۔

رپورٹ مثبت مثالیں بھی بیان کرتی ہے، جیسے:
• مرکزی بینک کی خودمختاری میں اضافہ
• پرانے اور غیر ضروری ضوابط ختم کرکے کاروباری ماحول بہتر کرنا
• نادرا کے ڈیجیٹل آئی ڈی اور بائیومیٹرک سسٹم کا پھیلاؤ

آئی ایم ایف کے تجزیے کے مطابق اگر پاکستان گورننس اور انسدادِ بدعنوانی کی بڑی اصلاحات نافذ کرے، تو آئندہ پانچ سال میں اقتصادی شرحِ نمو 5% سے 6.5% تک بڑھ سکتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین