کاراکاس (مشرق نامہ) – وینیزویلا نے خبردار کیا ہے کہ سینئر امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن صدر نکولس مادورو کی حکومت کے خلاف کارروائیوں کے ایک نئے مرحلے کی تیاری کر رہا ہے۔
رائٹرز سے بات کرنے والے امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ وینیزویلا کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے خفیہ اقدامات اور عسکری تیاریوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ایجنسی نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ واشنگٹن ان اقدامات کو نام نہاد ’’انسدادِ منشیات مشن‘‘ سے جوڑ رہا ہے۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی محکمے کی جانب سے طیارہ بردار بحری جہازوں، جوہری آبدوزوں اور ایف-35 جنگی طیاروں کی تعیناتی منشیات کی روک تھام کی کسی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔
دو امریکی حکام نے اعتراف کیا کہ خفیہ کارروائیاں واشنگٹن کی نئی مہم کا ابتدائی مرحلہ ہوں گی۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ زیرِ غور آپشنز میں صدر مادورو کا براہ راست تختہ الٹنے کی کارروائی بھی شامل ہے، جو ان دہائیوں پر مبنی امریکی کوششوں کی بازگشت ہے جن کے ذریعے واشنگٹن نے ایسے آزاد مزاج لاطینی امریکی رہنماؤں کو ہٹانے کی کوشش کی جو اس کی سیاسی و معاشی ڈکٹیشن قبول نہیں کرتے۔
سی آئی اے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جب کہ وائٹ ہاؤس نے کسی امکان کو خارج نہیں کیا۔
ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا کہ صدر ٹرمپ امریکی طاقت کے ہر عنصر کے استعمال کے لیے تیار ہیں۔ وینیزویلا کے ماہرین کے مطابق یہ جملہ ہائبرڈ وارفیئر میں اضافے کا کوڈ ہے، جس میں پابندیاں، پروپیگنڈا، خفیہ کارروائیاں اور عسکری دباؤ شامل ہوتے ہیں۔
کاراکاس کے مطابق یہ پیشرفت اس کے دیرینہ خدشات کی تصدیق کرتی ہے کہ امریکہ نے کبھی وینیزویلا کی خودمختاری یا واشنگٹن کے اثر سے آزاد ترقی کے حق کو تسلیم نہیں کیا۔
مادورو، جو اتوار کو 63 برس کے ہو جائیں گے، بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ واشنگٹن کاراکاس میں ایک غیر منتخب حکومت مسلط کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وینیزویلا کے عوام، مسلح افواج اور ریاست کسی بھی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کریں گے اور اپنے وطن کا دفاع کریں گے۔
صدر نے اپنی حکومت پر منشیات کی اسمگلنگ کے امریکی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں جارحیت کے لیے سیاسی بہانہ قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی منشیات نگرانی کے مطالعات مسلسل ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ پہنچنے والی غیر قانونی منشیات کی بھاری اکثریت واشنگٹن کے اتحادی ممالک کے راستے آتی ہے، نہ کہ وینیزویلا سے۔
وینیزویلا کے اردگرد امریکی عسکری موجودگی میں گزشتہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز اسٹرائیک گروپ 16 نومبر کو خطے میں پہنچا، جس نے سات جنگی بحری جہازوں، ایک جوہری آبدوز اور جدید جنگی طیاروں کے ساتھ موجود امریکی تعیناتی میں مزید اضافہ کر دیا۔
امریکی فورسز اب تک 21 مہلک حملے اُن جہازوں پر کر چکی ہیں جن کے متعلق واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ وہ منشیات لے جا رہے تھے۔ انسانی حقوق کے گروہوں نے ان ہلاکتوں کو کھلے سمندر میں لوگوں کی ماورائے عدالت قتل قرار دیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 83 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں، جنہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہیں۔
دوسری جانب، عالمی ایئرلائنز نے امریکی حفاظتی انتباہ کے بعد وینیزویلا کی فضائی حدود سے پروازیں منسوخ کر دیں۔
متعدد امریکی اتحادیوں نے نجی طور پر تشویش ظاہر کی ہے کہ واشنگٹن کے اقدامات کیریبیئن خطے کو غیر مستحکم کر سکتے ہیں اور خودمختار ممالک کے خلاف یکطرفہ عسکری کارروائیوں کی خطرناک نظیر قائم کر سکتے ہیں۔
وینیزویلا کی ‘طویل مزاحمت’ کی تیاری
فوجی اعتبار سے کہیں زیادہ طاقتور مخالف کے سامنا میں، وینیزویلا کے دفاعی منصوبہ ساز امریکی حملے کی صورت میں قومی دفاع کی حکمتِ عملیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اندرونی مشاورتی اجلاسوں میں غیر مرکزیت پر مبنی حربوں اور ’’طویل مزاحمت‘‘ کی اسٹریٹجی پر غور کیا گیا ہے، جس کے تحت ملک کے 280 سے زائد مقامات پر چھوٹے فوجی یونٹس کو متحرک کر کے دفاعی کارروائیاں اور ممکنہ حملہ آوروں کے خلاف تخریبی اقدامات کیے جائیں گے۔
وینیزویلا کے حکام کہتے ہیں کہ یہ غیر متوازن جنگی طریقۂ کار اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا، بالکل اسی طرح جیسے کیوبا، نکاراگوا اور دیگر ممالک نے ماضی میں امریکی کوششوں کے خلاف کیا، جن کا مقصد خطے کی آزاد حکومتوں کے سیاسی فریم ورک کو زبردستی تبدیل کرنا تھا۔
اگرچہ کشیدہ بیانات میں اضافہ جاری ہے، دو امریکی حکام نے اعتراف کیا کہ دونوں حکومتوں کے درمیان بات چیت اب بھی جاری ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ سفارتی چینلز واشنگٹن کے ٹائم لائن کو تبدیل کر سکیں گے یا امریکہ نے پہلے ہی اپنے اگلے دباؤ کے مرحلے پر آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

