جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیچین-جنوبی افریقہ تعاون کو مزید گہرا کرنیکا اعلان

چین-جنوبی افریقہ تعاون کو مزید گہرا کرنیکا اعلان
چ

بیجنگ (مشرق نامہ) – چینی وزیرِ اعظم لی چھیانگ نے کہا ہے کہ چین جنوبی افریقہ کے ساتھ باہمی اعتماد کو مضبوط بنانے، ایک دوسرے کی مضبوطی سے حمایت کرنے اور دوطرفہ مفاد پر مبنی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ یہ بیان انہوں نے ہفتے اور اتوار کو منعقدہ جی 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر جنوبی افریقہ کے نائب صدر پال ماشاتیلے سے ملاقات کے دوران دیا۔

لی نے کہا کہ چین اور جنوبی افریقہ دیرینہ دوست اور بھائی ہیں جن کے درمیان گہری رفاقت موجود ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال ستمبر میں صدر شی جن پنگ اور جنوبی افریقہ کے صدر سیرل راما فوزا کی بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے پر اہم اتفاق رائے قائم ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ چین دونوں رہنماؤں کی اسٹریٹجک رہنمائی کے تحت سیاسی اعتماد میں اضافہ کرنے، ایک دوسرے کی مضبوطی سے پشت پناہی کرنے اور ہر شعبے میں اسٹریٹجک شراکت داری کے مزید نتائج حاصل کرنے کے لیے تیار ہے۔

چینی وزیرِ اعظم کے مطابق چین جنوبی افریقہ کے ساتھ تجارتی ہم آہنگی کو مزید بڑھانے اور نئے اقتصادی شراکت داری معاہدے کے ذریعے جنوبی افریقہ کی اعلیٰ معیار کی مصنوعات کو چینی منڈی تک رسائی دینے میں مدد کرے گا۔ اس کے علاوہ، افریقی ممالک کے لیے تمام ٹیرف لائنوں پر چینی زیرو ٹیرف پالیسی کا جنوبی افریقہ میں جلد نفاذ بھی تعاون کو تقویت دے گا۔

لی چھیانگ نے کہا کہ چین اپنی مسابقتی کمپنیوں کو جنوبی افریقہ میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرتا رہے گا، اور نئی توانائی، آٹوموبائل، صحت، ڈیجیٹل معیشت اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کی جدید ترقی کو بہتر طور پر سہارا دیا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنوبی افریقہ چینی کمپنیوں اور ان کے عملے کے قانونی حقوق و مفادات کا بہتر تحفظ کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین اور جنوبی افریقہ کے تعلقات چین اور افریقہ کے درمیان وسیع تعاون کے لیے ایک عملی نمونہ ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ چین فورم آن چائنا-افریقہ کوآپریشن (FOCAC) سمیت متعلقہ پلیٹ فارمز کے ذریعے رابطہ مضبوط رکھے گا اور بیجنگ سربراہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھے گا، تاکہ افریقہ اور چین کے لیے ترقی اور خوشحالی کا نیا دور قائم کیا جا سکے۔

انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی جنوب کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کثیرالجہتی تعاون بڑھائیں اور زیادہ منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل کے لیے سرگرم کردار ادا کریں۔

دوسری جانب نائب صدر ماشاتیلے نے چین کی جانب سے جی 20 اجلاس کی میزبانی میں جنوبی افریقہ کی بھرپور حمایت پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ پالیسی آف ون چائنا پر مضبوطی سے کاربند ہے اور چین کی جانب سے افریقی ممالک کے لیے زیرو ٹیرف پالیسی کو دوطرفہ تعاون بڑھانے کے ایک بہترین موقع کے طور پر دیکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ معیشت، تجارت، صنعت، زراعت، ڈیجیٹل معیشت اور ماحول دوست ترقی کے شعبوں میں چین کے ساتھ روابط مزید مضبوط کرنے اور عوامی سطح کے تبادلوں کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیاں جنوبی افریقہ میں سرمایہ کاری کے لیے خوش آمدید ہیں اور حکومت ان کی سلامتی اور کاروباری ماحول کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

ماشاطیلے نے صدر شی جن پنگ کے مجوزہ چار عالمی اقدامات کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی افریقہ چین کے ساتھ مل کر کثیرالجہتی تعاون اور رابطہ کاری کو بڑھانے، اقوام متحدہ کے کردار کے تحفظ اور عالمی جنوب کی ترقی و خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنا چاہتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین