جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیلی حملے جنگی جرائم، فائر بندی اور عالمی قانون کی سنگین خلاف...

اسرائیلی حملے جنگی جرائم، فائر بندی اور عالمی قانون کی سنگین خلاف ورزی
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ انسانی حقوق ماہر نے لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ کارروائیاں غیر قانونی تشدد کے ایک منظم سلسلے کی نمائندگی کرتی ہیں۔

غیر قانونی اور ماورائے عدالت قتل کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے موریس ٹڈبال بنز نے اسرائیلی جارحیت کی حالیہ کارروائیوں پر سخت تنقید کی، جن میں 18 نومبر 2025 کو صیدا کے عین الحلوہ فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر ڈرون حملہ بھی شامل ہے۔ اس حملے میں کم از کم 14 افراد شہید ہوئے، جن میں 12 بچے بھی شامل تھے۔
یہ نومبر 2024 کی فائر بندی کے بعد سب سے مہلک حملہ قرار دیا گیا۔

ٹڈبال بنز کے مطابق یہ واقعہ ’’منفرد نہیں بلکہ اسرائیل کی جانب سے آباد علاقوں میں مہلک کارروائیوں کے خطرناک تسلسل‘‘ کا حصہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بار بار شہری آبادی اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا جنگی جرائم اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔

نومبر 2024 کی فائر بندی کے بعد سے لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 331 افراد شہید اور کم از کم 945 زخمی ہو چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ بندی کے باوجود تشدد جاری ہے۔

اقوامِ متحدہ کے امن اہلکار بھی نشانے پر

ماہر نے نشاندہی کی کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں تقریباً روزانہ ڈرون اور فضائی حملے کر رہا ہے، جو ’’غیر قانونی قتل‘‘ کے ایک وسیع تر سلسلے اور جنگ بندی کی واضح خلاف ورزیوں کا حصہ ہیں۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کی امن فوج (یونیفِل) کے اہلکاروں کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات پر بھی شدید تشویش ظاہر کی۔
16 نومبر کو ایک اسرائیلی مرکاوا ٹینک نے لبنانی حدود کے اندر ایک یونیفِل گشت کے قریب گولے داغے تھے۔ 26 اکتوبر کو بھی اسرائیلی ڈرون نے کفرا کیلا کے نزدیک امن فوج کے قریب دستی بم گرایا جس کے فوراً بعد ٹینک نے گولہ باری کی۔

ٹڈبال بنز کے مطابق اقوامِ متحدہ کے عملے کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگی جرم ہے۔

احتساب اور عالمی اقدام کی ضرورت

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل لبنان کے پانچ علاقوں اور دو نام نہاد ’’بفر زونز‘‘ پر قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے شہری اپنے گھروں کو لوٹنے سے محروم ہیں۔ یہ سرگرمیاں لبنان کی خودمختاری اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی براہِ راست خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بار بار حملے لبنان کی فائر بندی پر عمل درآمد کی صلاحیت کو شدید متاثر کر رہے ہیں اور عوام کے لیے امن و انصاف کی بحالی کو مشکل بنا رہے ہیں۔

ٹڈبال بنز نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل لبنان میں تمام عسکری کارروائیاں بند کرے، بین الاقوامی ذمہ داریوں، انسانی قانون اور فائر بندی کی شرائط کی مکمل پابندی کرے، اور نومبر 2024 کے بعد ہونے والی تمام غیر قانونی ہلاکتوں کی آزاد اور جامع تحقیقات کرائے۔ ان تحقیقات کے لیے ’’منی سوٹا پروٹوکول‘‘ کے عالمی معیارات اپنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جن افراد نے غیر قانونی حملوں کی منصوبہ بندی، حکم یا عمل درآمد کیا، انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔ متاثرین اور اُن کے اہل خانہ ’’سچ، ذمہ داری اور مکمل ازالے‘‘ کے حق دار ہیں۔

یونیفِل کے مطابق 20 نومبر 2025 تک فائر بندی کے بعد بلیو لائن کے شمال میں اسرائیل کی 7,500 سے زائد فضائی اور 2,500 زمینی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جن تمام رپورٹس کو سلامتی کونسل تک پہنچا دیا گیا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین