واشنگٹن(مشرق نامہ): امریکی ایکسپورٹ امپورٹ (ایگزم) بینک کے سربراہ نے کہا ہے کہ ادارہ پاکستان کی ریکو ڈک کان کے لیے بیرک مائننگ کو 1.25 ارب ڈالر کا قرض فراہم کرے گا۔ یہ قرض اس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت امریکہ اہم معدنیات، جوہری توانائی اور قدرتی گیس کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
بینک کے چیئرمین جان یووانووِچ نے فنانشل ٹائمز کو اتوار کے روز ایک انٹرویوز میں بتایا کہ پہلے مرحلے میں پاکستان، مصر اور یورپ کے منصوبے شامل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ممالک ان سپلائز پر حد سے زیادہ انحصار کرتے رہے ہیں جو اب “منصفانہ نہیں رہیں”۔
انہوں نے کہا:
“ہم جو بھی کرنا چاہتے ہیں، وہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بنیادی اہم خام مال کی سپلائی چین محفوظ، مستحکم اور مؤثر طریقے سے کام نہ کرے۔”
یووانووِچ نے ایف ٹی کو بتایا کہ بینک کے پاس کانگریس کی جانب سے منظور شدہ 135 ارب ڈالر میں سے 100 ارب ڈالر ابھی بھی استعمال کے لیے باقی ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی سودوں میں نیویارک کی کموڈٹیز فرم ہارٹری پارٹنرز کی جانب سے مصر کو فراہم کی جانے والی 4 ارب ڈالر مالیت کی قدرتی گیس کے لیے کریڈٹ انشورنس گارنٹی بھی شامل ہوگی۔
ایگزم بینک نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

