اسلام آباد(مشرق نامہ): انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں داخلی آڈٹ میکانزم کی عدم موجودگی اور کمزور آئینی و پارلیمانی آڈٹ نگرانی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ خلا وفاقی سطح پر تقریباً 40 کھرب روپے اور صوبوں میں اس سے بھی زیادہ عوامی فنڈز کے لیے بڑے فِڈیوشری (امانت دارانہ) خطرات پیدا کر رہے ہیں۔
آئی ایم ایف نے ٹیکس دہندگان کے پیسے کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے آڈیٹر جنرل (AGP) کے ایک مکمل طور پر آزاد دفتر کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔
گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسس اسیسمنٹ (GCDA) میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے داخلی مالیاتی کنٹرولز، داخلی و بیرونی آڈٹ سسٹمز اور آئینی خود مختاری کے باوجود ایگزیکٹو کے سامنے عملی طور پر AGP کی تابعداری سمیت متعدد کمزوریاں شناخت کی ہیں۔ اسی طرح پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کی ناکافی صلاحیت اور کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
یہ صورتحال حیران کن نہیں کہ مالی بے ضابطگیوں، بدعنوانی اور خردبرد کے کھربوں روپے کے کیسز ہر سال سامنے آتے رہتے ہیں۔
فنڈ نے کہا کہ ایک مؤثر داخلی کنٹرول نظام عوامی وسائل کے استعمال سے متعلق درست فیصلوں کے لیے ماحول مہیا کرتا ہے، جس میں ذمہ داری کا واضح تعین، انتظامی ڈھانچوں اور اعلیٰ آڈٹ اداروں و قانون ساز اداروں کی بیرونی نگرانی شامل ہے۔
فنڈ کے مطابق داخلی اور بیرونی دونوں طرح کے آڈٹ ادارہ جاتی کام اور مالیاتی رپورٹنگ کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں، جو کرپشن کے خطرات کم کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں یہ دونوں پہلو کمزور ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں داخلی آڈٹ کا نظام کمزور ہے۔ پبلک فنانس مینجمنٹ (PFM) ایکٹ 2019 کے تحت ہر ڈویژن میں چیف انٹرنل آڈیٹر (CIA) کی تقرری ضروری تھی، مگر آج تک عمل درآمد نہیں ہوا۔
آئی ایم ایف نے بتایا کہ 25 چیف فنانس اینڈ اکاؤنٹس آفیسرز (CFAOs) وزارتوں میں کام کر رہے ہیں، لیکن بہت سی وزارتوں اور ڈویژنز میں CIA تعینات ہی نہیں کیے گئے، جبکہ 15 وزارتوں و ڈویژنز میں CFAO بھی موجود نہیں۔ یوں چھ سال بعد بھی PFM ایکٹ کا مکمل نفاذ ایک خواب ہے۔
مزید کہا گیا کہ جہاں CFAO موجود بھی ہیں، وہاں داخلی آڈٹ رپورٹس پر دلچسپی، تسلسل اور فالو اپ نہ ہونے کے برابر ہے۔ آئی ایم ایف نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آڈیٹر جنرل کا دفتر وفاقی سیکرٹریٹ کے ساتھ منسلک ادارے کے طور پر کیوں کام کر رہا ہے، جبکہ یہ انتظامی وابستگی AGP کی مکمل آزادی میں رکاوٹ ہے۔
آئین کے آرٹیکل 171 اور پاکستان آڈٹ آرڈیننس 2001 کے تحت AGP کو وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے محکموں کے اکاؤنٹس کی تصدیق اور رپورٹس صدر اور گورنرز کو پیش کرنا ہوتی ہیں۔
مگر چونکہ AGP وفاقی سیکرٹریٹ کے تحت منسلک ادارہ ہے، اس لیے وہ براہِ راست پارلیمنٹ کو رپورٹ نہیں کرتا بلکہ وزیر اعظم، صدر اور سیکرٹریٹ کے ذریعے کرتا ہے، جو اس کی آزادی اور معروضیت کو متاثر کرتا ہے۔
مزید یہ کہ OAG کو بھرتیوں کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے منظوری لینا پڑتی ہے۔ آڈیٹر جنرل کے دفتر نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ عملے کی شدید کمی ہے — 1,500 اسامیوں کا فقدان — جس کی وجہ حکومتی مالیاتی پابندیاں ہیں۔
اگرچہ آڈیٹر جنرل کا بجٹ charged expenditure ہونے کے باعث پارلیمانی ووٹنگ سے مستثنیٰ ہے، تاہم اس کے باوجود اسے بجٹ اجرا کے قواعد کی پابندی کرنا پڑتی ہے، اور فنڈز کی فراہمی فنانس ڈویژن کے رحم و کرم پر رہتی ہے۔ اس انحصار کی وجہ سے OAG کی عملی آزادی مزید محدود ہوتی ہے۔
آڈٹ رپورٹس کے غیر معمولی حجم اور پی اے سی کی تاخیر زدہ کارروائی نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔ ہر سال 6,000 سے زائد رپورٹس تیار ہوتی ہیں، مگر PAC اور وزارتوں کی جانب سے فالو اپ نہ ہونے کے برابر ہے۔ نتیجتاً 34,000 سفارشات میں سے 75 فیصد PAC میں زیرِ بحث لائے ہی نہیں گئے۔
رپورٹس حد سے زیادہ طویل ہیں — بعض ہزاروں صفحات پر مشتمل — کیونکہ سالہا سال کی بے ضابطگیاں حل نہ ہونے کے باعث بار بار دہرائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر وفاقی حکومت کی کمپلائنس آڈٹ رپورٹ 2023-24 چار ہزار صفحات کی ہے۔ مزید برآں، آڈٹ سفارشات پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے کوئی سسٹم موجود نہیں، جس سے آڈٹ عمل کی مؤثریت مزید کم ہو جاتی ہے۔
آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ ایک ایسا نظام بنایا جائے جو حکومتی اداروں کو آڈٹ سفارشات اور PAC ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں جواب دہ ٹھہرا سکے۔ اس مقصد کے لیے PAC رولز اور AGP ایکٹ میں ترمیم تجویز کی گئی ہے۔
آگے بڑھتے ہوئے، آئی ایم ایف نے ہدایت کی کہ آڈٹ رپورٹس کو مختصر اور مؤثر بنایا جائے، اہم ترین مسائل پر واضح اور جامع سفارشات دی جائیں، اور نتائج کو ترجیح و سنگینی کے مطابق مرتب کیا جائے — مثلاً ٹریفک لائٹ سسٹم کے ذریعے۔
مزید یہ کہ پارلیمانی نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے PAC کو آڈٹ رپورٹس کا بروقت جائزہ لینے کا پابند کیا جائے، اور ایک مرکزی سیکرٹریٹ کے ذریعے عملدرآمد کی مؤثر ٹریکنگ کا نظام قائم کیا جائے۔

