سیرِل زینڈا
افریقی آزادی کی جدوجہد کے ساتھ فلسطینی عوام کے تاریخی روابط کے باعث، فلسطینی جدوجہد کو میوزیم آف افریکن لبرریشن میں شامل کر لیا گیا ہے۔
فلسطین کی ریاست میوزیم آف افریکن لبرریشن کی اعزازی رکن بن گئی ہے، جو ایک کثیر لاگتی منصوبہ ہے جسے افریقی ممالک زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے میں تعمیر کر رہے ہیں۔ ہرارے کے مغربی حصے میں 103 ہیکٹر اراضی پر قائم یہ وسیع و عریض میوزیم مختلف افریقی آزادی کی تحریکوں کے جنگی نوادرات اور دیگر متعلقہ مواد کی نمائش کرے گا، جنہوں نے اپنے ممالک کو نوآبادیاتی قبضے سے آزاد کرانے کے لیے مسلح جدوجہد کی تھی۔
چونکہ افریقہ کی آزادی کی جدوجہد ہمیشہ فلسطینی عوام کی جدوجہد سے جڑی رہی ہے، اسی لیے ریاستِ فلسطین کو اس منصوبے کا حصہ بننے کا اعزاز دیا گیا ہے۔
مصر سے چین تک، روس سے کیوبا تک، افریقی آزادی کے مجاہدوں نے اپنے فلسطینی ساتھیوں کے ساتھ تربیتی کیمپوں میں وقت گزارا، اور ایسا رشتہ قائم کیا جو وقت کی آزمائشوں پر پورا اترا ہے۔
پرچم اور درخت
زمبابوے میں ریاستِ فلسطین کے سفیر ڈاکٹر تامر المسری نے اپنے ملک کی جانب سے اس پیشکش کو قبول کیا۔ انہوں نے میوزیم کے احاطے — جسے "لبرریشن سٹی” کہا جاتا ہے — میں افریقہ کے 55 ممالک کے پرچموں کے ساتھ فلسطینی پرچم بھی لہرایا اور فلسطین کا درخت بھی لگایا۔
ڈاکٹر المسری نے کہا کہ فلسطینی، فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے ذریعے افریقی آزادی کی جدوجہد کا حصہ رہے ہیں، لہٰذا اس تاریخی یادگار میں شامل ہونا اُن کے لیے اعزاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ کا یہ اقدام فلسطینی عوام اور فلسطینی ریاست کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن ہماری افریقی بہنوں، بھائیوں اور ساتھیوں کی جدوجہد کا حصہ رہی ہے۔ ہم اس جدوجہد کا حصہ ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ آپ کی آزادی اور خودمختاری، فلسطینی عوام کے لیے ایک رہنما شمع ہے جو 21ویں صدی کے آخری قبضے کا سامنا کر رہے ہیں۔
فلسطینی جدوجہد ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے پر مشتمل ہے — پہلے برطانوی نوآبادیاتی قبضے کے خلاف، اور بعد ازاں 1948 سے شروع ہونے والے اسرائیلی نسل پرستانہ قبضے کے خلاف۔
"یکجہتی کی طاقتور علامت”
40 ملین ڈالر کا یہ منصوبہ — جو افریقی تاریخ اور نوآبادیات کے خلاف براعظم کی شاندار جدوجہد کو محفوظ کرنے کے لیے تشکیل دیا جا رہا ہے — انسٹی ٹیوٹ آف افریقن نالیج (INSTAK) کے سب سے بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک پان–افریکن تھنک ٹینک ہے جس کا مقصد افریقہ اور افریقی عوام سے متعلق علم کو جمع کرنا اور پھیلانا ہے۔
INSTAK کے دیگر منصوبوں میں افریقن یونین کمیشن کے ساتھ شائع ہونے والی "دی افریقہ فیکٹ بُک” اور اس کی ذیلی اشاعت "بُک آف افریقن ریکارڈز” شامل ہیں۔
INSTAK کے سربراہ، سفیر ایرول کوامی موزاویزی نے المیادین انگلش کو بتایا کہ افریقی آزادی کی جدوجہد فلسطینی عوام کی جدوجہد سے الگ نہیں کی جا سکتی، اسی لیے ریاستِ فلسطین کو لبرریشن سٹی میں شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میوزیم آف افریکن لبرریشن میں فلسطینی پرچم، فلسطینی اور افریقی عوام کے درمیان نوآبادیات اور جبر کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی طاقتور علامت ہے۔ یہ بے دخلی، مزاحمت اور استقامت کے مشترکہ تجربات کو اجاگر کرتا ہے۔ اس پرچم کی موجودگی، فلسطینی مقصد کے لیے افریقی یونین کی دیرینہ حمایت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
موزاویزی نے کہا کہ اگرچہ میوزیم زمبابوے میں واقع ہے، اس میں تمام افریقی ممالک کا مواد موجود ہوگا جنہوں نے مسلح جدوجہد کی تھی، بشمول وہ ممالک جنہوں نے اس براعظمی آزادی کے ایجنڈے کو مادی، تکنیکی، سفارتی اور اخلاقی مدد فراہم کی تھی۔
افریقن یونین کے ذریعے تمام 55 افریقی ممالک نے میوزیم منصوبے کی تائید کی ہے اور اپنے اپنے قومی پرچموں کے ساتھ یکجہتی کے درخت لگائے ہیں۔
فلسطین اُن غیر افریقی ممالک — چین، روس اور کیوبا — میں شامل ہو گیا ہے جنہیں اس منصوبے کا حصہ بننے کے لیے دعوت دی گئی ہے کیونکہ انہوں نے براعظم افریقہ کی آزادی کی جدوجہد میں کردار ادا کیا تھا۔
افریقی آزادی کی تحریکیں
یہ میوزیم — جو یورپی نوآبادیاتی قبضے اور نسل پرستی کے خلاف افریقی عوام کی شاندار جدوجہد کی یادگار ہے — افریقی تاریخ اور افریقی کامیابیوں کو خود افریقیوں کے ذریعے پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
20ویں صدی کا دوسرا نصف افریقی ممالک کی آزادی کی بڑی لہر پر مشتمل تھا، سوائے ایتھوپیا اور لائبیریا کے۔ مصر 1936 میں آزاد ہوا، پھر 1956 میں سوڈان اور 1957 میں گھانا۔ زیادہ تر افریقی ممالک نے 1970 سے پہلے زیادہ تر پُرامن سیاسی مذاکرات کے ذریعے آزادی حاصل کی۔
لیکن بعض ممالک میں آبادکار نوآبادیاتی حکومتیں اور جنوبی افریقہ کا نسل پرستانہ نظام اکثریتی حکمرانی کے لیے آمادہ نہ تھا — جیسے انگولا، موزمبیق، گنی بساؤ، ساؤ ٹومے اور پرنسپے (جو پرتگالی سلطنت کا حصہ تھے)، برطانوی کالونی روڈیشیا (اب زمبابوے)، جنوبی افریقہ کا زیرانتظام جنوبی مغربی افریقہ (نامیبیا) اور خود جنوبی افریقہ۔ ان ممالک میں مسلح جدوجہد کے ذریعے آزادی حاصل کرنا پڑی۔
اسی طرح کینیا (1953) اور الجزائر (1960–1963) میں بھی شدید مسلح مزاحمت کے بعد آزادی ممکن ہوئی۔ انہی جدوجہدوں سے اس میوزیم کے لیے مواد فراہم کیا جائے گا۔
افریقی آزادی کی تاریخ ایک چھت تلے
INSTAK کے چیئرمین پروفیسر سمبی مباکو کے مطابق، مختلف نوادرات کے علاوہ ان ممالک کی جدوجہد کی تاریخ کے اہم حصے بھی میوزیم میں ریکارڈ کیے جائیں گے تاکہ افریقی اور عالمی زائرین ان تمام ممالک کی آزادی اور انسانی وقار کی جدوجہد سے ایک ہی جگہ آگاہ ہو سکیں۔
میوزیم 2027 میں مکمل ہونے کے بعد، ہر ملک اپنے ہتھیاروں، اپنی جنگوں، اپنے نقصانات اور اپنی کامیابیوں سے متعلق مواد فراہم کرے گا۔ ریاستِ فلسطین بھی اپنی طویل جدوجہد کی تاریخ اس میں شامل کرے گی۔
"ایک موزوں ترین اقدام”
زمبابوے فلسطین یکجہتی کونسل کے چیئرمین، ما فہ کوانیسائی ما فہ نے المیادین انگلش کو بتایا کہ یہ اقدام انتہائی موزوں ہے کیونکہ افریقی آزادی کی تحریکوں اور فلسطینی جدوجہد کے تاریخی روابط گہرے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افریقہ کی آزادی اور فلسطین کی آزادی ہمیشہ گہرے تاریخی اور سیاسی رشتوں سے جڑی رہی ہیں۔ دونوں جدوجہدیں ایک ہی عالمی نوآبادیاتی، نسلی جبر اور سامراجی تشدد کے نظام کے خلاف ابھریں۔ دہائیوں تک الجزائر سے زمبابوے، جنوبی افریقہ سے موزمبیق تک، افریقی آزادی کی تحریکوں نے فلسطینی عوام کو زمین، وقار اور خود ارادیت کی مشترکہ جدوجہد میں ساتھی تسلیم کیا۔
انہوں نے فلسطینی پرچم بلند کرنے اور "درختِ فلسطین” لگانے کو انتہائی علامتی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف اظہارِ یکجہتی نہیں، بلکہ اعلان ہے کہ فلسطین افریقہ کی آزادی کی کہانی کا حصہ ہے۔ یہ پرچم اس حقیقت کی علامت ہے کہ فلسطینی مسئلہ کوئی حاشیائی سوال نہیں بلکہ ہمارے زمانے کی مرکزی ضد–نوآبادیاتی جدوجہد ہے۔ یہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ جن طاقتوں نے کبھی افریقا کو تقسیم کیا، اس کے عوام کو محروم کیا اور اس کے وسائل لوٹے، وہی طاقتیں آج فلسطین میں قبضے، نسل پرستی اور نسل کشی کو سہارا دے رہی ہیں۔

