عبدالباری عطوان
اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایک بڑے وفد کے ہمراہ جنوبی شام میں اپنے دستوں کا دورہ اور معائنہ کر رہے ہیں۔ اس وفد میں گدعون ساعر، وزیرِ خارجہ؛ اسرائیل کاتز، وزیرِ جنگ؛ جنرل ایال زمیر، آرمی چیف؛ اور شِن بیت کے سربراہ ڈیوڈ زیتی شامل ہیں۔ یہ دورہ ایک اشتعال انگیز اقدام ہے، جو اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ جنوبی شام کا شمال سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ یہ علاقہ اب ایک بڑی قابض اسرائیلی بستی میں تبدیل ہو چکا ہے اور قابض ریاست کا حصہ بن چکا ہے، بالکل اسی طرح جیسے جولان کی پہاڑیاں اور جبل الشیخ۔
نئی دمشق حکومت محض ایک بیان پر اکتفا کرتی ہے جس میں اس دورے کو شامی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اس کی حامی ریاستوں اردن، قطر اور کویت کی جانب سے بھی مذمتی بیانات سامنے آئے۔ اسی دوران امریکا پچھلے راستے سے، جسے بعض لوگ ’’خدام کا دروازہ‘‘ بھی کہتے ہیں، اس معاملے میں داخل ہوتا ہے، حالانکہ گزشتہ ہفتے اسی نے عبوری صدر احمد الشرع کی ’’تاریخی‘‘ وائٹ ہاؤس آمد پر سرخ قالین بچھایا تھا۔
ہم نہیں جانتے کہ نیتن یاہو اور اس کا بڑا وفد شامی خودمختاری کی خلاف ورزی کہاں کر رہا ہے۔ شام پر اسرائیلی فضائی حملے کبھی رکے ہی نہیں—جنوب، شمال یا مرکز—اور یہ سب امریکی منظوری، ترک حمایت اور روسی تعاون کے ساتھ جاری رہے۔
نیتن یاہو کا یہ دورہ، جسے سوچے سمجھے ’’میڈیا شو‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا، دراصل اسرائیلی سپریم کورٹ کے سامنے پیشی سے بچنے کا بہانہ تھا، جہاں اسے بدھ کے روز حاضر ہونا تھا۔ اس کے بعد جمعرات کو آٹھ اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی تعیناتی سامنے آئی، جنہوں نے شامی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی—صرف دمشق کے اوپر نہیں، بلکہ حلب، حمص اور حما میں بھی۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان—جو عبوری صدر احمد الشرع کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں—نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اردوغان دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے سابق شامی حکومت کو گرانے، شام کو ’’آزاد‘‘ کرنے اور اس کی خودمختاری و آزادی بحال کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ حالانکہ ترک فوج ان تینوں شہروں سے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔
صدر الشرع کے واشنگٹن دورے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ انہوں نے داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت کے بعد فوری طور پر خطے میں موجود ’’دہشت گرد گروہوں‘‘ کو ختم کرنے کا وعدہ کیا، جن میں سب سے نمایاں لبنانی حزب اللہ، حماس اور جہاں بھی ہوں، ایرانی انقلابی گارڈ شامل ہیں۔
ہمیں توقع تھی کہ دمشق میں عبوری حکومت اس وعدے سے لاتعلقی کا اعلان کرے گی اور امریکی ایلچی برائے شام و لبنان اور انقرہ میں سفیر، ٹام باراک بھی اس کی تردید کریں گے۔ مگر یہ ہماری خام خیالی ثابت ہوئی، اور یہ پہلا موقع ہے نہ آخری۔ ہمیں وہ دن یاد آتے ہیں جب ’’اسد کا شام‘‘ بروقت اور مناسب مقام پر جواب دینے کا اعلان کیا کرتا تھا—اور اس اعلان کا اس کے مخالفین مذاق اڑایا کرتے تھے۔
یہ وہ شام نہیں ہے جسے ہم جانتے ہیں اور جس پر فخر کرتے ہیں… شام کی فوج نے چیلنجز، قبضوں اور اسرائیلی اشتعال انگیزیوں کے خلاف چار جنگیں لڑی ہیں، اور ہمیں معلوم ہے کہ ہماری یہ رائے انہیں پسند نہیں آئے گی جو حقیقت سے منہ موڑ کر ریت میں سر چھپا لیتے ہیں۔ اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔

