بذریعہ: آسکر رِکِٹ
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ابوظہبی کی جانب سے ڈارفور میں مبینہ مظالم کے مرتکب ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی پشت پناہی بند ہونی چاہیے، لیکن اسی وقت امریکی افواج خفیہ طور پر ہارن آف افریقہ میں اماراتی فوجی تنصیبات کو استعمال کر رہی ہیں۔
مارکو روبیو نے متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا۔
جی 7 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ان کی حکومت جانتی ہے کہ سوڈانی آر ایس ایف کو کون اسلحہ فراہم کر رہا ہے اور یہ حمایت ختم ہونی چاہیے۔
ایک صحافی نے کہا کہ لیکن امارات انہیں چینی ڈرون فراہم کر رہا ہے۔
روبیو نے جواب دیا کہ ہم جانتے ہیں کہ کون کون سی جماعتیں اس میں ملوث ہیں۔ میں اتنا بتا سکتا ہوں کہ ہماری حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر اس معاملے کو اٹھایا جا رہا ہے اور متعلقہ فریقوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ میں پریس کانفرنس میں کسی کو نام لے کر پکارنا نہیں چاہتا کیونکہ ہمارا مقصد نتیجہ حاصل کرنا ہے۔ اسے رکنا چاہیے۔
اب، جیسا کہ مڈل ایسٹ آئی نے پہلے رپورٹ کیا تھا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی لابنگ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ہم سوڈان پر کام شروع کرنے والے ہیں۔
واشنگٹن میں موجود ذرائع نے ایم ای ای کو بتایا کہ امریکی محکمہ خارجہ ایسے افراد پر نئی پابندیاں لگانے پر غور کر رہا ہے جو سوڈانی آر ایس ایف اور امارات کے مابین تعلقات میں کلیدی کردار رکھتے ہیں—وہی گروہ جس نے گزشتہ ہفتوں میں شمالی ڈارفور کے شہر الفاشر میں سنگین مظالم کیے ہیں۔
الفاشر میں ہونے والے ان مظالم میں اجتماعی زیادتی اور قتل شامل ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر میں سڑکوں پر خون کے تالاب دیکھے گئے ہیں۔ شہریوں کو لوٹا گیا، تاوان کے لیے یرغمال بنایا گیا، خواتین کو اغوا کیا گیا۔
اب تویلا کے علاقے (الفاشر کے مغرب میں) میں تقریباً 6,50,000 شہری اور 300 سے زائد غیر ملکی امدادی کارکن موجود ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ سب شدید خطرے میں ہیں کیونکہ آر ایس ایف چیک پوسٹ اب محض 20 کلومیٹر دور قائم ہو چکی ہے۔
الفاشر میں قتلِ عام نے دنیا بھر کی حکومتوں اور عوام کی توجہ دوبارہ اس کردار کی طرف مبذول کی ہے جو امارات اس جنگ میں ادا کر رہا ہے۔
ابوظہبی مسلسل آر ایس ایف کی مدد کی تردید کرتا ہے، لیکن سیٹلائٹ تصاویر، اسلحے کے سیریل نمبرز، پروازوں کے ریکارڈ اور درجنوں اندرونی ذرائع اس کے برعکس واضح ثبوت فراہم کرتے ہیں۔
تاہم، جب کہ امریکہ سوڈان میں اماراتی کردار کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہی امریکہ اماراتی فوجی اڈوں سے اپنے آپریشن بھی چلا رہا ہے—خاص طور پر بوساسو سے۔
بوساسو: صومالیہ میں اماراتی اڈہ، امریکی کارروائیاں، اور آر ایس ایف کیلئے رسد کا مرکز
بوساسو صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹلینڈ کا ایک اہم بندرگاہی شہر ہے، جو خلیجِ عدن کے ساحل پر واقع ہے۔ یہ وہی تجارتی راستہ ہے جو نہرِ سویز، بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن سے گزر کر بحرِ ہند تک جاتا ہے۔
ایک بین الاقوامی مسافر نے اسے ’’کچھ کچھ بحیرۂ روم جیسا‘‘ بتایا—سمندر میں کھڑی کشتیوں اور خوبصورت عمارتوں کے ساتھ۔
لیکن گزشتہ دو برسوں سے یہ شہر بھاری کارگو طیاروں کی گھن گرج سے مانوس ہو چکا ہے۔
امارات نے بوساسو کے ہوائی اڈے اور بندرگاہ کو گزشتہ چند برسوں میں جدید کیا ہے، اور اب امریکہ یہاں سے اُن انسدادِ دہشت گردی حملوں کا آغاز کر رہا ہے جو شام اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں سے صومالیہ پہنچے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔
امریکہ اور پنٹلینڈ کے حکام نے ایم ای ای کو بتایا کہ اگرچہ امارات نے بوساسو کو آر ایس ایف کو رسد پہنچانے کے لیے استعمال کیا ہے، امریکہ بھی اسی مقام کو صومالیہ میں اپنے عسکری مشن کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
10 نومبر کو، روبیو کی جانب سے آر ایس ایف کے مظالم کی مذمت سے تین دن قبل، امریکی افریقہ کمانڈ (افریکوم) نے بوساسو سے محض 32 کلومیٹر دور "گولگول کیو” کے علاقے میں داعش-صومالیہ کے خلاف فضائی حملہ کیا۔
امریکی تھنک ٹینک "نیو امریکہ” کے مطابق صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے صومالیہ میں امریکی جنگی کارروائیوں میں بے مثال اضافہ ہوا ہے—2025 میں 99 حملے کیے گئے، جب کہ بائیڈن دور میں 51 حملے ہوئے تھے۔
یہ حملے—جن میں سے کئی خطے میں موجود امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں سے بھی کیے جاتے ہیں—پنٹلینڈ حکومت کی جانب سے داعش کے خلاف بڑے آپریشن کا حصہ ہیں، جس کی پشت پر امریکہ اور امارات دونوں موجود ہیں۔
پروازوں کے ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بوساسو اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے درمیان براہِ راست رابطہ موجود ہے۔
29 جولائی کو امریکی میرین کور کا ایک KC-130J طیارہ (رجسٹریشن 170283) کیمپ لیمونیر (جبوتی) سے بوساسو پہنچا، پھر ممباسا گیا اور واپس جبوتی لوٹا۔
لیمونیر افریقہ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے—لیکن چونکہ چین سمیت کئی ممالک وہاں اڈے بنا چکے ہیں، امریکہ بوساسو اور سمالینڈ کے ساحلی شہر بربرا جیسے نئے مقامات کو استعمال کر رہا ہے۔
ستمبر میں امریکی فوجی وفد نے بوساسو کا دورہ کیا، جب امریکی اسپیشل فورسز نے پ سکیورٹی فورسز کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں مشترکہ مشقیں کیں۔
سابق امریکی عہدیدار کیمرون ہڈسن کہتے ہیں کہ امارات نے بوساسو امریکہ کو پیش کیا ہے۔ یہ مستقل آپریشن نہیں لیکن جب بھی ضرورت ہو، امریکہ اسے استعمال کرتا ہے۔
بعض حملے صرف ڈرون سے ہوتے ہیں، لیکن کچھ کارروائیاں "سینسیٹو سائیٹ ایکسپلائٹیشن” کے طور پر کی جاتی ہیں، جن میں امریکی ٹیمیں حملے کے فوراً بعد علاقے میں جا کر ہارڈ ڈرائیوز، ڈی این اے اور حساس معلومات اکٹھی کرتی ہیں۔
امارات کی تردید اور ’گریے آپریشنز‘ کی حقیقت
امارات نے آر ایس ایف کو اسلحہ فراہم کرنے کے تمام ثبوتوں کو ’’من گھڑت‘‘ قرار دیا ہے، لیکن حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔
ہڈسن کہتے ہیں کہ جب ایک ہی اڈے پر سفید (قانونی) اور سیاہ (خفیہ یا غیر قانونی) آپریشن ایک ساتھ چلیں، تو سب ’گرے آپس‘ بن جاتے ہیں۔ کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ یہی امارات کی چالاکی ہے۔
اماراتی اڈوں کا علاقائی دائرہ: خلیجِ عدن، بحیرۂ احمر، یمن اور افریقہ میں عسکری جال
سیٹلائٹ تصاویر اور نگرانی کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ امارات نے یمن کے جزائر سقطریٰ، عبد الکوری، سمحہ، المخا اور باب المندب میں مضبوط فوجی تنصیبات قائم کی ہیں—ان میں جدید رن ویز، انٹیلی جنس مراکز، راڈار سسٹم اور فوجی بنکر شامل ہیں۔
اسی طرح سمالینڈ میں بربرا کے مقام پر ایک 4 کلومیٹر لمبا رن وے اور جدید فوجی بندرگاہ بھی قائم کی گئی ہے، جو طویل فاصلے کی فضائی کارروائیوں کے لیے موزوں ہے۔
یہ تمام اڈے امریکی اور اسرائیلی عسکری تعاون کے ساتھ ترقی یافتہ ہوئے ہیں—خاص طور پر حوثیوں کی بحری کارروائیوں کی نگرانی کے لیے، جب سے انہوں نے غزہ کے حق میں اسرائیلی و امریکی کارگو جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔
سوڈان کے لیے ’ایئر برج‘ اور آر ایس ایف کو ہتھیاروں کی مسلسل رسد
فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ مارچ 2024 سے اگست 2025 تک 77 طیارے بوساسو پہنچے—جن میں سے زیادہ تر امارات سے آر ایس ایف کو اسلحہ پہنچانے والے IL-76 کارگو طیارے تھے۔
دو طیارے—EX-76015 اور EX-76019—کل 59 مرتبہ بوساسو پہنچے۔
کئی پروازوں نے اپنا سگنل ’’چھپا‘‘ رکھا جو خفیہ آپریشنز کی علامت ہے۔
پنٹلینڈ پولیس کے ایک کمانڈر نے بتایا کہ بھاری اور حساس سامان لایا جاتا ہے اور فوراً دوسرے طیاروں میں منتقل کر کے پڑوسی ممالک کے راستے آر ایس ایف تک پہنچایا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہاں کولمبین کرائے کے فوجیوں کی موجودگی دیکھی گئی ہے۔
بحری راستے: یمن کے جزائر سے بوساسو تک اماراتی نیٹ ورک
میرین ٹریفک ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ اماراتی بحری جہاز—المبرکہ 2، تکریم، یم 1—گزشتہ دو سالوں میں بارہا
امارات → جزائرِ یمن → بوساسو
کے درمیان سفر کرتے رہے ہیں۔
یہ تمام اڈے—بوساسو، بربرا، جزائرِ یمن—ایک ہی کمانڈ سسٹم سے منسلک نظر آتے ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر بتاتی ہیں کہ 2023 سے 2025 تک بوساسو ایک مکمل فوجی قلعہ بن چکا ہے، جس میں:
گولہ بارود کے مضبوط ذخیرے
کارگو ٹرمینل
جدید راڈار
ہسپتال
فضائی ہینگر
GM-403 راڈار (400 کلومیٹر رینج)
سب موجود ہیں۔
ریاض بمقابلہ ابوظہبی: سوڈان میں امریکہ کس کا ساتھ دے گا؟
ٹرمپ کے اعلان کے بعد اب طاقت کی وہ کشمکش کھل کر سامنے آ رہی ہے جو سعودی عرب اور امارات کے درمیان پہلے ہی جاری تھی۔
ماہرین کہتے ہیں:
سعودیہ—امریکہ کا پرانا شراکت دار
امارات—ایک نیا مگر پیچیدہ اتحادی
محمد بن سلمان کی طرف سے غزہ کی تعمیرِ نو میں سرمایہ کاری، اور ٹرمپ کے ’’ناممکن تنازعات حل کرنے‘‘ کے دعوے—دونوں عوامل سوڈان کے معاملے کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔

