مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – جاری اسرائیلی نسل کشی سے جنم لینے والے ناقابلِ بیان اور نہ ختم ہونے والے عذاب کے درمیان، غزہ کا ایک بے گھر نوجوان ایک ایسی کتاب لکھ رہا ہے جو فلسطینیوں کے شدید دکھ اور اُن انسانی کہانیوں کو محفوظ کرتی ہے جن پر دنیا کی نظر اکثر نہیں جاتی۔
24 سالہ وسیم سعید کی کتاب "ونیس ٹو دی ہیل فائر آف جینوسائیڈ” دو برس سے جاری جنگ اور بارہا ہونے والی جبری بے دخلی کا نوحہ بیان کرتی ہے، جو اسرائیلی بمباری، زمینی حملوں، تباہی اور دانستہ بھوک میں مبتلا کرنے کے نتیجے میں اُن پر مسلط کی گئی۔
وسیم نے اپنی داستان الجزیرہ کے ہانی محمود کو سنائی، بتاتے ہوئے کہ وہ زیادہ تر ایک ایسے خیمے میں لکھتا ہے جہاں کچھ بھی نہیں — نہ گرمیوں کی جھلسا دینے والی تپش سے تحفظ، نہ سردیوں کی یخ بستہ ہواؤں اور موسلادھار بارشوں سے کوئی بچاؤ۔
وہ کہتا ہے کہ بے دخلی کے کیمپ اور خیمے ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ انسان کو اس اذیت سے مانوس ہونا پڑا ہے — حالانکہ یہ تقریباً ناممکن ہے۔
وسیم کی کتاب کا ہر باب کسی ایسے شخص، مقام یا یاد کے نام ہے جسے وہ مٹنے نہیں دینا چاہتا۔
وہ کہتا ہے کہ مجھے تمہاری ہمدردی نہیں چاہیے۔ مجھے ایسی انسانی ضمیر کی ضرورت ہے جو سڑ نہ چکا ہو … ایسا انسان جو پتھر نہ بن گیا ہو۔ مجھے ایسا قاری چاہیے جو کتاب بند کر کے آہ بھر کر اپنی کافی پینے نہ چلا جائے۔
تقریباً تمام بنیادی ڈھانچے کو اسرائیلی فوج کی جانب سے تباہ کیے جانے کے باعث غزہ میں نہ بجلی ہے نہ انٹرنیٹ، اس لیے وسیم نے بے شمار راتیں موم بتی کی روشنی میں گزاری ہیں۔
وہ کہتا ہے کہ وہ پہچان کے لیے نہیں لکھ رہا تھا بلکہ اپنے جذبات اور اُن سب مظالم کا بوجھ اتارنے کے لیے قلم اٹھایا۔
“میں ٹوٹ چکا تھا۔ اپنے غصے کو اپنے اندر سنبھال نہیں پا رہا تھا۔ لکھنا ہی واحد راستہ تھا جس سے میں نے اسے نکالا۔”
پہلے وہ اپنے تجربات لکھتا رہا، لیکن جلد ہی اُسے احساس ہوا کہ لوگ ایسے ایسے ہولناک سانحات سے گزرے ہیں جن کا تصور انسانی ذہن کے لیے ممکن ہی نہیں۔
وہ بتاتا ہے کہ لوگ جو قتل ہوئے، دفن کیے گئے، اور کسی کو پتا بھی نہ چلا۔ اُن کے آخری لمحات … اُن کا خوف۔ میں نے اس باب کا نام ‘دی ان ٹولڈ اسٹوریز’ رکھا۔
وسیم کے لیے ہر صفحہ بھول جانے کے خلاف خاموش مزاحمت کی ایک شکل ہے۔ وہ مانتا ہے کہ کئی مواقع پر موت “ناگزیر” محسوس ہوئی۔
وہ کہتا ہے کہ میں نے اس لیے لکھا کہ میرے بعد کچھ باقی رہے — میں ایک گواہ بنوں، محض ایک اور شہید نہیں۔ کہانیاں گم ہو جاتی ہیں اگر انہیں لکھا نہ جائے۔
اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً 70 ہزار فلسطینی اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں اور بے شمار اسپتال، اسکول اور گھر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ ان حالات نے وسیم کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ لکھنے کا مقصد کیا ہے — بل کہ جینے کا مقصد کیا ہے۔
لیکن پھر بھی وہ امید کی ایک جھلک تلاش کرتا ہے۔
وہ کہتا ہے کہ انسانی فطرت ایک کرنِ امید تلاش کرتی ہے۔ بھوک اور موت کی تصویروں کے باوجود مجھے یقین ہے کہ لکھنا اہم ہے۔ یہ وہ سب تھا جو میں لکھ سکا — باقی اب خون میں لکھا جا رہا ہے۔ اگر میں زندہ رہا … تو میں یہ کہانی مکمل کر لوں گا۔

