جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیچین اور جاپان کا تائیوان پر تنازع اقوام متحدہ تک پہنچ گیا:...

چین اور جاپان کا تائیوان پر تنازع اقوام متحدہ تک پہنچ گیا: معاملہ کیا ہے؟
چ

تحریر: شولا لاوال

چین نے جمعے کے روز جاپانی وزیر اعظم سانائے تائکاچی کے تائیوان سے متعلق حالیہ بیان پر ٹوکیو کے ساتھ اپنے تنازع کو اقوام متحدہ تک پہنچا دیا، جس سے دونوں مشرقی ایشیائی پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی اور بھی گہری ہو گئی اور تعلقات 2023 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔

چین کے مستقل نمائندہ فُو کونگ نے جمعے کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش کو لکھے گئے خط میں کہا کہ اگر جاپان تائیوان آبنائے کی صورتحال میں مسلح مداخلت کی کوشش کرتا ہے تو یہ ‘‘جارحیت’’ کے مترادف ہو گی۔ یہ آبنائے تائیوان کو چین کے سرزمینِ اصلی سے جدا کرتی ہے، اور بیجنگ اصرار کرتا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے۔ بیجنگ نے طاقت کے استعمال کے امکان کو کبھی رد نہیں کیا۔

یہ سفارتی تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب نومبر کے اوائل میں، عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد، تائکاچی نے ایک مفروضاتی چینی حملے کی صورت میں جاپان کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں پارلیمنٹ میں گفتگو کی۔ اس بیان نے بیجنگ کو سخت مشتعل کیا، اور چین نے معذرت یا وضاحت کا مطالبہ کیا، مگر جاپانی وزیر اعظم نے اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔

اب یہ تنازعہ تیزی سے ایک تجارتی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان پرانے علاقائی اختلافات کو بھی دوبارہ بھڑکا رہا ہے۔

جاپانی وزیر اعظم نے کیا کہا؟

7 نومبر کو پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے، تائکاچی — جو تائیوان کی دیرینہ حامی سمجھی جاتی ہیں — نے کہا کہ تائیوان کے خلاف کسی چینی بحری ناکہ بندی یا عسکری اقدام کی صورت میں جاپان کی جانب سے ممکنہ فوجی جواب پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ موقف غیر معمولی تھا، کیونکہ سابقہ وزرائے اعظم صرف چینی خطرے پر ‘‘تشویش’’ کا اظہار کرتے رہے ہیں، مگر ’’جوابی کارروائی‘‘ کا ذکر نہیں کرتے تھے۔

اپوزیشن کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر جنگی بحری جہازوں اور عسکری کارروائیوں کا استعمال ہوا تو ہر لحاظ سے یہ جاپان کے وجود کیلئے خطرناک صورتحال بن سکتی ہے۔

یہ بیان چین کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع کے فوری احتجاج کا باعث بنا۔ اسی دوران اوساکا میں چین کے قونصل جنرل شُو جِیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک متنازع، دھمکی آمیز پوسٹ کی—جسے بعد میں حذف کردیا گیا—جس میں کہا گیا:

‘‘ہمیں اس گندی گردن کو کاٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا جو ہماری طرف بڑھی ہے۔ کیا آپ تیار ہیں؟’’

اس پوسٹ نے جاپان میں مزید غصہ بھڑکایا اور کچھ جاپانی اہلکاروں نے قونصل جنرل کی ملک بدری کا مطالبہ کیا۔ جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری مینورُو کیہارا نے اسے ‘‘انتہائی نامناسب’’ قرار دیتے ہوئے چین سے وضاحت طلب کی۔ وزارتِ خارجہ نے بھی اس پوسٹ کی حذفگی کا مطالبہ کیا۔ چین نے اسے سفارتکار کی ذاتی رائے قرار دیا۔

14 نومبر کو چین نے جاپانی سفیر کو طلب کر کے ‘‘کچلے جانے جیسی شکست’’ کی وارننگ دی اگر جاپان تائیوان کے معاملے میں مداخلت کرے۔ اگلے ہی دن جاپان نے بھی چینی سفیر کو بلا کر سخت احتجاج کیا۔

تین دن بعد تائکاچی نے کہا کہ وہ آئندہ مخصوص فوجی مناظر پر گفتگو سے گریز کریں گی، مگر انہوں نے اپنے بیان سے دستبردار ہونے سے انکار کیا۔

تازہ کشیدگی کیسے بڑھی؟

یہ معاملہ اب ایک طرح کی تجارتی جنگ بن چکا ہے۔

14 نومبر کو چین نے جاپان کیلئے سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کی، جس کا نشانہ جاپان کے سیاحت کے شعبے کو سمجھا جا رہا ہے، جہاں جنوری سے ستمبر تک 75 لاکھ چینی سیاح آئے تھے۔

ایک دن بعد تین چینی ایئرلائنز نے جاپان جانے والی پروازوں کی منسوخی یا تبدیلی کی مفت سہولت کا اعلان کیا۔

چین کی وزارتِ تعلیم نے بھی جاپان میں زیرِ تعلیم چینی طلبہ اور جاپان جانے کے خواہش مند طلبہ کو ‘‘حالیہ جرائم’’ کے حوالے سے انتباہ جاری کیا—اگرچہ دونوں ممالک میں شہریوں پر حملوں کی رپورٹس موجود تھیں، مگر ان حملوں کا آپس میں تعلق واضح نہیں۔

علاقائی سطح پر بھی ماحول گرم ہوا۔ پچھلے اتوار چین کے کوسٹ گارڈ نے مشرقی چینی سمندر میں متنازع جزائر کے گرد گشت کا اعلان کیا—یہ وہی جزائر ہیں جنہیں جاپان ‘‘سینکاکو’’ اور چین ‘‘دیاؤ یو’’ کہتا ہے۔ جاپان نے چینی بحری جہازوں کی مختصر ‘‘خلاف ورزی’’ پر احتجاج کیا۔

گزشتہ ہفتے چین نے کم از کم دو جاپانی فلموں کی اسکریننگ روک دی اور جاپانی سمندری خوراک پر پابندی لگا دی۔

جمعرات کو چین نے جاپان اور جنوبی کوریا کے ثقافتی وزراء کے ساتھ ہونے والی تین طرفہ ملاقات بھی ملتوی کر دی۔

’بغاوت کی علامت‘

18 نومبر کو دونوں ممالک کے سفارتکار بیجنگ میں مذاکرات کیلئے ملے، جہاں شکوے شکایات بیان ہوئے۔

چین کے سینئر اہلکار لیو جِن سونگ نے پانچ بٹن والی وہ کالر لیس قمیض پہنی جسے 1919 میں چین کے طلبہ کی جاپانی سامراج کے خلاف بغاوت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

جاپانی میڈیا کے مطابق یہ لباس ‘‘مزاحمت کی علامت’’ تھا۔ ملاقات کی تصاویر اور ویڈیوز میں لیو کو ہاتھ جیب میں ڈالے ہوئے دکھایا گیا، جسے جاپانی میڈیا نے ‘‘بہت غیر مناسب اور غیر رسمی’’ قرار دیا۔

مذاکرات کشیدگی کم کرنے میں ناکام رہے۔ چین نے مطالبہ دہرایا کہ جاپانی وزیر اعظم اپنے بیان سے رجوع کریں، جبکہ جاپانی سفارتکاروں نے کہا کہ تائکاچی کے الفاظ جاپان کی پالیسی کے مطابق تھے۔

چین اور جاپان کے درمیان تاریخی تناؤ

یہ تنازعہ بہت پرانا اور—خصوصاً چین کیلئے—بہت تکلیف دہ ہے۔

1894-95 کی پہلی چین-جاپان جنگ کے بعد جاپان نے تائیوان پر قبضہ کر لیا اور کوریا کو ضم کر لیا۔ 1937 میں دوسری چین-جاپان جنگ کے دوران جاپانی افواج نے چین کے بڑے حصے پر قبضہ کر کے کٹھ پتلی حکومتیں قائم کر دیں۔ 1945 میں دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی شکست کے بعد اس کی توسیع پسندی کا خاتمہ ہوا۔

1949 میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی کامیابی کے بعد شکست خوردہ قوم پرست رہنما چیانگ کائی شیک تائیوان منتقل ہو کر متوازی حکومت قائم کر بیٹھے۔ جاپان نے 1972 تک تائیوان کو ہی ‘‘چین’’ کے طور پر تسلیم کیا۔

1972 میں جاپان نے بالآخر بیجنگ کی حکومت کو تسلیم کر کے ‘‘ون چائنا پرنسپل’’ مان لیا، تاہم تائیوان کے ساتھ اس کے غیر رسمی تجارتی و سماجی تعلقات بدستور مضبوط رہے۔

جاپان نے ہمیشہ ‘‘اسٹریٹیجک ابہام’’ کی پالیسی پر عمل کیا—یعنی چین کے حملے کی صورت میں جاپان کیا کرے گا، اس بارے میں دانستہ طور پر غیر واضح رہنا۔ یہی حکمتِ عملی امریکہ کی بھی ہے۔

چین اور جاپان کے درمیان تجارت کتنی اہم ہے؟

چین کی وزارتِ تجارت کے ترجمان ہِے یونگ چیان نے کہا کہ تائکاچی کے بیان کے بعد ‘‘دوطرفہ تجارتی تعلقات کو شدید نقصان پہنچا’’ ہے۔

چین، امریکہ کے بعد، جاپان کی دوسری بڑی برآمدی منڈی ہے—جن میں صنعتی آلات، سیمی کنڈکٹرز اور گاڑیاں شامل ہیں۔ 2024 میں چین نے اقوام متحدہ کے کامٹریڈ ڈیٹا کے مطابق 125 ارب ڈالر کی جاپانی مصنوعات خریدیں۔

جاپان کے سمندری خوراک کے شعبے—خصوصاً سی کیوکمبر اور اسکالپ—کو بھی سخت تشویش لاحق ہے۔

چین جاپان کی نسبت کم انحصار رکھتا ہے، مگر جاپان چین کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ 2024 میں چین سے جاپان نے 152 ارب ڈالر کی درآمدات کیں۔

بیجنگ کی ‘‘تجارتی سزا’’ نئی نہیں۔ 2023 میں اس نے جاپان کے فوکوشیما جوہری پلانٹ کے پانی کے اخراج کے بعد تمام جاپانی خوراک درآمدات پر پابندی لگا دی تھی—اگرچہ عالمی ایٹمی ادارے نے اخراج کو محفوظ قرار دیا تھا۔ یہ پابندی 7 نومبر 2025 کو ہی اٹھائی گئی—اسی دن جب تائکاچی نے متنازع بیان دیا۔

2010 میں بھی چین نے سینکاکو/دیاؤ یو جزائر کے قریب ایک چینی کشتی کے کپتان کی گرفتاری پر سات ہفتوں تک نایاب معدنیات کی برآمد روک دی تھی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین