مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – فرانس میں مسلمانوں کے بارے میں کیے گئے ایک متنازع سروے، جسے ملک کے معروف سروے ادارے آئی ایف او پی (Ifop) نے شائع کیا، اس کا تعلق ایک ایسی میڈیا کمپنی سے جوڑا جا رہا ہے جس پر مبینہ طور پر امارات کی جانب سے چلائی جانے والی بدنامی مہم میں شامل ہونے کا شبہ ہے۔
اس مطالعے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ فرانس میں مسلمانوں کے مذہبی رجحانات اور اسلام ازم سے متعلق "حقیقی صورتِ حال” کو جانچتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 1985 میں مسلم آبادی 0.5 فیصد تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 7 فیصد ہو گئی، اور یوں اسلام ملک کا "دوسرا بڑا مذہب” بن گیا۔
سروے کے مطابق نوجوان نسل میں "دوبارہ اسلامیت” کا رجحان بڑھ رہا ہے اور "اسلامی نظریات” کے ساتھ ہمدردی میں بھی اضافہ پایا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ مذہبی معمولات میں شدت، مخلوط ماحول سے متعلق سخت مؤقف اور "سیاسی اسلام” کی طرف بڑھتی وابستگی تشویش کا باعث ہے۔
رپورٹ میں یہ نتیجہ بھی بیان کیا گیا کہ "تقریباً نصف مسلمان (46 فیصد) سمجھتے ہیں کہ اسلامی قانون ان ممالک میں نافذ ہونا چاہیے جہاں وہ رہتے ہیں”۔
فرانسیسی دائیں بازو کے حلقوں نے اس رپورٹ کو یہ ثابت کرنے کی دلیل کے طور پر پیش کیا کہ مسلمان ریاستی قوانین کے مقابلے میں شریعت کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ انتہائی دائیں بازو کی رہنما ماریون مارشل لی پین نے اسے "خوفناک اعداد و شمار” قرار دیا اور کہا کہ فرانس "لاکھوں شدت پسند مسلمانوں” کا سامنا کر سکتا ہے۔
وزیرِ داخلہ لوراں نیونیز نے بھی اس سروے کے پس منظر میں "سیاسی اسلام” کے خلاف حکومتی اقدامات کے تیسرے مرحلے کا آغاز کرنے کی ضرورت پر زور دیا، اور کہا کہ "ریپبلکن قوانین ہمیشہ مذہبی قوانین سے بالا ہوں گے”۔
دوسری جانب سروے پر شدید تنقید بھی سامنے آئی۔ ناقدین نے اسے "اسلاموفوبک” اور "تعصب پر مبنی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خوف، نفرت اور تقسیم کو بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ پیرس کی عظیم مسجد کے ریکٹر نے کہا کہ مذہبی معمولات کو خطرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ مشاہدہ گاہ برائے انسداد اسلاموفوبیا کے صدر عبداللہ زکری نے اسے "سنسی خیزی پھیلانے اور خوف پیدا کرنے کے لیے خاص طور پر تیار کردہ” سروے قرار دیا۔
صحافی ژاں پیئر اپاتی نے کہا کہ اس سروے کے ذریعے فرانسیسی مسلمانوں کو ایسے پیش کیا گیا ہے جیسے وہ "بلا وطن” لوگ ہوں، جو اپنی کمیونٹی سے ملک کے مقابلے میں زیادہ وابستہ ہیں، اور یاد دلایا کہ "ایک صدی قبل یہی بات یہودیوں کے بارے میں کہی جاتی تھی”۔
بائیں بازو کی جماعت لافرانس انسوُمیز (LFI) کے ارکان نے اسے "اسلاموفوبک دھوکا” قرار دیا۔ ان کے مطابق نوجوان مسلمانوں کو "اندرونی دشمن” بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تنقید کا ایک بڑا پہلو طریقہ کار سے متعلق تھا۔ ناقدین کے مطابق 1,005 افراد کے غیر نمائندہ نمونے کی بنیاد پر انتہائی بڑے نتائج اخذ کیے گئے۔ مثال کے طور پر صرف 149 باحجاب خواتین کو شامل کرنے کے باوجود یہ نتیجہ نکالا گیا کہ 18 سے 24 سال کی نصف مسلم خواتین حجاب کرتی ہیں، جسے "صنف جدائی” کا ثبوت قرار دیا گیا۔
سروے میں استعمال شدہ اصطلاحات جیسے "سیاسی اسلام”، "سلفیت” اور "اخوان المسلمون” کی واضح تعریف بھی شامل نہیں تھی۔
اس تنازع کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سروے کو جس میگزین اسکرین واچ (Écran de Veille) نے اسپانسر کیا، اس کے روابط ایک ایسے نیٹ ورک سے جوڑے گئے ہیں جو امارات کی مبینہ بدنامی مہم سے منسلک قرار دیا جاتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں گلوبل واچ انالسس، برطانیہ میں رجسٹرڈ ایک مشکوک کمپنی اور سوئس خفیہ ادارے سے وابستہ "اَیلو سروسز” شامل ہیں، جن پر قطر اور اخوان المسلمون کے خلاف جعلی معلومات پھیلانے کے الزامات لگے ہیں۔
فرانسیسی میڈیا کی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ اماراتی حکام نے اس مہم کے لیے کم از کم 5.7 ملین یورو ادا کیے، جس کا مقصد سیاسی حلقوں، صحافیوں، اداروں اور شہریوں کو نشانہ بنانا تھا تاکہ انہیں مسلمان تنظیموں اور اخوان سے جوڑا جا سکے۔ درجنوں فرانسیسی سیاست دان، محققین اور تنظیمیں اس مبینہ مہم کا ہدف بتائی جاتی ہیں۔
سروے کے حوالے سے جب اس کے پشت پناہ ادارے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے غیر ملکی مداخلت کے تمام الزامات کی تردید کی۔
تاہم اس معاملے نے فرانسیسی سیاسی منظرنامے میں شدید ردِعمل پیدا کیا ہے۔ LFI کے رہنما پال وانیے نے کہا کہ "مسلمانوں کو بدنام کرنے کی یہ مہم ایک ایسے ادارے نے کروائی ہے جس کا تعلق اماراتی انٹیلی جنس سے ہے”۔ ان کی ساتھی کلیمانس گیت نے پوچھا کہ "ہم کب تک غیر ملکی طاقتوں کو فرانسیسی معاشرے کو تقسیم کرنے کی اجازت دیتے رہیں گے؟”
حالیہ ہفتوں میں بھی امارات پر فرانسیسی معاملات میں مبینہ مداخلت کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن میں LFI کے ایک رکنِ پارلیمان کے خلاف مالیاتی رپورٹ میں اماراتی دباؤ کا دعویٰ شامل ہے۔

