جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ میں اسرائیلی جارحیت پر مؤثر یمنی جواب کا انتباہ

غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر مؤثر یمنی جواب کا انتباہ
غ

صنعاء (مشرق نامہ) – ایک سینئر یمنی عسکری اطلاعاتی عہدیدار نے کہا ہے کہ اسرائیلی رہنماؤں کے حالیہ بیانات یمن کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عسکری صنعتی صلاحیتوں اور ان کے اسرائیلی سلامتی پر اثرات کے باعث پیدا ہونے والی "گہری بے چینی” کو ظاہر کرتے ہیں۔

المسیرہ ٹی وی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں محکمۂ اخلاقی رہنمائی کے اطلاعاتی ڈائریکٹر زکریا الشرعیبی نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے تازہ بیانات اسرائیلی سلامتی اداروں کے اندر "غیر معمولی انتشار اور بکھراؤ” کی حالت کو صاف ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یمن مستقبل کی کسی بھی محاذ آرائی کے لیے "معیاری صلاحیتوں اور اسٹریٹجک تیاریوں” سے لیس ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کے ساتھ تنازع کئی سلسلہ وار مرحلوں پر مشتمل ہے اور صنعاء ان "فیصلہ کن” مراحل کی تیاری کر رہا ہے جو مؤثر روک تھام کا توازن قائم کریں گے۔

الشرعیبی نے اس جانب اشارہ کیا کہ یمن کے بیلسٹک میزائل اور ڈرونز اسرائیلی سرزمین کے اندر حساس اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس کے براہِ راست معاشی اثرات سامنے آئے ہیں، جن میں فضائی اور بحری آمد ورفت کی مد میں تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ امریکہ کی قیادت میں تعینات 45 سے زائد بحری جنگی جہاز بھی ایک اسرائیلی بحری جہاز کو بحیرہ احمر سے گزارنے میں ناکام رہے، جسے انہوں نے "اس ہستی کے قیام کے بعد پہلی بار پیش آنے والی بے مثال صورتحال” قرار دیا۔

ان کے مطابق اس اسٹریٹجک تبدیلی نے "اسرائیلی سلامتی نظریے” کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں یہ زات نہ بحیرہ احمر میں واپسی کی اہلیت رکھتی ہے اور نہ ان سمندری راستوں کے تحفظ کی جو کبھی اس کی سلامتی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیتن یاہو کا ثقافتی و نظریاتی پہلوؤں پر زور دینا اس خوف کی علامت ہے جو یمنی عوام کے اندر موجود "آگاہی اور مزاحمت کے ثقافتی شعور” سے پیدا ہوتا ہے، جسے انہوں نے صیہونی منصوبے کے لیے "وجودی خطرہ” قرار دیا۔

الشرعیبی نے آخر میں خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں دوبارہ جارحیت یا کشیدگی بڑھانے کی کوشش کی تو یمن کی جانب سے "مؤثر جواب” دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ "جنگ ختم نہیں ہوئی” اور یمن اپنی "اخلاقی اور انسانی ذمہ داری” کے تحت فلسطینی عوام کی مدد جاری رکھے گا۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے اکتوبر 2023 میں فلسطینیوں کے خلاف شروع کی گئی نسل کشی پر مبنی جنگ میں اب تک تقریباً 70 ہزار افراد شہید کیے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد زخمی ہوئے اور غزہ کا بیشتر بنیادی ڈھانچہ ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین