جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان نے افغان طالبان کو خوش کرنے کی پالیسی ختم کر دی،...

پاکستان نے افغان طالبان کو خوش کرنے کی پالیسی ختم کر دی، ویٹنگ گیم حکمت عملی اختیار
پ

اسلام آباد(مشرق نامہ):مغربی سرحد پر برسوں کی سفارتی کوششوں اور بار بار کے مداخلتی کردار کے بعد، پاکستان نے آخرکار اپنی افغان پالیسی تبدیل کر دی ہے۔
اب پاکستان کسی قسم کی افغان طالبان نرمی یا لچک کی پالیسی کو جاری رکھنے کے حق میں نہیں، بلکہ ایک “ویٹنگ اینڈ واچنگ” حکمتِ عملی اپنا رہا ہے—جس کے تحت حالات کو اپنے وقت پر خود واضح ہونے دیا جائے گا۔

اس پیشرفت سے باخبر اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اب اس بات پر “مطمئن” ہے کہ وہ افغانستان کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کے قدرتی ارتقا کا انتظار کرے، جو کہ ماضی کی اس پالیسی سے ہٹ کر ہے جب پاکستان کو بار بار مداخلت یا ثالثی کیلئے مجبور محسوس کیا جاتا تھا۔

یہ تبدیلی صرف علاقائی حالات کے بدلنے کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی مایوسی بھی شامل ہے—بالخصوص TTP کے خلاف افغان طالبان کی جانب سے عملی اقدامات کے فقدان پر۔
اعلیٰ سطحی وفود کی آمدورفت اور کئی سفارتی رابطوں کے باوجود، حکام کا کہنا ہے کہ کابل نے پاکستان میں حالیہ مہلک حملوں میں ملوث گروپ کو لگام دینے میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔
اسی پیش رفت نے اسلام آباد کے رویے کو سخت کر دیا۔

ایک سینیئر حکام نے کہا:
“ہمیں احساس ہوا کہ ہم اپنی توانائی لگا رہے تھے مگر نتیجہ کچھ نہیں نکل رہا تھا۔ اگر افغان حکام ہمارے بنیادی تحفظات پر توجہ دینے کے لیے تیار یا اہل نہیں، تو ہمیں بھی ان کی توقعات کا بوجھ اٹھانے کی ضرورت نہیں۔”

برسوں تک دنیا پاکستان کو وہ ملک سمجھتی رہی جس کا افغان طالبان پر منفرد اثر و رسوخ ہے۔
مغربی حکومتیں پاکستان سے اکثر مطالبہ کرتی رہیں کہ وہ طالبان کو دہشت گردی، خواتین کے حقوق اور جامع حکومت جیسے امور پر قائل کرے۔
حکام کے مطابق، اس سوچ کی وجہ سے پاکستان عالمی تنقید کے بیچ میں آ گیا، حالانکہ اس کی اپنی سکیورٹی ترجیحات اور محدود اثر و رسوخ ہیں۔

ایک اہلکار نے کہا:
“پہلے دنیا ہر معاملے پر ہم سے کہتی تھی کہ طالبان کو سمجھائیں۔ اب بالآخر انہیں سمجھ آ گئی ہے کہ ہمارا کردار اور ہماری حدود کیا ہیں۔”

ذرائع کے مطابق، پاکستان کے اس نئے اعتماد کی ایک وجہ عالمی سوچ میں ہونے والی بتدریج تبدیلی بھی ہے۔

ایک اہم پالیسی ساز نے کہا:
“ہم خوش ہیں کہ اب ہمیں افغانستان میں ہر معاملے میں الجھنے کی ضرورت نہیں۔ دو دہائیوں تک جو کچھ بھی وہاں ہوتا تھا، اس کا بوجھ ہماری پلیٹ میں آ کے گرتا تھا۔ اب دنیا افغانستان کو بھی اسی نظر سے دیکھتی ہے جیسے ہے، اور ہمارے کردار کو بھی حقیقت کے مطابق دیکھتی ہے۔”

اس نئی پالیسی کا اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان دنیا کے سامنے یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ پاکستان اور طالبان کو ایک ساتھ جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ “ڈی کپلنگ” بہت پہلے ہو جانی چاہیے تھی، کیونکہ عرصہ دراز تک عالمی بیانیہ پاکستان کو طالبان کے ساتھ نتھی کر دیتا تھا، جس سے سفارتی نقصان ہوتا تھا۔

ایک اور اہلکار نے کہا:
“اچھی بات ہے کہ اب دنیا طالبان کو پاکستان کے ساتھ نہیں جوڑتی۔”

یہ پالیسی تبدیلی، بھارت اور افغانستان کے درمیان حالیہ رابطوں اور محدود سفارتی بحالی کے پس منظر میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔
بھارت نے کابل میں کچھ انسانی امداد، اقتصادی رابطے اور خاص طور پر چاہ بہار کے ذریعے تجارت کے امکانات پر غور شروع کیا ہے۔

جب پوچھا گیا کہ پاکستان بھارت کے اس کردار کو کیسے دیکھتا ہے، تو حکام نے اس معاملے کو غیر اہم قرار دیا۔

ایک اہلکار نے جواب دیا:
“وہ جو کرنا چاہتے ہیں کریں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اگر وہ چاہ بہار کے ذریعے تجارت کر سکتے ہیں تو ضرور کریں۔ ہم انہیں خوش قسمت سمجھتے ہیں۔”

ابھرنے والے اس نئے نظریے کے مطابق، پاکستان نہ تو افغانستان کی پرورش کا ذمہ دار ہے، نہ ہی عالمی توقعات کا بوجھ اٹھانے والا۔
ذمہ داری افغان طالبان کی ہے کہ وہ اپنے ملک کو مستحکم کریں—اور دنیا کی بھی کہ وہ کابل سے حقیقتوں کی بنیاد پر نمٹے، مفروضوں کی بنیاد پر نہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین