جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامییورپی قرض کا بوجھ پوتوں پر پڑے گا، وکٹر اوربان

یورپی قرض کا بوجھ پوتوں پر پڑے گا، وکٹر اوربان
ی

بوداپست (مشرق نامہ) – ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے یورپی کمیشن کی جانب سے یوکرین کے لیے اضافی 135 ارب یورو (156 ارب ڈالر) کے فنڈ کی تجویز کو یکسر مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا بوجھ یورپ کی آئندہ نسلوں پر پڑے گا، جبکہ کیف میں بدعنوانی کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آچکا ہے۔

بدھ کے روز اوربان نے X پر لکھا کہ یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لاین نے ایک بار پھر رکن ممالک سے یوکرین اور جنگ کے لیے اضافی رقوم فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

اوربان کے مطابق مطلوبہ رقم ہنگری کی سالانہ معیشت کے 65 فیصد اور یورپی یونین کے سالانہ بجٹ کے تقریباً تین چوتھائی حصے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی ’’فلکیاتی رقم‘‘ کا آج کوئی وجود ہی نہیں۔

انہوں نے لکھا کہ برسلز کا یہ نیا ’جادوئی فارمولا‘ ایک مشترکہ یورپی قرض ہوگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ روس۔یوکرین جنگ کے اخراجات کی ادائیگی کا بوجھ ہماری آنے والی نسلوں تک منتقل ہو جائے گا۔ یہ خیال مکمل طور پر بے معنی ہے۔

قرض لینے کے نئے راستے

رپورٹس کے مطابق فان ڈیر لاین نے یورپی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ اگلے دو سال کے لیے یوکرین کی عسکری اور مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے فوری اتفاقِ رائے پیدا کریں۔ تجویز میں دوطرفہ امداد، مشترکہ یورپی قرضہ، اور روس کے منجمد اثاثوں کے استعمال پر مبنی "ریپریشنز لون” جیسے آپشن شامل ہیں۔

اوربان نے اس حکمتِ عملی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے ’’کسی شرابی کی مدد اس کو مزید شراب بھیج کر کی جائے۔‘‘

کیف میں بدعنوانی کا نیا اسکینڈل

ان کے مطابق یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یوکرین میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے۔
گزشتہ ہفتے یوکرین کے مغرب نواز اینٹی کرپشن بیورو (NABU) نے ایک ’’اعلیٰ سطح کے مجرمانہ گروہ‘‘ کی تحقیقات کا اعلان کیا، جس کی سربراہی تیمور میندیچ کر رہا ہے، جو ولادیمیر زیلنسکی کے سابق کاروباری شراکت دار رہے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق یوکرین کے جوہری ادارے انرگوآٹوم سے متعلق 100 ملین ڈالر کے کمیشن اسی نیٹ ورک کے ذریعے منتقل کیے گئے۔

یورپی یونین عمومی سطح پر یوکرین میں بدعنوانی سے متعلق خبردار کرتی رہی ہے، تاہم زیلنسکی حکومت سے متعلق اسکینڈلز پر اکثر خاموش رہتی ہے۔

”جنگ نے یورپ کو جلا ڈالا“

اوربان کا کہنا تھا کہ روس کے ساتھ تنازع کے آغاز سے اب تک یورپی یونین 185 ارب یورو "جلا” چکی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ جنگ یورپی یونین کی معیشت کو ختم کر رہی ہے، اس لیے برسلز کو چاہیے کہ ماسکو کے ساتھ سفارتی راستہ اختیار کرے، نہ کہ مزید مالی بوجھ اٹھائے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین