واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے 28 نکاتی امن منصوبے کی منظوری کے بعد امریکہ کے اتحادی ممالک اور یوکرینی حکام اس کے خدوخال سمجھنے کی کوشش میں مصروف ہیں، جبکہ کئی حلقوں میں یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ واشنگٹن شاید روسی مطالبات کے سامنے جھکنے والا ہے۔ یہ بات ایک سینئر امریکی عہدیدار نے این بی سی نیوز کو بتائی۔
عہدیدار کے مطابق منصوبہ دونوں فریقوں کو سلامتی کی ضمانتیں فراہم کرنے پر مرکوز ہے، تاکہ پائیدار امن ممکن ہو سکے، اور اس میں ایسے اقدامات شامل ہیں جنہیں یوکرین ایک دیرپا حل کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔
ان کے بقول، منصوبہ دونوں فریقوں کے لیے سلامتی کی ضمانتوں کے ذریعے دیرپا امن کے قیام پر توجہ دیتا ہے۔
ایک اور ذریعے نے کہا کہ اس فریم ورک میں “وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو یوکرین چاہتا ہے اور جن کی اسے ایک پائیدار امن کے لیے ضرورت ہے۔”
امریکی حکام کے مطابق منصوبے کی تفصیلات اب بھی مذاکرات میں ہیں اور تاحال یہ فریم ورک باضابطہ طور پر کیف کو پیش نہیں کیا گیا۔
اتحادیوں میں بے چینی
پولیٹیکو کے مطابق جیسے ہی منصوبے کی اطلاعات سامنے آئیں، امریکہ کے یورپی اتحادی اور یوکرینی حکام اس کے اثرات جاننے کی کوشش میں لگ گئے۔ بہت سے حلقوں کو تشویش ہے کہ یہ اقدام یوکرین کو روس کے مطالبات کے سامنے کمزور کر سکتا ہے۔ امریکی اور یورپی حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کے کئی پہلو ابھی غیر واضح ہیں، جن میں نیٹو کا کردار اور یوکرین کی جانب سے ممکنہ علاقائی رعایتیں شامل ہیں۔
امریکی فوجی وفد کا کیف کا دورہ
ان اطلاعات کے دوران بدھ کے روز امریکی بری فوج کے سیکریٹری ڈینیئل ڈرسکول کی قیادت میں ایک وفد کیف پہنچا، جہاں انہوں نے فوجی حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی اور امن عمل کی بحالی سے متعلق حکومتی کوششوں پر گفتگو کی۔
ایک امریکی عہدیدار نے دورے کو وائٹ ہاؤس کی “امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی وسیع تر کوشش” کا حصہ قرار دیا۔
دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ڈرسکول کی روسی حکام سے کسی ملاقات کی “کوئی منصوبہ بندی نہیں” ہے۔
یوکرینی حکومت کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ کیف منصوبے کی تشکیل میں شامل نہیں تھا۔ حکام کو منصوبے کے مجموعی خدوخال سے تو آگاہ کیا گیا، مگر تفصیلات پر مشاورت نہیں ہوئی۔ ان ذرائع نے اشارہ دیا کہ اس منصوبے کا وقت بھی سیاسی ہو سکتا ہے، کیونکہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کی حکومت اس وقت بدعنوانی کے ایک بڑے اسکینڈل کا سامنا کر رہی ہے۔
روس نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسے امریکہ کی جانب سے کسی تجویز کا باضابطہ علم نہیں دیا گیا۔ روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ یوکرین سے متعلق “معاہدوں” کی رپورٹس بے بنیاد ہیں۔
زمینی و عسکری رعایتوں کی تجاویز
رائٹرز کے مطابق امریکی منصوبے میں یوکرین سے کہا گیا ہے کہ وہ کچھ علاقہ روس کے حوالے کرے اور اپنی مسلح افواج میں کمی لائے، بدلے میں اسے سلامتی کی ضمانتیں دی جائیں۔ اگر یہ اقدامات نافذ کیے گئے تو یہ یوکرین کے لیے خاصا بڑا دھچکا ہوگا، ایسے وقت میں جب روس مشرقی علاقوں میں پیش قدمی کر رہا ہے اور کیف اندرونی سیاسی بحران سے دوچار ہے۔
انقرہ میں ترک صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کے بعد زیلنسکی نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مضبوط امریکی قیادت ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خونریزی روکنے اور پائیدار امن کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے تمام شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگ رہیں، اور امریکہ کی قیادت مضبوط اور مؤثر رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف امریکہ اور ٹرمپ “اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ عمل میں لایا جا سکے۔”
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ تنازعے کے خاتمے کے لیے “دونوں فریقوں کو مشکل مگر ضروری رعایتوں” پر آمادہ ہونا ہوگا۔ ان کے مطابق واشنگٹن ماسکو اور کیف دونوں سے ملنے والی تجاویز کی بنیاد پر اپنے منصوبے کو آگے بڑھا رہا ہے۔
ماسکو کا مؤقف ردِعمل سے بے پروا
امریکی کوششوں کے باوجود، روس نے اب تک اپنی بنیادی شرائط میں کوئی تبدیلی کا عندیہ نہیں دیا ہے۔ ان شرائط میں یوکرین کی نیٹو رکنیت سے دستبرداری اور چار روسی دعوے والے صوبوں سے انخلا شامل ہے۔ ایکسیوس کے مطابق امریکی منصوبہ ان علاقوں پر بھی روس کو کنٹرول دینے کا تصور پیش کرتا ہے جہاں وہ فی الحال مکمل قبضہ نہیں رکھتا، بدلے میں یوکرین کو امریکی سلامتی ضمانتیں دی جائیں گی۔
اس وقت روس سابق یوکرینی علاقے کا تقریباً 19 فیصد حصہ اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہے۔
یورپی یونین کی شمولیت کی شرط
یورپی یونین نے زور دیا ہے کہ واشنگٹن کوئی بھی امن منصوبہ کیف اور یورپی ممالک کی شرکت کے بغیر آگے نہ بڑھائے۔
یورپی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے برسلز میں کہا کہ کسی بھی منصوبے کے مؤثر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ یوکرین اور یورپ اس پر شریکِ کار ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ میں “ایک حملہ آور ہے اور ایک مظلوم”، اور ابھی تک “روس کی جانب سے کسی رعایت” کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔
امریکی وفد، جس میں امریکی آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج بھی شامل ہیں، جمعرات کے روز زیلنسکی سے ملاقات کرے گا۔ امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ دورہ ممکنہ مذاکرات سے قبل “حقائق جانچنے کے مشن” کا حصہ ہے۔

