ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیوینزویلا کی امریکی امن ریلی کی حمایت، عسکری دباؤ پر تنقید

وینزویلا کی امریکی امن ریلی کی حمایت، عسکری دباؤ پر تنقید
و

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – وینزویلا نے وائٹ ہاؤس کے قریب منعقد ہونے والی ایک بڑی امریکی امن ریلی کی حمایت کی ہے، جس میں شہریوں نے کیریبین میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کی مذمت کی اور دفاعی بجٹ کو عوامی خدمات کی جانب منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔

وینزویلا نے واشنگٹن میں ہونے والے اس وسیع جنگ مخالف احتجاج کو سراہتے ہوئے اسے امریکی عسکریت اور مداخلت پسند خارجہ پالیسی کے خلاف بین الاقوامی یکجہتی کے ایک اہم موڑ کے طور پر بیان کیا۔

یہ ریلی اتوار کے روز واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوئی، جس میں سابق فوجیوں، امن کارکنوں، مذہبی رہنماؤں اور مختلف عوامی تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی۔ شرکا نے لاطینی امریکا سے امریکی افواج کے انخلا، غیر ملکی مداخلت کے خاتمے اور فوجی بجٹ کو اندرونی ضروریات کی طرف موڑنے کا مطالبہ کیا۔

کاراکاس کی امریکی خارجہ پالیسی کے خلاف مظاہرے کی حمایت

صدر نکولاس مادورو کی جانب سے بات کرتے ہوئے وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان خیل نے اس احتجاج کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام اب اس عسکری ایجنڈے کو مسترد کرنا شروع کر رہے ہیں جو ان کے نام پر عالمی سطح پر مسلط کیا جاتا ہے۔

ایوان خیل نے کہا کہ امریکی عوام خود یہ واضح کر رہے ہیں کہ ان کے ملک کی جنگی مشین وہ وسائل ہڑپ کر رہی ہے جو صحت، تعلیم، رہائش اور دیگر بنیادی سماجی خدمات پر خرچ ہونے چاہئیں۔

یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا جب امریکی بحریہ کا جوہری طاقت سے چلنے والا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز، یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ، وینزویلا کے ساحل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ پینٹاگون نے اسے ’’آپریشن سدرن اسپیئر‘‘ کا حصہ قرار دیا ہے، جسے منشیات کی روک تھام کے عنوان سے شروع کیا گیا ہے۔ تیرہ ارب ڈالر مالیت کا یہ بحری جہاز پچھتر سے زائد جنگی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے ساتھ تباہ کن جنگی جہاز، کروز اور آبدوزیں بھی موجود ہیں۔

کاراکاس نے اس تعیناتی کو بین الاقوامی قانون اور علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ: عسکریت میں کمی اور عوام میں سرمایہ کاری

مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا: ‘‘فوجیوں کو گھروں واپس لاؤ‘‘، ‘‘طیارہ برداروں پر صحت کو ترجیح دو‘‘، اور ‘‘تیل کے لیے جنگیں بند کرو‘‘۔ مقررین نے کہا کہ 900 ارب ڈالر سے زائد امریکی عسکری بجٹ بنیادی سماجی خدمات کی قیمت پر بڑھ رہا ہے اور بیرونی عدم استحکام میں اضافہ کر رہا ہے۔

ایک سابق فوجی نے شرکا سے خطاب میں کہا کہ وہ بیرونِ ملک اس لیے لڑا تاکہ دوسروں کو جنگ نہ لڑنی پڑے، ‘‘اب میں یہاں لڑ رہا ہوں—کیونکہ میرا اپنا ملک لوٹا جا رہا ہے۔’’

شرکا نے درج ذیل مطالبات پیش کیے:

کیریبین سے امریکی بحری افواج کا فوری انخلا

بیرونِ ملک جارحانہ عسکری کارروائیوں کا خاتمہ

جنگی بجٹ کو صحت، رہائش اور تعلیم کی طرف منتقل کرنا

لاطینی امریکا کے ساتھ دباؤ کے بجائے سفارتی روابط

انسانی قیمت: دونوں جانب سے اثرات

وینزویلا کی ساحلی برادریاں امریکی بحری مشقوں کے سبب بڑھتے ہوئے خوف اور تناؤ کی شکایت کر رہی ہیں۔ ماہی گیر کہتے ہیں کہ امریکی جہاز بعض اوقات ان کی کشتیوں کے قریب ہوائی فائرنگ کرتے ہیں، جس سے روزگار متاثر ہو رہا ہے۔

لا گوائرہ کے ماہی گیر خوسے لوئیس میندیز نے کہا کہ وہ اپنے خاندانوں کے لیے رزق حاصل کر رہے ہیں مگر یہ عسکری ماحول ان کی زندگیوں کو غیر یقینی بنا رہا ہے۔

امریکا میں مظاہرین نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ بیرونِ ملک عسکریت اور اندرونی کفایت شعاری ایک ہی زنجیر کے دو رخ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک ٹوماہاک میزائل کی قیمت چالیس سرکاری اسکول اساتذہ کی سالانہ مجموعی تنخواہ سے زیادہ ہے۔

تصادم سے یکجہتی تک

مظاہرین نے وینزویلا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا اور نعرے لگائے کہ ’’محاصرہ ختم کرو‘‘ اور ’’لاطینی امریکا سے ہاتھ ہٹاؤ‘‘۔

ٹیلی سور کے مطابق اس ریلی نے ایک تاریخی لمحہ رقم کیا، جہاں ’’مظلوم اور مراعات یافتہ‘‘ دونوں طرح کے ممالک کے شہری ایک مشترکہ عالمی تسلط کے نظام کے خلاف متحد دکھائی دیے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین