واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کے روز سعودی عرب کے ڈی فیکٹو حکمران، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، کے لیے وائٹ ہاؤس میں خصوصی استقبال کریں گے۔ اس دورے میں ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت اور متعدد کاروباری معاہدوں میں پیش رفت متوقع ہے۔
یہ بن سلمان، جو عام طور پر ایم بی ایس کے نام سے جانے جاتے ہیں، کا 2018 کے بعد پہلا امریکی دورہ ہوگا، جب استنبول میں سعودی ایجنٹس کے ہاتھوں سعودی ناقد جمال خاشقجی کے قتل نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا تھا۔
امریکی انٹیلیجنس نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ایم بی ایس نے خاشقجی کو پکڑنے یا قتل کرنے کی منظوری دی تھی۔ ولی عہد نے آپریشن کا حکم دینے کی تردید کی، تاہم ریاست کے عملی حکمران کے طور پر ذمہ داری قبول کی۔
واشنگٹن میں انہیں ملنے والا گرمجوش استقبال اس بات کا تازہ اشارہ ہے کہ خاشقجی کے قتل سے پیدا ہونے والی گہری کشیدگی کے بعد تعلقات میں دوبارہ بہتری آئی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ایک روزہ سفارت کاری کے دوران، ایم بی ایس اوول آفس میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، کیبنٹ روم میں ظہرانہ کریں گے اور شام کو بلیک ٹائی ڈنر میں شریک ہوں گے۔
ٹرمپ کو امید ہے کہ وہ مئی میں اپنی سعودی عرب روانگی کے دوران کیے گئے 600 ارب ڈالر کے سعودی سرمایہ کاری وعدے سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ایک سینئر وائٹ ہاؤس اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، دفاع اور دیگر شعبوں میں متعدد امریکی۔سعودی معاہدوں کی توقع ہے۔
ٹرمپ نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ امریکا سعودی عرب کو ایف-35 فروخت کرے گا، اور سعودی عرب نے ان جدید طیاروں کے 48 یونٹس خریدنے کی درخواست کی ہے۔
یہ سعودی عرب کو ایف-35 کی پہلی امریکی فروخت ہوگی اور ایک نمایاں پالیسی تبدیلی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں عسکری توازن بدل سکتا ہے اور امریکا کی جانب سے اسرائیل کی "معیاری فوجی برتری” کے تصور کی نئی آزمائش کرے گا۔ اس سے قبل خطے میں صرف اسرائیل ہی کے پاس یہ طیارے موجود تھے۔
فوجی ساز و سامان سے ہٹ کر، سعودی رہنما سلامتی کی ضمانتیں، مصنوعی ذہانت تک رسائی اور سول نیوکلیئر پروگرام پر پیش رفت کے خواہاں ہیں۔
ایک سینئر اہلکار نے پیر کو رائٹرز کو بتایا کہ سعودی حکومت امریکا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ خرچ کرے گی۔
چین پر نظر
مشرقِ وسطیٰ کے سابق امریکی مذاکرات کار اور واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے رکن ڈینس راس کے مطابق ٹرمپ ایک ایسی ہمہ جہتی شراکت قائم کرنا چاہتے ہیں جو سعودی عرب کو چین کے دائرہ اثر سے باہر رکھے۔
راس نے کہا کہ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ یہ تمام اقدامات سعودی عرب کو سلامتی، مالیات، توانائی اور مصنوعی ذہانت جیسے مختلف شعبوں میں امریکا سے مزید باندھ دیں گے، اور وہ نہیں چاہتے کہ سعودی عرب ان امور میں چین کے قریب جائے۔
ٹرمپ سے توقع ہے کہ وہ ایم بی ایس پر دباؤ بڑھائیں گے کہ سعودی عرب ابراہیم معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے۔
سعودی حکام اس بڑے اقدام سے ہچکچا رہے ہیں کیونکہ وہ فلسطینی ریاست کے واضح راستے کے بغیر اس پیش رفت کو قبول نہیں کرنا چاہتے—اور یہ مقصد اس وقت پس منظر میں چلا گیا ہے کیونکہ خطہ غزہ کی جنگ سے دوچار ہے۔
ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت 2020 میں اسرائیل کے بحرین، متحدہ عرب امارات، مراکش اور سوڈان کے ساتھ ابراہیم معاہدے کرائے تھے۔ حالیہ ہفتوں میں قازقستان بھی اس عمل کا حصہ بن گیا ہے۔
تاہم ٹرمپ ہمیشہ سے سعودی شمولیت کو وسیع مشرقِ وسطیٰ امن کے حصول کا مرکزی ستون سمجھتے رہے ہیں۔
ایک سینئر وائٹ ہاؤس اہلکار نے کہا کہ ٹرمپ کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ سعودی عرب انہی کی مدت میں ابراہیم معاہدوں میں شامل ہو، اور اسی لیے اس حوالے سے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے سابق نائب نیشنل انٹیلیجنس آفیسر جوناتھن پینیکوف کے مطابق ٹرمپ ایم بی ایس کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی جانب قدم بڑھانے پر آمادہ کریں گے، لیکن اگر اس شعبے میں پیش رفت سست بھی رہی تو یہ نئی امریکی۔سعودی سیکیورٹی ڈیل میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔
پینیکوف، جو اب واشنگٹن میں اٹلانٹک کونسل سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ ٹرمپ کی امریکا میں سعودی سرمایہ کاری کی خواہش—جس کا وعدہ ولی عہد پہلے ہی کر چکے ہیں—دفاعی تعاون کو وسعت دینے کی راہ ہموار کر سکتی ہے، چاہے اسرائیلی۔سعودی نارملائزیشن کی رفتار سست ہی کیوں نہ ہو۔

