جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیل نے غزہ کا تاریخی محل تباہ کر دیا، 20 ہزار سے...

اسرائیل نے غزہ کا تاریخی محل تباہ کر دیا، 20 ہزار سے زائد نوادرات لوٹ لیے
ا

مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)اسرائیلی فورسز نے مملوک سے بازنطینی دور تک کے 316 سے زائد آثارِ قدیمہ تباہ کر دیے

غزہ کی تاریخی اور ثقافتی وراثت بھی تل ابیب کی دو سالہ جنگ کے دوران اسرائیلی بمباری سے محفوظ نہ رہ سکی، جہاں قبل از تاریخ ادوار سے لے کر عثمانی دور تک کے 20 ہزار سے زائد نایاب نوادرات غائب اور لوٹ لیے گئے ہیں۔

غزہ کی سرکاری میڈیا آفس کے سربراہ اسمٰعیل الثوابتے نے پیر کے روز اناطولیہ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ “اسرائیلی فوج نے ایک منظم پالیسی کے تحت غزہ کے آثارِ قدیمہ تباہ کیے ہیں، جس کا مقصد فلسطینی شناخت کو مٹانا ہے۔”

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے غزہ میں 316 سے زائد آثارِ قدیمہ اور تاریخی عمارتوں کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کیا، جن میں سے اکثر مملوک اور عثمانی عہد سے تعلق رکھتے ہیں، جب کہ کچھ اسلامی تاریخ کے ابتدائی صدیوں اور بازنطینی دور سے منسلک ہیں۔

قصر الباشا کی تباہی

مملوک دور کا تاریخی محل قصرالباشا — جو 800 قبل مسیح کے یونیسکو ورثہ مقام پر قائم تھا — بھی اسرائیلی حملوں سے محفوظ نہ رہا۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے بیت لحم میں واقع سینٹر فار کلچرل ہیریٹیج پریزرویشن کے ماہر حمودہ الدحدر کے مطابق، غزہ شہر کے قدیم علاقے “الدراج” میں واقع اس محل کا تقریباً 70 فیصد حصہ اسرائیلی بمباری سے تباہ ہو گیا۔

نوادرات کی لوٹ مار

ماہرین اور کارکن ملبے تلے بکھرے نوادرات کی تلاش میں اب بھی سادہ اوزاروں کی مدد سے کھدائی کر رہے ہیں، تاکہ غزہ کی تاریخی شناخت کے باقی ماندہ شواہد محفوظ کیے جا سکیں۔

الثوابتے نے کہا:
“غزہ کی وراثت کے ساتھ صرف تباہی ہی نہیں ہوئی، بلکہ اسے منظم طریقے سے لوٹا گیا، جو بین الاقوامی قانون کے تحت جرم ہے اور عالمی ثقافتی ورثے پر حملہ ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ قبل از تاریخ سے عثمانی دور تک کے 20 ہزار سے زائد نایاب نوادرات—جو میوزیم میں موجود تھے—اسرائیلی جنگ کے دوران غائب ہو گئے۔

ماہر دحدر نے بھی تصدیق کی کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے چھاپے اور تباہی کے بعد ہزاروں نایاب و متنوع نوادرات لاپتا ہو گئیں۔

دحدر نے کہا:
“یہ ہر ایک نوادرات تاریخی اہمیت رکھتی ہیں اور فلسطین کی تہذیبی تاریخ کے مختلف ابواب کی نمائندگی کرتی ہیں۔”
انہوں نے اسے “ایک سنگین ثقافتی جرم” قرار دیا، جو قومی شناخت اور انسانیت کے مشترکہ ورثے کو متاثر کرتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس مقام کو 1994 میں اسرائیلی انخلا سے قبل بھی وسیع نقصان پہنچا تھا۔

اسرائیل کے انخلا کے بعد، فلسطینی اتھارٹی نے اس محل کی بحالی کی اور اسے قیمتی تاریخی نوادرات والے میوزیم میں تبدیل کر دیا۔

تاریخی پس منظر

اسرائیل نے 1967 میں غزہ پر قبضہ کیا تھا اور 1994 میں پی ایل او کے ساتھ اوسلو معاہدے کے تحت یہاں سے انخلا کیا۔ بعد ازاں 2005 میں اس نے یکطرفہ “ڈس انگیجمنٹ پلان” کے تحت غزہ میں اپنی بستیاں ختم کر دیں۔

تاہم اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی تازہ جنگ کے دوران ایک بار پھر یہ تاریخی محل تباہی اور نوادرات کی لوٹ مار کا شکار ہوا۔

انسانی نقصان

اسرائیلی جنگ میں اب تک 69 ہزار سے زائد فلسطینی — جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے — شہید ہو چکے ہیں، جب کہ 170,700 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، اور پورا محاصرہ زدہ علاقہ ملبے کے ڈھیر میں بدل چکا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین