ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامینسل کشی کے دوران پچیس ممالک نے اسرائیل کو تیل فراہم کیا:...

نسل کشی کے دوران پچیس ممالک نے اسرائیل کو تیل فراہم کیا: رپورٹ
ن

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – برازیلی ٹریڈ یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک نے اپنا خام تیل اطالوی ریفائنریوں کی طرف موڑ دیا تھا۔

ایک نئی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ پچیس ممالک نے غزہ میں دو سالہ نسل کشی کے دوران اسرائیل کو خام تیل اور ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات فراہم کیں۔

آئل چینج انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یکم نومبر 2023 سے یکم اکتوبر 2025 تک 25 ممالک سے 323 بحری جہازوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی جنہوں نے مجموعی طور پر تقریباً 2 کروڑ 12 لاکھ ٹن خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات اسرائیل پہنچائیں۔

ان میں سے 171 شپمنٹس نے 1 کروڑ 79 لاکھ ٹن خام تیل پہنچایا، جس میں سے 70 فیصد آذربائیجان اور قازقستان سے تھا۔

آذری خام تیل، باکو-تبلیسی-جیہان (BTC) پائپ لائن کے ذریعے آذربائیجان سے ترکی منتقل ہوتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ BTC پائپ لائن جیہان میں ختم ہونے کی وجہ سے آذری خام تیل کی ترسیل میں ترکی کو ملکِ آغاز کے طور پر درج کیا جاتا ہے، لیکن اس پائپ لائن سے گزرنے والا تمام خام تیل ’’آذری BTC‘‘ کی حیثیت سے شناخت ہوتا ہے۔

اسی طرح قازق خام تیل، کیسپیئن پائپ لائن کنسورشیم (CPC) کے ذریعے روس کی بلیک سی کوسٹ پر واقع نووروسیئسک تک منتقل ہوتا ہے اور اسے روسی نژاد کے طور پر درج کیا جاتا ہے۔

افریقی براعظم سے بھی کئی شپمنٹس ریکارڈ کی گئیں، جب کہ برازیل سے چار شپمنٹس کی نشاندہی کی گئی۔

اگرچہ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 میں برازیل کے خام تیل کی اسرائیل کو ترسیل تقریباً رک گئی، لیکن برازیل کی نیشنل فیڈریشن آف آئل ورکرز کا کہنا ہے کہ ان شپمنٹس کو بیرونی ریفائنریوں، زیادہ تر اٹلی کی جانب موڑا گیا ہو سکتا ہے۔

برازیل کی اسرائیل کو برآمدات میں تیز گراوٹ کے ساتھ ساتھ سارڈینیا کے شہر سارّوک کی ریفائنری کو تیل کی فراہمی میں اضافہ ہوا ہے، اور اسی ریفائنری سے اسرائیل کو برآمد ہونے والی ریفائنڈ مصنوعات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اسی مدت میں 17 ممالک نے ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کی تقریباً 33 لاکھ ٹن پر مشتمل 152 شپمنٹس اسرائیل بھیجیں، جن میں سے 45 فیصد روس سے تھیں۔

اس میں مزید بتایا گیا کہ امریکہ نے JP-8 (فوجی طیاروں میں استعمال ہونے والا جیٹ فیول) پر مشتمل 3 لاکھ 60 ہزار ٹن کی نو شپمنٹس بھیجیں، جب کہ ٹیکساس کے شہر کارپس کرسٹی میں واقع ویلیرو کی بل گریہی ریفائنری سے دو شپمنٹس ڈیزل کی بھی روانہ کی گئیں۔

ڈاکٹر ایرین پیٹروپاؤلی، جنہوں نے ’’غزہ میں نسل کشی کو روکنے اور اس کی سزا دینے کی ریاستی اور کارپوریٹ ذمہ داریوں‘‘ پر قانونی رائے مرتب کی، نے ایک بیان میں کہا کہ عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کے عبوری حکم کی روشنی میں ریاستوں کو ’’یہ غور کرنا چاہیے کہ اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائیوں کے لیے ان کی عسکری یا دیگر مدد نسل کشی کے کنونشن کے تحت انہیں نسل کشی میں شراکت کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہے‘‘۔

قانونی رائے میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا اسرائیل کو ایندھن کی مسلسل برآمدات ICJ کے اس عبوری حکم کی خلاف ورزی ہیں، جس کے تحت ریاستوں پر ’’نسل کشی کو روکنے اور اس کی سزا دینے‘‘ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ستمبر 2025 میں اقوامِ متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اسرائیل یا ایسے تیسرے ممالک کو ہتھیار اور دیگر آلات، بشمول جیٹ فیول، کی ترسیل روک دیں، جہاں اس بات کا خدشہ ہو کہ انہیں ایسی فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے جو نسل کشی کے مرتکب ہو چکی ہوں یا ہو سکتی ہوں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین