ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیسعودی ولی عہد کا امریکہ کا دورہ؛ دفاعی معاہدے، اے آئی اور...

سعودی ولی عہد کا امریکہ کا دورہ؛ دفاعی معاہدے، اے آئی اور جوہری پروگرام ایجنڈے میں شامل
س

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – سعودی ولی عہد، جو اپنے مخفف ایم بی ایس سے مشہور ہیں، نے اس آپریشن کا حکم دینے سے انکار کیا تھا لیکن بطور حقیقتاً حکمران اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ سات سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد، دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک آگے بڑھنے کے خواہاں ہیں۔

ٹرمپ، مئی میں اپنی سعودی عرب آمد کے دوران کیے گئے 600 ارب ڈالر کے سعودی سرمایہ کاری وعدے سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس دورے میں انسانی حقوق کے بارے میں بات کرنے سے گریز کیا تھا اور توقع ہے کہ اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔

سعودی رہنما خطے میں کشیدگی کے تناظر میں سلامتی کی یقین دہانی چاہتے ہیں اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تک رسائی کے ساتھ ساتھ ایک شہری جوہری پروگرام پر پیش رفت چاہتے ہیں۔

سعودی ماہرِ بین الاقوامی امور عزیز الغاشعین نے کہا کہ "خاشقجی کے قتل کے باب کو اب پلٹ دیا گیا ہے”۔

دفاعی معاہدے پر توجہ

ریاض اور واشنگٹن کے درمیان طویل عرصے سے ایک ایسا انتظام موجود رہا ہے جس کے تحت سعودی عرب رعایتی قیمت پر تیل فراہم کرتا ہے اور امریکہ اس کے بدلے میں سلامتی کی ضمانت دیتا ہے۔

یہ توازن 2019 میں اُس وقت متاثر ہوا جب ایران نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا اور واشنگٹن نے کوئی اقدام نہیں کیا۔ خدشات اس وقت بھی دوبارہ بڑھے جب ستمبر میں اسرائیل نے دوحہ، قطر پر حملہ کیا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کا ہدف فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ارکان تھے۔

اس واقعے کے بعد، ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے قطر کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ بہت سے تجزیہ کار، سفارت کار اور علاقائی حکام کا خیال ہے کہ سعودی عرب کو بھی کچھ اسی طرح کا بندوبست ملے گا۔

حالیہ مذاکرات میں سعودی عرب نے امریکی کانگریس کی توثیق شدہ دفاعی معاہدے کی کوشش کی ہے۔ لیکن واشنگٹن نے اسے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیا ہے۔

ریاض نے اس کے بدلے میں ایک ایسے وعدے کا مطالبہ کیا ہے جس کے تحت اسرائیل کی موجودہ انتہائی دائیں بازو حکومت فلسطینی ریاست کے قیام پر آمادہ ہو۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، جنہوں نے گزشتہ ماہ حماس کے ساتھ دو سالہ جنگ کے بعد ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، نے اتوار کو فلسطینی ریاست کے قیام کی سخت مخالفت دوبارہ ظاہر کی۔

قطر کے ساتھ دفاعی بندوبست جیسے کسی ٹرمپ ایگزیکٹو آرڈر کی صورت میں ایسا معاہدہ سعودی عرب کی بنیادی خواہش یعنی باقاعدہ دفاعی معاہدے سے کم ہوگا، لیکن الغاشعین کے مطابق یہ "عمل کا ایک حصہ ہوگا، آخری مرحلہ نہیں”۔

خلیج میں مقیم ایک مغربی سفارت کار نے صورتحال کو یوں بیان کیا:
"ٹرمپ کو تعلقات معمول پر لانا ہے اور سعودی عرب کو مکمل دفاعی معاہدہ چاہیے، لیکن حالات اجازت نہیں دیتے۔ آخر میں دونوں فریق شاید اپنی خواہش سے کم حاصل کریں۔ یہی سفارت کاری ہے۔”

ڈینس راس، جو امریکی ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں حکومتوں میں مشرقِ وسطیٰ کے مذاکرات کار رہ چکے ہیں، نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ایک ایسا ایگزیکٹو آرڈر سامنے آئے گا جس میں امریکہ اور سعودی عرب کو کسی بھی خطرے کے جواب کے لیے فوری مشاورت کی ہدایت ہوگی، لیکن یہ واشنگٹن کو ریاض کے دفاع میں براہِ راست شرکت کا پابند نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس میں ممکنہ طور پر مختلف قسم کی امداد شامل ہو سکتی ہے، جیسے اسلحے کی فراہمی، میزائل دفاعی نظام جیسے تھاڈ (THAAD) یا پیٹریاٹ کی تعیناتی، یا میریٹائم فورسز کے ساتھ میرین یونٹ کی تعیناتی— یہاں تک کہ جارحانہ کارروائی میں شرکت بھی۔

خطے میں مسابقت کے دوران معاہدوں کی اہمیت

سعودی عرب اپنے وسیع ویژن 2030 منصوبے کے تحت جوہری توانائی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں معاہدے چاہتا ہے، تاکہ معیشت کو متنوع بنایا جائے اور علاقائی حریفوں کے مقابل اپنی پوزیشن مضبوط کی جائے۔

جدید کمپیوٹر چِپس حاصل کرنے کی منظوری مملکت کے لیے انتہائی اہم ہے، تاکہ وہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کا مرکز بن سکے اور متحدہ عرب امارات کے برابر مقابلہ کر سکے، جس نے جون میں امریکہ کے ساتھ اربوں ڈالر کا ڈیٹا سینٹر معاہدہ کر کے اعلیٰ سطح کی چِپس تک رسائی حاصل کی تھی۔

ایم بی ایس واشنگٹن کے ساتھ سعودی عرب کے شہری جوہری پروگرام کی ترقی پر بھی معاہدہ چاہتے ہیں، جو تیل سے ہٹ کر معیشت کو وسعت دینے کی ان کی کوشش کا حصہ ہے۔

ایسا معاہدہ امریکہ کی جوہری ٹیکنالوجی اور تحفظ کی ضمانتوں تک رسائی فراہم کرے گا اور سعودی عرب کو امارات—جس کا اپنا جوہری پروگرام موجود ہے—اور دیرینہ حریف ایران کے مقابلے میں ایک نئی سطح پر لے جائے گا۔

تاہم امریکی معاہدے میں پیش رفت مشکل رہی ہے کیونکہ سعودی عرب امریکہ کی اس شرط کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں کہ وہ یورینیم کی افزودگی یا استعمال شدہ ایندھن کی ری پروسیسنگ سے دستبردار ہو—جو دونوں ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے راستے تصور کیے جاتے ہیں۔

ڈینس راس نے کہا کہ انہیں جوہری توانائی پر کسی معاہدے کا اعلان، یا کم از کم اس سمت میں پیش رفت کا بیان متوقع ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین