(مشرق نامہ) – حیفہ ڈسٹرکٹ کورٹ نے 27 سالہ شیمن آزارزار، ساکن کریات یام، پر ایرانی انٹیلی جنس سروسز کے ساتھ حساس معلومات شیئر کرنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کی ہے۔ حکام کے مطابق آزارزار نے اپنی گرل فرینڈ کی مدد سے، جو آئی او ایف ایئر فورس بیس پر ریزروسٹ کے طور پر تعینات تھی، ایک سال کے دوران فوجی مقامات کی تصاویر اور محلِ وقوع کے کوآرڈینیٹس سمیت حساس معلومات ایرانی رابطہ کاروں تک پہنچائیں۔
دونوں افراد کو اکتوبر میں گرفتار کیا گیا۔ اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ انہیں اپنی معاونت کے بدلے ڈیجیٹل ذرائع سے مالی ادائیگیاں بھی موصول ہو رہی تھیں۔
یہ واقعہ اسرائیلی قبضے کے سکیورٹی ڈھانچے میں پے در پے دراندازی کے اُن واقعات میں تازہ اضافہ ہے، جنہوں نے مغربی حمایت کے باوجود اس نظام کی کمزوریاں بے نقاب کی ہیں۔ اسرائیلی تفتیش کاروں کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 18 سم کارڈز اور دیگر ڈیجیٹل کمیونی کیشن ٹولز بھی برآمد ہوئے جو غیر ملکی ایجنٹس سے رابطے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
شن بیت اس معاملے کی مرکزی تحقیقات کر رہا ہے، اور یہ ادارہ داخلی سلامتی میں بار بار ہونے والی خلاف ورزیوں خصوصاً ایران کے حوالے سے سامنے آنے والی کمزوریوں کے باعث مسلسل تنقید کی زد میں ہے۔
آزارزار کی گرفتاری سے چند روز قبل ایک اور شخص کو اسی نوعیت کے الزامات پر حراست میں لیا گیا تھا۔ پچھلے ہفتے ایک علیحدہ واقعے میں مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ استغاثہ نے طبریہ کے ایک ہوٹل کے ملازم پر ایران کے لیے جاسوسی کرنے کا مقدمہ دائر کیا، جو اسرائیل مخالف کارروائیوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے کی مزید علامت سمجھا جا رہا ہے۔
اگرچہ "اسرائیل” عوامی بے چینی کو دبانے کی کوشش کرتا رہا ہے، لیکن مسلسل گرفتاریوں نے انٹیلی جنس ناکامیوں کے اس جاری سلسلے کو نمایاں کر دیا ہے جو اسرائیلی ناقابلِ تسخیر ہونے کے دعوے کو مسلسل کمزور کر رہا ہے۔

