اسلام آباد، 16(مشرق نامہ) نومبر (اے پی پی): صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ہاشمی سلطنتِ اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم ابن الحسین کا ایوانِ صدر میں سرکاری دورے پر پاکستان آمد پر استقبال کیا۔
شاہ عبداللہ کے ہمراہ شہزادہ غازی بن محمد (مشیر برائے مذہبی و ثقافتی امور و خصوصی ایلچی)، ایمن الصفدی (نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ)، اور میجر جنرل یوسف ہنیٹی (چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف) بھی موجود تھے۔
فرسٹ لیڈی بی بی آصفہ بھٹو زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور سینیٹر شیری رحمٰن بھی ملاقات میں شریک تھیں۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور اردن کے دیرینہ، برادرانہ تعلقات کی توثیق کی اور دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے عوامی روابط میں اضافے اور ہر شعبے میں تعلقات کو وسعت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
علاقائی و عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے دونوں ممالک نے مشرقِ وسطیٰ میں امن، سلامتی اور استحکام کی اہمیت پر زور دیا اور کثیرالجہتی فورمز پر باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
فلسطین کے معاملے پر صدر زرداری اور شاہ عبداللہ نے یکساں مؤقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو مسترد کرتے ہوئے جنگِ غزہ کے بعد دو ریاستی حل پر زور دیا—یعنی 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ بقا فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
شاہ عبداللہ نے پاکستان اور اردن کے گہرے تاریخی تعلقات پر فخر کا اظہار کیا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کیا اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق ملک، سیکریٹری خارجہ اور دونوں ممالک کے سفراء بھی شریک تھے۔
بعد ازاں ایوانِ صدر میں ایک خصوصی تقریب میں صدر آصف علی زرداری نے شاہ عبداللہ دوم کو نشانِ پاکستان کا اعزاز عطا کیا۔
اسی موقع پر شاہ عبداللہ نے بھی صدر زرداری کو "وسام النہدۃ المُرصع” (آرڈر آف دی رینیسانس – بیجوئلڈ گرینڈ کورڈن) کا اعلیٰ اعزاز عطا کیا، جو سربراہانِ مملکت اور ممتاز شخصیات کو دیا جاتا ہے۔
تقریب میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ائر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف، وفاقی وزراء اور سفارتی کور کے اراکین نے شرکت کی۔
بعد ازاں معزز مہمان کے اعزاز میں ایوانِ صدر میں سرکاری عشایہ بھی دیا گیا۔

