مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)سابق مستقل مندوبِ پاکستان برائے اقوام متحدہ ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ کابل کے ساتھ معاملات طے کرنا پاکستان کے لیے سب سے بڑا سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی چیلنج بن چکا ہے، جو ایک شدید ’’پالیسی مخمصے‘‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ دباؤ پر مبنی حکمتِ عملی یا عسکری ردعمل کی اپنی واضح حدود ہیں، اور افغانستان کے ساتھ مکمل بگاڑ یا تعلقات کا انقطاع پاکستان کے مفاد میں نہیں—خصوصاً ایسے وقت میں جب بھارت کے ساتھ تعلقات پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہیں۔
ملیحہ کے مطابق طویل عرصے تک پاکستان کی سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کا ہدف اپنے ہمسایوں کے ساتھ دو محاذوں پر کشیدگی سے بچنا تھا، مگر اب صورتِ حال یہ ہے کہ مغربی اور مشرقی دونوں سرحدیں غیر مستحکم اور غیر محفوظ ہیں۔
انہوں نے موجودہ پاک-امریکی تعلقات کے حوالے سے کہا کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان جو حالیہ تناؤ ہے، وہ عارضی نوعیت کا ہے۔ اس کے باوجود امریکہ، اپنی انڈو پیسیفک حکمت عملی میں، بھارت کو خطے کا ’’ترجیحی شراکت دار‘‘ تصور کرتا ہے، اور امریکہ-بھارت عسکری تعاون کی نوعیت کے پاک-امریکہ تعلقات پر واضح اثرات ہیں۔
انہوں نے موجودہ حکومت کی امریکی پالیسی کو چاپلوسی، خوشگوار کاروباری سودوں اور ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ ایجنڈے سے مکمل ہم آہنگی پر مبنی قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ سب قلیل مدّت کے عوامل ہیں جو ٹرمپ کی ذاتی ترجیحات سے جڑے ہیں، اور نہ صرف یہ کہ ان کی مدت کے بعد برقرار نہیں رہیں گے بلکہ موجودہ انتظامیہ کے دوران بھی شاید برقرار نہ رہیں۔ اس لیے اصل چیلنج ایک ایسی ’’ری سیٹ‘‘ کا ہے جو حقیقی بنیادوں پر ہو۔
انہوں نے کہا کہ پاک-امریکہ تعلقات میں حالیہ بہتری دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ملاقاتوں اور ٹرمپ کی پاکستان سے متعلق مثبت بیانات میں جھلکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ مثبت رویہ کئی عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں دو ابتدائی ’’کامیابیاں‘‘ شامل ہیں جو پاکستان نے ٹرمپ کے دور کے آغاز میں انہیں فراہم کیں:
- کابل بم دھماکے میں ملوث دہشت گرد کی حوالگی، جس میں امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
- مئی میں بھارت کے ساتھ تنازع کے خاتمے کا کریڈٹ ٹرمپ کو دینا، اور بعد ازاں پاکستانی قیادت کا انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنا۔
اس کے ساتھ ہی اہم معدنیات اور کرپٹو کاروباری سودوں کی پیشکش نے بھی اثر ڈالا۔
تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اس بہتری کو پائیدار سمجھنے کے بجائے اسے ایک ’’ری سیٹ‘‘ کے ابتدائی مرحلے کے طور پر دیکھنا چاہیے، جو ابھی تک مکمل طور پر شکل اختیار نہیں کر پایا۔
ملیحہ لودھی نے سرکاری حلقوں اور بعض تجزیہ کاروں میں پائے جانے والے ضرورت سے زیادہ خوش فہم خیالات کے خلاف خبردار کیا، اور کہا کہ ایک زیادہ متوازن نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اب تک جو پیش رفت ہوئی ہے، وہ ’’شخصی تعلقات‘‘ پر مبنی ہے، جبکہ پائیدار تعلقات ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات پر استوار ہوتے ہیں، نہ کہ ذاتی ترجیحات پر۔

