جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانآئین میں ایک اور ترمیم بھی ہوسکتی ہے

آئین میں ایک اور ترمیم بھی ہوسکتی ہے
آ

فیصل آباد(مشرق نامہ):اندرونی سیاسی مخالفت اور عدلیہ کے ردعمل کو مسترد کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومتی اتحاد ملک میں "استحکام برقرار رکھنے” کے لیے ضرورت پڑنے پر آئین میں ایک اور ترمیم لانے کے لیے بھی تیار ہے، اور یہ حق صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے کہ وہ آئین میں تبدیلی کرے۔

فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیگی رہنما نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم نے ملک میں "استحکام” پیدا کیا ہے اور اگر مزید ضرورت پڑی تو حکومت دیگر اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر مزید ترمیم بھی کرے گی۔

انہوں نے کہا:
"اگر استحکام کے لیے ایک اور ترمیم کی ضرورت ہوئی تو وہ بھی ہم لائیں گے۔ پارلیمنٹ جب چاہے ترمیم کرے گی — اور پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ نظر آنا چاہیے۔”

عدلیہ کی جانب سے حالیہ استعفوں پر بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے انہیں "سیاسی فیصلہ” قرار دیا اور کہا کہ یہ استعفے اصول کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی جھکاؤ کی وجہ سے دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کرنا صرف اور صرف پارلیمنٹ کا اختیار ہے:

"جج آئین کے تحت حلف اٹھاتے ہیں، وہ کوئی سیاسی جماعت نہیں کہ آئین میں ترمیم پر استعفے دیں۔ آئین ان کی خواہشات کے مطابق نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور عوام کی مرضی کے مطابق چلے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ جن ججوں نے استعفیٰ دیا وہ "جانبدار” تھے اور "سیاسی نوعیت کے فیصلے” دیتے رہے ہیں۔
ساتھ ہی سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے عمران خان کو کہے گئے مشہور جملے "گڈ ٹو سی یو” پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ دور نہیں رہا۔

طلال چوہدری نے عدلیہ کے "سوموٹو کے بے جا استعمال” کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ججوں نے ماضی میں انہی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے وزرائے اعظم کو گھر بھیجا۔

فیصل آباد کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے بائیکاٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی وہاں الیکشن سے بھاگتی ہے "جہاں اصل مقابلہ ہو”۔

وزیرِ مملکت کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب تین روز قبل 27ویں آئینی ترمیم دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد قانون بن چکی ہے، جس کی اپوزیشن نے بھرپور مخالفت کی تھی۔

13 نومبر کو ترمیم کے نفاذ کے روز سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفے جمع کروائے تھے اور اسے آئین پر "حملہ” اور عدلیہ کی کمزوری قرار دیا تھا۔
ایک روز بعد لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے بھی استعفیٰ دے دیا، اور اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی مزید استعفوں کا امکان ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین