مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)کابل کی وسطی ایشیائی ممالک سے تجارت بڑھانے کی کوششیں
• افغان تاجروں کے مطابق پاکستان اب بھی سمندری بندرگاہوں تک سب سے مختصر اور سستا راستہ ہے
• ازبک صدر نے نیا علاقائی بلاک تشکیل دینے کی تجویز پیش کردی
افغانستان نے اپنے دیرینہ تجارتی شراکت دار پاکستان پر معاشی انحصار ختم کرنے کے لیے وسطی ایشیا کے تیل و گیس سے مالامال ممالک کے ساتھ تجارت میں نمایاں اضافہ کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جغرافیہ، بلند قیمتیں، اور سیاسی رکاوٹیں طالبان کی مالی مشکلات کے شکار اور عالمی برادری کی جانب سے غیر تسلیم شدہ حکومت کے لیے اس سمت میں پیش رفت کو مشکل بنا دیں گی۔ یہ بات ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
افغانستان کی جانب سے نئے تجارتی شراکت داروں کی تلاش کا یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب گزشتہ ماہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی سال بعد سب سے شدید سرحدی جھڑپیں ہوئیں۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر فوجی حملے کیے جن میں درجنوں افراد مارے گئے، جس کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد بند کر دی۔
ایک ماہ تک جاری رہنے والی اس بندش کے باعث افغان تاجروں کو دو سو ملین ڈالر تک کا نقصان ہوا کیونکہ عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے وہ بنیادی طور پر پاکستانی سمندری بندرگاہوں پر انحصار کرتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان بھی افغانستان کو ہر ماہ 100 سے 200 ملین ڈالر مالیت کی برآمدات کرتا رہا ہے جن میں تازہ پھل، سیمنٹ، ادویات، سرجیکل آلات، زرعی اوزار، کپڑا، جوتے، پلاسٹک مصنوعات، سینیٹری آئٹمز، کاسمیٹکس اور دیگر مقامی مصنوعات شامل ہیں۔
‘متبادل تجارتی راستے’
طالبان کے اعلیٰ حکومتی نمائندے افغان تاجروں اور سرمایہ کاروں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں اپنی سرگرمیاں محدود کریں اور وسطی ایشیائی ممالک میں نئے تجارتی مواقع تلاش کریں۔ طالبان کے وزیرِ تجارت نورالدین عزیزی نے گزشتہ ہفتے کہا:
“ہم اپنے شمالی ہمسایوں کے ساتھ قابلِ اعتماد تجارتی متبادل تلاش کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔”
طالبان کے نائب وزیراعظم عبدالغنی برادر نے بھی پاکستان پر تجارت کو “سیاسی دباؤ کے ہتھیار” کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا اور سرحدی بندش کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ افغانستان کو اپنے پڑوسی ملک پر انحصار کم کرنا چاہیے۔
سوئٹزرلینڈ میں مقیم افغان امور کے ماہر تورک فرہادی کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت بڑھانے پر زور دراصل “زیادہ تر سیاسی بیانیہ” ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ وسطی ایشیائی ممالک خود خشکی میں گھِرے ہوئے ہیں اور افغانستان کو ان تک رسائی کے لیے طویل زمینی راستوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ان ممالک کے ٹیرف میکانزم افغان برآمدات—خصوصاً زرعی مصنوعات—کے لیے اخراجات کو بہت بڑھا دیتے ہیں۔ ذخیرہ، پیکنگ، اور ترسیل کے مناسب انتظامات کی کمی بھی بڑی رکاوٹ ہے۔
فرہادی نے کہا کہ شمالی راستہ تجارتی طور پر فائدہ مند بنانے کے لیے افغانستان کو وسطی ایشیائی ممالک کے لیے ٹیرف میں کمی اور دیگر مراعات دینا ہوں گی، مگر طالبان حکومت کی آمدنی کا بڑا ذریعہ کسٹمز (محصولات) ہیں، اس لیے ایسے اقدامات مشکل ہیں۔
مزید یہ کہ کئی اہم ریلوے منصوبے، جو وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت میں اضافے کے لیے ضروری ہیں، ابھی تک نامکمل یا فنڈنگ کے بغیر ہیں۔
افغان حکومت کی عالمی سطح پر عدمِ تسلیم شدگی بھی اسے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں سے فنڈز حاصل کرنے سے محروم رکھتی ہے، جس سے شمالی سمت تجارت کے لیے ضروری انفراسٹرکچر کی تعمیر میں شدید رکاوٹ ہے۔
ان تمام عوامل کے باوجود افغانستان اور وسطی ایشیا کے پانچ ممالک—ازبکستان، قازقستان، ترکمانستان، کرغزستان اور تاجکستان—کے درمیان تجارت بڑھ رہی ہے اور افغان حکام کے مطابق یہ 1.7 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، تاہم یہ اب بھی محدود ہے۔
اب بھی پاکستان پر انحصار برقرار
وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت میں اضافے کے باوجود افغانستان کی پاکستان پر اقتصادی وابستگی بدستور برقرار ہے۔ پاکستان افغانستان کو عالمی منڈیوں تک سب سے تیز، سب سے کم خرچ، اور سب سے قابلِ بھروسا راستہ فراہم کرتا ہے۔
تورخم اور چمن کے بارڈر کراسنگ افغانستان کی تجارتی شہ رگ سمجھے جاتے ہیں، مگر حالیہ مہینوں میں بار بار کی جھڑپوں کے باعث یہ راستے مسلسل بندش کا شکار رہے ہیں۔ تازہ جھڑپوں کے بعد ہزاروں ٹرک ہفتوں تک سرحد پر پھنسے رہے۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کے پاس چند ہی ایسے متبادل راستے موجود ہیں جو پاکستان کی قربت، بندرگاہی انفراسٹرکچر، اور کم لاگت والے ٹریڈ روٹس کا مقابلہ کر سکیں۔ متبادل راستوں کا مطلب ہے:
• زیادہ ٹرانسپورٹ اخراجات
• زیادہ ٹرانزٹ وقت
• بڑھتے ہوئے رسک اور لاجسٹک مسائل
افغان چیمبر آف کامرس کے سابق سربراہ آذرخش حفیظی کے مطابق:
“حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کا سمندری بندرگاہوں، بھارت، اور جنوبی ایشیا تک سب سے مختصر اور سستا راستہ پاکستان کے ذریعے ہی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ تمام ٹرانزٹ راستوں کا کھلا رہنا افغانستان، پاکستان اور پورے خطے کی اقتصادی یکجہتی کے لیے ضروری ہے۔
علاقائی بلاک کی تجویز
ازبکستان کے صدر شوکت مرزییویف نے اتوار کے روز “کمیونٹی آف سینٹرل ایشیا” کے نام سے ایک نئے علاقائی تعاون کے تنظیمی ڈھانچے کی تجویز پیش کی، جس کا مقصد خطے کی 80 ملین آبادی پر مشتمل ریاستوں کے درمیان اقتصادی یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔
تاشقند میں وسطی ایشیا کی پانچ سابق سوویت ریاستوں اور آذربائیجان کے سربراہان کے اجلاس میں مرزییویف نے تجویز دی کہ سربراہان کے باہمی مشاورتی اجلاس کو ایک باضابطہ علاقائی بلاک کی شکل دے دی جائے۔
انہوں نے اقتصادی، سلامتی اور ماحولیاتی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔
ابھی تک دیگر ممالک کا ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم گزشتہ چند برسوں میں تمام پانچ ریاستیں باہمی روابط مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کر چکی ہیں۔ ان ممالک کے سربراہان نے کچھ دن قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن کا مشترکہ دورہ بھی کیا تھا۔
کرغزستان اور تاجکستان نے رواں سال اپنے دیرینہ سرحدی تنازعے کو حل کیا ہے جو کئی برسوں میں سینکڑوں جانیں لے چکا تھا۔

