تہران (مشرق نامہ) – تہران میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے وزیرِ خارجہ نے امریکہ اور ’’اسرائیل‘‘ پر عالمی قانون کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا اور اس بات کی توثیق کی کہ ایران قانونی دفاع اور علاقائی استحکام کے لیے پُرعزم ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا کہ ایرانی عوام نے ’’صہیونی ریاست اور واشنگٹن کے تمام وہم توڑ دیے‘‘ اور اس بات پر زور دیا کہ تہران اپنا جوہری پروگرام ’’آئی اے ای اے کے ضوابط کے مطابق‘‘ اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے دائرے میں آگے بڑھا رہا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس ’’بین الاقوامی قانون پر حملہ: جارحیت اور دفاع‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے مغربی طاقتوں کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی منظم خلاف ورزی پر شدید تنقید کی۔
عراقچی نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول ان ہی طاقتوں کے ہاتھوں شدید ترین حملوں کی زد میں ہیں جنہیں اس کے ضامن ہونا چاہیے تھا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے دنیا میں موجود عدم استحکام کی ذمہ داری امریکہ اور اس کے بعض اتحادیوں کے گزشتہ برسوں میں اختیار کردہ ’’اینٹی انٹرنیشنل لاء‘‘ رویے پر عائد کی، جو ان کے مطابق ’’مرکزی مغربی نظام‘‘ کو برقرار رکھنے کے لیے اپنایا گیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران نے جوائنٹ کمپریہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کے تحت ’’اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کیں‘‘، جبکہ ’’معاہدے کی خلاف ورزی امریکہ نے کی تھی‘‘۔ مسلسل جارحیت کے باوجود، عرقچی کے مطابق، ایران نے ’’بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی پاسداری‘‘ جاری رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کا ڈٹ کر مقابلہ نہ کرتے تو آج دنیا کی صورتحال کہیں زیادہ خراب ہوتی۔
ایران کا انتباہ: خطے کا کوئی ملک اسرائیلی بالادستی کے عزائم سے محفوظ نہیں
ایرانی وزیرِ خارجہ نے ’’اسرائیل‘‘ پر خطے کے استحکام کے خلاف کام کرنے کا الزام لگایا، یہ کہتے ہوئے کہ اس نے ’’سات ممالک پر حملے کیے‘‘ اور لبنان و شام کے علاقوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے کا کوئی ملک اس کی فوجی اور سیکیورٹی بالادستی کے عزائم سے محفوظ نہیں۔
حالیہ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے عراقچی نے انکشاف کیا کہ اسرائیل کا تازہ ترین حملہ ایران پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے براہِ راست حکم کے تحت کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی میز پر پہلا بم پھینکا۔ عراقچی کے مطابق ٹرمپ کی نام نہاد ’’امن بذریعہ طاقت‘‘ پالیسی دراصل ’’طاقت کے ذریعے استعماری حکمتِ عملی کی نئی شکل‘‘ تھی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات کے جواب میں ایران کی فوجی کارروائی ’’قانونی دفاع کا حق‘‘ تھی، جو ’’درست منصوبہ بندی‘‘ اور ’’ضرورت، تناسب اور عسکری و غیر عسکری اہداف میں فرق‘‘ جیسے اصولوں کے مطابق کی گئی۔
عراقچی نے کہا کہ ایران کا فیصلہ کن ردعمل اس کے دشمنوں کے لیے واضح پیغام تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ امن پسند ایرانی قوم جب جنگ کے دوراہے پر کھڑی ہوتی ہے، تو آخر ت ڈٹ جاتی ہے اور حملہ آور کو پچھتاوا دیتی ہے۔
انہوں نے امریکی استعماری پالیسی کو ’’جنگل کے قانون کی طرف واپسی‘‘ قرار دیا، یہ کہتے ہوئے کہ اس نے ممالک کو مجبور کر دیا ہے کہ اپنی حفاظت کے لیے طاقت حاصل کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے ’’جارحیت کے بعد اپنی طاقت کو دوبارہ تعمیر‘‘ کیا ہے اور اب ’’مزید مضبوط دفاعی صلاحیت‘‘ رکھتا ہے۔ عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایران ’’مکالمے اور امن‘‘ کے راستے پر کاربند ہے، کیونکہ ’’ہم ایسے مکالمے پر یقین رکھتے ہیں جو بین الاقوامی قانون پر مبنی ہو۔‘‘
آخر میں انہوں نے زور دیا کہ ایران کی سلامتی خطے کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے، اور تہران کا مقصد ’’نئے علاقائی ماحول کے لیے پائیدار اعتماد کی بنیاد رکھنا‘‘ ہے۔ عراقچی نے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’خطے میں امن اور سلامتی کے ستونوں کی تعمیر‘‘ ضروری ہے۔
جبر کے سائے میں مذاکرات بے معنی ہیں: محاجرانی
اسی تناظر میں ایران کی حکومتی ترجمان فاطمہ محاجرانی نے المیادین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کے ساتھ مذاکرات بے معنی ہیں کیونکہ یہ عمل ’’یک طرفہ، تسلط پسند اور جبر پر مبنی‘‘ ہے۔
انہوں نے مغرب کے ساتھ مذاکرات، حالیہ فوجی دھمکیوں اور علاقائی صورتحال پر ایران کے مؤقف کی وضاحت کی۔ محاجرانی نے کہا کہ ایران یک طرفہ سفارتکاری کو مسترد کرتا ہے، اپنے دفاع کے حق پر قائم ہے، اور ہمسایہ و اتحادی ممالک کے ساتھ تزویراتی تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ اگرچہ ایران کو مختلف ثالثوں سے پیغامات موصول ہوئے ہیں، لیکن مذاکرات ’’یک طرفہ‘‘ اور ’’دباؤ پر مبنی‘‘ ہونے کے باعث بامعنی نہیں رہتے، جبکہ حقیقی مذاکرات کے لیے ایسا معاہدہ ضروری ہے جو ’’مشترکہ مفادات اور دونوں فریقوں کے قومی مفاد‘‘ کی ضمانت دے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں ایران نے بارہا اپنی سنجیدگی ثابت کی ہے، اور ’’اسلامی جمہوریہ کا طرزِ عمل ہمیشہ مذاکرات، امن اور دنیا کے ساتھ مثبت روابط‘‘ پر مبنی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا نقطۂ نظر ’’نعروں پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر‘‘ قائم ہے۔
جون 2025 میں ایران پر ہونے والی جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے محاجرانی نے المیادین کے ذریعے خبردار کیا کہ اگر ایسے حملے دہہرائے گئے تو ’’جوابی کارروائی پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور طاقتور‘‘ ہوگی، جو ایران کے عزم اور اپنے دفاع کے حق کی واضح نشان دہی ہے۔

