ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ سے فلسطینیوں کی پراسرار نقل مکانی میں اسرائیلی معاونت

غزہ سے فلسطینیوں کی پراسرار نقل مکانی میں اسرائیلی معاونت
غ

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – ایک فلسطینی شخص، جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ایک پراسرار تنظیم کے ذریعے غزہ سے نکالا گیا ہے اور جو گزشتہ دنوں 153 افراد کو بغیر دستاویز کے جنوبی افریقہ پہنچا چکی ہے، اس پورے عمل کی تفصیلات بیان کرتا ہے جس کے تحت مزید فلسطینیوں کو تباہ شدہ محصور علاقے سے باہر لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس شخص نے، جس کی شناخت سیکیورٹی خدشات کے باعث ظاہر نہیں کی گئی، الجزیرہ کو بتایا کہ ’’المجد یورپ‘‘ نامی اس گروہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان ایسے انخلاء کے سلسلے میں ’’بہت مضبوط ہم آہنگی‘‘ موجود ہے۔

اس نے کہا کہ پورا عمل ’’معمول‘‘ کی طرح کام کرتا ہے، جس میں سامان کی مکمل تلاشی شامل تھی، اس کے بعد اسے ایک بس پر بٹھایا گیا جو جنوبی غزہ میں اسرائیلی کنٹرول والے کرم ابو سالم کراسنگ (جسے اسرائیل کیرم شالوم کہتا ہے) سے ہوتے ہوئے جنوبی اسرائیل اور پھر رامون ایئرپورٹ تک پہنچی۔

رامون ایئرپورٹ پر، اس نے کہا کہ چونکہ [اسرائیل] فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے انہوں نے ہمارے پاسپورٹ پر کوئی مہر نہیں لگائی۔

بعد ازاں ایک رومانین طیارے نے ان افراد کو کینیا منتقل کیا، جو ایک عبوری ملک کے طور پر استعمال ہوا۔ اس نے کہا کہ ایسا لگتا تھا کہ ’’المجد یورپ‘‘ اور کینیا کے حکام کے درمیان بھی کسی حد تک تعاون موجود ہے۔

اس کے مطابق، طیارے میں سوار کسی بھی مسافر کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ آخر میں کس ملک میں اتارے جائیں گے۔ اس نے مزید کہا کہ غزہ کے اندر کم از کم تین افراد اس کام کو مربوط کرتے ہیں، جبکہ اسرائیلی شہریت رکھنے والے چند فلسطینی غزہ کے باہر بیٹھ کر باقی رابطہ کاری انجام دیتے ہیں۔

ابتدا میں ایک آن لائن رجسٹریشن کی جاتی تھی، اس کے بعد اسکریننگ ہوتی تھی۔ اس شخص نے بتایا کہ اس نے اپنے اور اپنے دو اہلِ خانہ کے لیے غزہ سے نکلنے کے بدلے 6,000 ڈالر کی رقم ادا کی۔

اس نے کہا، ’’ادائیگی بینک ایپلیکیشنز کے ذریعے انفرادی اکاؤنٹس میں کی جاتی ہے، کسی ادارے کے اکاؤنٹ میں نہیں۔‘‘

اسے معلوم تھا کہ پہلا گروہ جون میں غزہ سے انڈونیشیا روانہ ہوا تھا، جبکہ دوسرا گروہ نامعلوم مقام کے لیے جانا تھا لیکن تاخیر ہوئی، پھر اگست میں اچانک کال موصول ہوئی اور انہیں روانگی کا کہا گیا۔

جن فلسطینیوں نے جمعے کے روز جنوبی افریقہ کے لیے پرواز کی، انہیں غزہ چھوڑنے کے لیے 1,500 سے 5,000 ڈالر فی کس ادا کرنا پڑے۔ انہیں صرف ایک فون، کچھ رقم اور ایک چھوٹا بیگ ساتھ لے جانے کی اجازت تھی۔

پراسرار آپریشن

’’المجد یورپ‘‘ نامی اس گروہ نے اسرائیلی فوج کی ’’غیر رسمی‘‘ سہولت کاری سے لوگوں کو غزہ سے نکالا ہے، اور اس کے بدلے میں فلسطینیوں سے بھاری رقوم وصول کی ہیں۔ لیکن اس کے پس پردہ کون ہے، یہ تاحال واضح نہیں۔

گروہ کا دعویٰ ہے کہ اس کی بنیاد 2010 میں جرمنی میں رکھی گئی، مگر اس کی ویب سائٹ صرف اسی سال رجسٹر کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر اس کے ’’عہدیداروں‘‘ کی ایسی تصاویر موجود ہیں جو دراصل مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ہیں، اور کوئی قابلِ اعتماد رابطہ معلومات بھی موجود نہیں۔ ویب سائٹ پر دی گئی ’’دفتر کی جگہ‘‘ بھی مشتبہ ہے، جو مقبوضہ مشرقی یروشلم کے شیخ جراح محلے میں ظاہر کی گئی ہے۔

الجزیرہ نے ایک اور فلسطینی شخص سے بات کی، جس نے اپنا نام صرف عمر بتایا۔ اس نے واٹس ایپ پیغامات میں بتایا کہ ’’المجد یورپ‘‘ کے ایک نمائندے نے اسے بتایا تھا کہ بیرونِ ملک منتقلی کے لیے پاسپورٹ اور پیدائش کا سرٹیفکیٹ ضروری ہوگا اور 2,500 ڈالر فی کس بطور ابتدائی ایڈوانس دینا ہوگا۔

مگر عمر کا کہنا تھا کہ اس کی درخواست مسترد کر دی گئی کیونکہ گروہ ’’انفرادی‘‘ مسافروں کو قبول نہیں کرتا۔

مرکزی غزہ کے علاقے الزوایدہ سے الجزیرہ کی نامہ نگار ہند خدری نے بتایا کہ غزہ میں لوگ اس آپریشن کے بارے میں زیادہ سن رہے ہیں اور کچھ افراد دو سالہ اسرائیلی بمباری اور زمینی کارروائیوں کے بعد ’’ناقابلِ برداشت‘‘ حالات کے باعث اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور ہیں۔

ہند خدری کے مطابق، غزہ کا تعلیمی نظام بھی تباہ ہو چکا ہے، اس لیے بعض فلسطینیوں کو لگتا ہے کہ ان اور ان کے بچوں کے لیے یہاں کوئی مستقبل نہیں۔

اسرائیلی فوج کی تصدیق

اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ وہ غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی ’’فراہم‘‘ کر رہی ہے، جو اسرائیل اور امریکہ کی حمایت یافتہ ’’رضاکارانہ روانگی‘‘ کی پالیسی کا حصہ ہے۔

اسرائیلی فوج نے مارچ میں ایک نیا یونٹ قائم کیا تھا تاکہ اس پالیسی کو مزید ’’فروغ‘‘ دیا جائے اور اس کی ’’سہولت کاری‘‘ کی جائے، جسے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کی سیکیورٹی کابینہ کی منظوری حاصل تھی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین