ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان بھر میں افغان شہریوں کی گرفتاریوں میں دس گنا اضافہ —...

پاکستان بھر میں افغان شہریوں کی گرفتاریوں میں دس گنا اضافہ — UNHCR رپورٹ
پ

اسلام آباد(مشرق نامہ): اقوامِ متحدہ کے مہاجرین کے ادارے (UNHCR) کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے ابتدائی دس ماہ میں پاکستان میں افغان شہریوں کی گرفتاریوں اور حراست میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے اضلاع چاغی اور کوئٹہ، جبکہ پنجاب کا ضلع اٹک ملک بھر میں وہ تین اضلاع رہے جہاں سب سے زیادہ افغان سٹیزن کارڈ (ACC) ہولڈرز اور غیر دستاویزی افغان باشندوں کو گرفتار یا حراست میں لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 1 جنوری سے 8 نومبر 2025 تک مجموعی طور پر 100,971 افغان شہری گرفتار ہوئے، جب کہ 2024 میں یہ تعداد 9,006 اور 2023 میں 26,299 تھی۔ 2023 سے پہلے ایسے افراد کی گرفتاریوں کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں تھا، لیکن جنوری 2023 سے بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) نے ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کیا۔

ایک ہفتے میں 72 فیصد اضافہ

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2 سے 8 نومبر کے دوران 13,380 افغان شہریوں کو گرفتار یا حراست میں لیا گیا، جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 72 فیصد اضافہ ہے۔ ان میں سے 76 فیصد ACC ہولڈرز اور غیر رجسٹرڈ افغان تھے، جبکہ 24 فیصد پروف آف ریجسٹریشن (PoR) کارڈ ہولڈرز تھے۔

اس عرصے کی 41 فیصد گرفتاریوں کا تعلق بلوچستان سے، جبکہ 43 فیصد کا پنجاب سے تھا۔

افغانستان واپسی کی بڑھتی تعداد

رپورٹ کے مطابق 15 ستمبر 2023 سے 8 نومبر 2025 تک کل 1,723,481 افغان باشندے پاکستان سے افغانستان واپس گئے۔
صرف 2 سے 8 نومبر کے دوران 55,768 افراد نے تورخم، غلام خان، چمن، بادینی اور بہرامچہ بارڈر کراسنگ پوائنٹس کے ذریعے افغانستان واپسی کی، جن میں:

  • 48٪ PoR ہولڈرز
  • 43٪ غیر دستاویزی افغان
  • ACC ہولڈرز شامل تھے۔

اسی مدت میں 13,548 افغانوں کو باقاعدہ طور پر ڈی پورٹ بھی کیا گیا، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 75 فیصد زیادہ ہے۔

واپسی میں اضافہ تورخم بارڈر کے 1 نومبر کو دوبارہ کھلنے کے بعد ممکن ہوا، اگرچہ یہ تعداد اب بھی اگست اور ستمبر میں دیکھے گئے بلند ترین اعداد کے مقابلے میں کم ہے۔

وجہ: گرفتاری کا خوف

اپریل 2025 سے اب تک 869,448 افغان وطن واپس گئے، جن میں سے 115,159 (13٪) جبراً ڈی پورٹ کیے گئے۔
واپسی کی بنیادی وجہ گرفتاری کا خوف بتایا گیا، جو:

  • غیر رجسٹرڈ افراد اور ACC ہولڈرز میں 93٪
  • PoR ہولڈرز میں 47٪
    تک ریکارڈ ہوا۔

پاکستان بھر میں واپسی کرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد:

  • کوئٹہ (20٪)
  • اٹک (13٪)
  • اسلام آباد (9٪)

جبکہ افغانستان میں ان کا زیادہ رجحان کنڑ، ننگرہار اور کابل جانے کا تھا۔

حکومتی اقدامات

رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان حکومت نے افغان باشندوں سے متعلق کئی اہم اقدامات کیے:

  • جنوری: اسلام آباد اور راولپنڈی سے افغانوں کے انخلا کا اعلان، خلاف ورزی پر ڈی پورٹیشن کی وارننگ۔
  • اپریل: دوسری مرحلہ بندی (IFRP) کا آغاز، جس میں ACC ہولڈرز بھی شامل کرلیے گئے۔
  • جولائی: PoR کارڈ کی میعاد ختم ہونے پر انہیں بھی واپسی کا حکم، 1 ستمبر ڈیڈلائن مقرر۔

بلوچستان میں چھاپے — 434 افغان حراست میں

بلوچستان کے علاقے نوکندی میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف چھاپوں میں 434 افغان شہریوں کو گرفتار کیا۔

  • کلی برہان آباد میں چھاپے کے دوران 200 افغان حراست میں لیے گئے جبکہ گھر کا مالک اور تین دیگر افراد فرار ہوگئے۔
  • دوسرے چھاپوں میں خلیل احمد اور عطااللہ کے گھروں سے 234 افغانوں کو گرفتار کیا گیا۔
    تمام گرفتار افغان شہریوں کو بعد میں پولیس کی نگرانی میں گردی جنگل ریفیوجی کیمپ منتقل کیا گیا، جہاں سے ان کی ملک بدری کے اقدامات شروع کیے گئے۔
مقبول مضامین

مقبول مضامین