ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستانمشکل سے منہ موڑنے کی فطرت اور حقیقی سیکھنے کی راہ

مشکل سے منہ موڑنے کی فطرت اور حقیقی سیکھنے کی راہ
م

مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)مصنف حافظ محمد ادریس بٹ نے انسانی دماغ کی فطرت پر روشنی ڈالی ہے، جو قدرتی طور پر تکلیف اور مشکل سے بچنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ دماغ توانائی بچانے اور فوری آرام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن یہ فطرت سیکھنے کے عمل میں رکاوٹ بن جاتی ہے، کیونکہ حقیقی سمجھ اور علم حاصل کرنے کے لیے محنت، صبر، اور غیر یقینی صورتحال میں رہنا ضروری ہے۔ طلبہ اکثر سست نہیں ہوتے بلکہ وہ فوری فائدے کے بغیر مشکل مسائل سے ہچکچاتے ہیں، کیونکہ حقیقی سیکھنے کے انعام وقت کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں، اور اس کی فوری تحریک نظر نہیں آتی۔

اساتذہ اور والدین کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ بچوں کو دکھائیں کہ ہر کوشش، ہر سوال اور ہر محنت کی قدر ہے تاکہ ان کی تجسس اور سیکھنے کی لگن قائم رہے۔ مصنف نے وضاحت کی کہ حقیقی سیکھنے کے نتائج اکثر وقت کے ساتھ سامنے آتے ہیں، اور یہی طویل مدتی سرمایہ کاری دماغ کی پختگی، استدلال کی صلاحیت، اور ذہنی تربیت کو فروغ دیتی ہے۔ اگر ہم سیکھنے کے عمل میں آسان حل یا شارٹ کٹ کے راستے اختیار کریں، تو طلبہ سمجھنے کی بجائے صرف نتیجہ حاصل کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی حقیقی فہم متاثر ہوتی ہے۔

یہ رجحان زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ خطرناک عادات جیسے موبائل فون استعمال کرتے ہوئے ڈرائیونگ یا سگریٹ نوشی ترک کرنے میں ہچکچاتے ہیں کیونکہ نقصان دیر سے ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح طلبہ آسانی کے لیے فوری جوابات کو ترجیح دیتے ہیں، حالانکہ گہرائی میں جانے سے طویل مدتی فہم اور فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

روحانی نقطہ نظر سے بھی یہ تصور قرآن میں دنیا اور آخرت کے تضاد کے ذریعے واضح ہوتا ہے، جہاں فوری، مرئی فائدے کے مقابلے میں دیرینہ، پوشیدہ انعام کو ترجیح دی جاتی ہے۔ حقیقی ایمان اور علم دونوں صبر، توجہ، اور دیرینہ نتائج کی قدر پر مبنی ہیں۔ جس طرح مومن فوری راحت کو ترک کر کے آخرت کے انعام کی تلاش کرتا ہے، اسی طرح طالب علم کو بھی علم حاصل کرنے کے لیے مشکل اور غیر یقینی صورتحال کو قبول کرنا پڑتا ہے۔

مصنف نے اس نتیجے پر زور دیا کہ مشکل کوئی دشمن نہیں بلکہ ایک موقع ہے، جو صبر، محنت اور معنی کی تلاش کے ذریعے حقیقی سیکھنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ مشکل کا سامنا کرنے سے دماغ مضبوط ہوتا ہے اور علم کی قدر بڑھتی ہے۔ کلاس روم میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے: وقتی نتائج کی دوڑ کے بجائے طویل مدتی سمجھ اور فہم کو ترجیح دینا ضروری ہے تاکہ طلبہ کے لیے سیکھنا محنت اور کشمکش کے باوجود خوشگوار اور مفید عمل بن جائے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین