مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)جرمنی میں 1980 کی دہائی کے بعد پہلی بار فضلے کے نمونے میں ’وائلڈ پولیو وائرس‘ کی موجودگی نے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، حالانکہ عوامی صحت کے ماہرین کے مطابق عام شہریوں کے لیے خطرہ اب بھی انتہائی کم ہے۔ جرمن ادارہ برائے صحت، رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ (RKI)، نے بتایا کہ ہیمبرگ شہر سے لیا گیا فضلے کا نمونہ مثبت پایا گیا، جس کے بعد ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے اور مزید نمونے لیے جا رہے ہیں۔ وزارتِ صحت کے مطابق اب تک ملک میں پولیو کے کسی مریض کی تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ ویکسینیشن کی بلند شرح اس بات کی ضمانت ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ محدود رہے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ وائرس ممکنہ طور پر کسی ایسے فرد سے خارج ہوا جو نمونہ لینے کے وقت ہیمبرگ میں موجود تھا۔ یہ واقعہ قابلِ ذکر ضرور ہے، مگر ماہرین کے مطابق غیر متوقع نہیں، کیونکہ پولیو کا خاتمہ عالمی سطح پر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ دنیا کے صرف دو ممالک—افغانستان اور پاکستان—میں اب بھی ’وائلڈ پولیو‘ پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی ماہرین ویکسینیشن اور مسلسل نگرانی کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں۔

