مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)سینیٹ نے جمعہ کو چار حکومتی بل آسانی کے ساتھ منظور کر لیے، جن میں پاکستان آرمی، ایئر فورس اور نیوی ایکٹ میں 2025 کی اہم ترامیم اور سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل شامل ہیں۔ ان ترامیم کے ذریعے فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں آرمی چیف کا عہدہ بدل کر چیف آف دی ڈیفنس فورسز (CDF) کرنا اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا نیا عہدہ متعارف کرانا شامل ہے۔ وزیراعظم کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ آرمی کے حاضر سروس جرنیلوں میں سے تین سالہ مدت کے لیے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ تعینات کریں، اور اس مدت میں توسیع بھی قومی سلامتی کے مفاد میں دی جا سکے گی۔ بل میں یہ بھی شامل ہے کہ ایسی کسی تقرری یا توسیع کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ اسی طرح ایئر فورس اور نیوی ایکٹس سے سابقہ CJCSC سے متعلق تمام شقیں بھی ختم کر دی گئی ہیں، جس سے تینوں فورسز کے ڈھانچے میں نئی ترمیم شدہ ساخت نافذ ہو گئی ہے۔

