مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (PBS) کی رپورٹ کے مطابق 13 نومبر 2025 کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) میں سالانہ بنیادوں پر 4.15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مسلسل مہنگائی کے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہفتہ وار بنیادوں پر اضافہ نسبتاً کم یعنی 0.53 فیصد رہا، جس کی وجہ مرغی، ٹماٹر اور ایل پی جی جیسی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق مرغی کی قیمت میں ہفتہ وار 20.33 فیصد، ٹماٹر میں 12.03 فیصد اور ایل پی جی میں 1.97 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دیگر غذائی اور غیر غذائی اشیا، جیسے گھی، تیل، فائر ووڈ، بیف اور خواتین کی جوتیاں بھی مہنگی ہوئیں۔ دوسری جانب بعض اشیا کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جن میں پیاز (6.65٪)، دال چنا (2.61٪)، چینی، گڑ، آٹا اور بعض دالیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 51 میں سے 15 اشیا کی قیمتیں بڑھیں، 12 کم ہوئیں اور 24 میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ سالانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ اضافہ خواتین کے سینڈل (55.62٪)، چینی (40.25٪) اور گیس چارجز (29.85٪) میں ہوا، جبکہ لہسن، دال چنا، بجلی کے کم ٹیرف والے نرخ، ٹماٹر، آلو اور چائے جیسی بنیادی اشیا سستی ہوئیں۔ یہ رجحان ملک میں مہنگائی کے ملے جلے مگر برقرار دباؤ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

