مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)فریڈم ہاؤس کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ آزادی گزشتہ 15 برسوں میں نمایاں طور پر گھٹی ہے، اور ملک کو 100 میں سے صرف 27 اسکور کے ساتھ ’’Not Free‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون 2024 سے مئی 2025 کے دوران حکومت نے آن لائن ماحول پر کنٹرول بڑھایا، جس میں وی پی اینز کو بلاک کرنے کی دھمکیاں، اور سائبر کرائم قانون (پیکا) میں ایسی ترامیم شامل ہیں جن کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس عرصے میں واٹس ایپ، سگنل اور دیگر پلیٹ فارمز تک رسائی میں بارہا رکاوٹیں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ اسلام آباد میں سابق وزیراعظم عمران خان کے حق میں مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ سروس بھی محدود کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق 2012 سے پاکستان کا درجہ ’Partly Free‘ سے ’Not Free‘ میں بدل گیا، جبکہ چین، ایران اور روس جیسے ممالک کے ساتھ پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا جہاں آزادی میں مسلسل گراوٹ دیکھی گئی۔ وی پی این رجسٹریشن کے معاملے پر حکومتی تضاد بھی سامنے آیا، جبکہ پیکا ترامیم میں مبہم زبان پر شدید خدشات ظاہر کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ افراد کو آن لائن مواد کے باعث توہینِ مذہب کے مقدمات میں سزائے موت تک سنائی گئی۔ مجموعی طور پر، رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان میں شہری آزادیوں اور ڈیجیٹل اسپیس پر ریاستی کنٹرول بڑھ رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی انٹرنیٹ آزادی مسلسل پندرھویں سال کم ہوئی ہے۔

