کراچی(مشرق نامہ): ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہونے والی نمایاں غربت میں کمی 2018-19 کے بعد رک گئی ہے اور مسلسل معاشی، سیاسی اور ماحولیاتی جھٹکوں کے باعث حالات الٹا بگڑنے لگے ہیں۔ یہ بات آئی بی اے کراچی میں ہونے والی ففتھ انٹرنیشنل کانفرنس برائے اکنامکس اینڈ سوشل سائنسز میں بتائی گئی، جہاں ورلڈ بینک کی 20 سال بعد جاری ہونے والی پہلی جامع ’پاکستان پوورٹی اسیسمنٹ رپورٹ‘ پر بحث ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2001 سے 2015 تک غربت 64.3٪ سے کم ہوکر 21.9٪ تک لانے میں بڑی کامیابی حاصل کی تھی، جس کی بنیادی وجہ زرعی شعبے سے غیر زرعی روزگار کی طرف منتقلی تھی۔ لیکن اب یہ عمل رُک گیا ہے، کیونکہ نئی ملازمتوں کا بڑا حصہ کم اجرت، غیر پیداواری اور مکمل طور پر غیر رسمی شعبے میں ہے، جس سے گھرانے غربت سے مستقل طور پر نہیں نکل پارہے۔
ماہرین نے کہا کہ بیرونِ ملک ترسیلات زر بھی حقیقی معنوں میں کم ہورہی ہیں اور غربت میں کمی میں ان کا کردار کمزور پڑ چکا ہے، جبکہ 85٪ ملازمتیں غیر رسمی ہیں اور 37٪ نوجوان تعلیم، ملازمت یا تربیت—کسی بھی سرگرمی میں شامل نہیں، جو جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ شرح ہے۔
ورلڈ بینک کی ماہر ماریہ قاضی نے خبردار کیا کہ لاکھوں افراد غربت کی لکیر کے عین اوپر زندگی گزار رہے ہیں، اور مہنگائی، بیماری یا روزگار چھن جانے کا ایک جھٹکا انہیں دوبارہ غربت میں دھکیل سکتا ہے۔ ملک میں بنیادی سہولیات کا بھی شدید فقدان ہے—صرف 4.3٪ گھرانوں کو روزانہ پائپڈ پانی میسر ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ پاکستان کا موجودہ غیر مساوی، غیر پیداواری اور غیر رسمی معاشی ماڈل غربت کے خاتمے کے لیے ناکافی ہے۔ سندھ ریونیو بورڈ کے چیئرمین وسیم میمن نے کہا کہ ٹیکس کا بوجھ نچلے طبقے پر ہے جبکہ اشرافیہ کم ادائیگی کرتی ہے؛ ٹیکس بیس کی توسیع اور صوبائی محاصل کی مضبوطی ناگزیر ہے۔ ورلڈ بینک کی کرسٹینا ویزر نے کہا کہ بی آئی ایس پی جیسے کیش ٹرانسفر غریبوں کو سہارا دیتے ہیں، مگر پائیدار کمی تعلیم، روزگار اور خواتین کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔
کانفرنس کے شرکا نے کہا کہ پاکستان کو ’’جغرافیائی کرایوں‘‘ پر مبنی ماڈل سے نکل کر پیداواری، منصفانہ اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی‘‘ کی طرف جانا ہوگا، ورنہ عدم مساوات مزید بڑھے گی۔ اختتامی سیشن میں ماہرین نے عالمی طاقتوں کی نئی ’’کثیر قطبی‘‘ دنیا کے تناظر میں پاکستان کو اپنا کردار ازسرنو طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

