اسلام آباد(مشرق نامہ): قومی اسمبلی نے جمعرات کو فوجی قوانین میں بڑے پیمانے پر ترامیم کی منظوری دی، جس کے بعد آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مدتِ ملازمت ان کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) تقرری کے دن سے دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ یہ ترامیم 27ویں آئینی ترمیم کے تحت آرٹیکل 243 اور عسکری کمان کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں کا حصہ ہیں۔
اسمبلی اجلاس کی صدارت اسپیکر ایاز صادق نے کی، جہاں وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے قوانین میں ترامیمی بل پیش کیے، جو چند منٹ میں اکثریتی ووٹ سے منظور ہوگئے۔ ان ترامیم کے مطابق:
- چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CJCSC) کا عہدہ ختم کر دیا گیا۔
- اس کی جگہ کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ (CNSC) کا نیا عہدہ قائم ہوگا، جس کی تقرری وزیراعظم، آرمی چیف کی سفارش پر تین سال کیلئے کریں گے۔
- سی ڈی ایف کا عہدہ فوج کی اعلیٰ ترین کمان ہوگا، جس کی مدت پانچ سال ہوگی۔
- موجودہ آرمی چیف کی نئی مدت CDF کی تقرری کے نوٹیفکیشن سے شروع ہوگی۔
وفاقی کابینہ نے بھی ان ترامیم کی منظوری دے دی، جن میں فوج کے ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نئے اعزازی عہدے — فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس، ایڈمرل آف دی فلیٹ — شامل ہیں۔
اسی اجلاس میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون میں ترمیم بھی منظور کی گئی، جس کے تحت آئینی بینچ کو ختم کرنے کی راہ ہموار ہوگئی۔
وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ تمام ترامیم نئے قوانین نہیں بلکہ 27ویں آئینی ترمیم کے مطابق موجودہ قوانین کو ہم آہنگ کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، پی ایم ایل-ق اور اتحادی جماعتوں کو تاریخی اصلاحات کی منظوری پر مبارکباد دی۔

