مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – امریکی ماحولیاتی پالیسیوں کی پسپائی اور فوسل فیول کے استعمال میں کمی سے انکار کے باعث، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زمین ناقابلِ واپسی نقصان کی طرف بڑھ رہی ہے، باوجود اس کے کہ عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹیاں بج چکی ہیں۔
تازہ رپورٹس کے مطابق، اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو اس صدی کے اختتام تک درجہ حرارت میں 2.6 ڈگری سیلسیس اضافہ متوقع ہے۔ ممالک کی طرف سے پیش کردہ ماحولیاتی وعدے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں، جب کہ فوسل فیول کے اخراج کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
کلائمیٹ ایکشن ٹریکر کی تازہ رپورٹ، جو آئندہ ہونے والے COP30 مذاکرات (بیلیم، برازیل) سے قبل جاری کی گئی، ظاہر کرتی ہے کہ حکومتوں کی نئی اخراج کم کرنے کی پالیسیاں مسلسل چوتھے سال خطرناک عالمی حدت کو روکنے میں ناکام رہیں۔ ماہرین کے مطابق، 2.6 ڈگری کا اضافہ پیرس معاہدے کے اہداف سے کہیں زیادہ ہے اور دنیا کو انتہائی موسم، قحط اور معاشی بحرانوں کے نئے تباہ کن دور میں دھکیل سکتا ہے۔
گلوبل کاربن پراجیکٹ (GCP) کی ایک الگ رپورٹ کے مطابق، فوسل فیول سے کاربن اخراج اس سال تقریباً 1 فیصد مزید بڑھنے کا امکان ہے، اگرچہ اس اضافے کی رفتار گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں کچھ کم ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کوئلہ، تیل اور گیس سے اخراج پچھلی دہائی میں اوسطاً 0.8 فیصد سالانہ بڑھا، جو اس سے پہلے کی دہائی کے 2 فیصد اضافے سے کم ہے۔
قابلِ تجدید توانائی کی رفتار اب عالمی توانائی کی بڑھتی ہوئی سالانہ طلب کے قریب پہنچ چکی ہے، تاہم ابھی تک اسے مکمل طور پر پورا نہیں کر سکی۔
کلائمیٹ اینالٹکس کے سربراہ بل ہیر کے مطابق٬ 2.6 ڈگری گرم دنیا ایک عالمی تباہی ہو گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اتنی شدت کی حدت سمندری دھاروں کے بگاڑ، مرجان کی چٹانوں کے خاتمے، برفانی چادروں کے پگھلنے، اور ایمیزون جنگلات کے خشک میدانوں میں تبدیل ہونے جیسے تباہ کن نتائج لا سکتی ہے۔
ان کے مطابق، اس کا مطلب یورپ اور برطانیہ میں زراعت کے خاتمے، ایشیا و افریقہ میں بارشوں اور مون سون کی ناکامی، اور مہلک گرمی و نمی کے طویل ادوار ہوں گے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسانیت کو کسی صورت نہیں پہنچنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق، صنعتی انقلاب کے بعد سے زمین کا درجہ حرارت پہلے ہی تقریباً 1.3 ڈگری سیلسیس بڑھ چکا ہے، جس کا باعث جنگلات کی کٹائی اور فوسل فیول کے بے تحاشہ استعمال ہیں۔ نتیجتاً دنیا شدید طوفانوں، جنگلاتی آگ، اور خشک سالی جیسے اثرات کا سامنا کر رہی ہے۔
امریکہ کے انخلا سے ماحولیاتی وعدے خطرے میں
پیرس معاہدے کے تحت ممالک پر لازم تھا کہ وہ اپنے قومی ماحولیاتی اہداف (NDCs) کو اپ ڈیٹ کریں، مگر اب تک صرف 100 ممالک نے نئے منصوبے جمع کرائے ہیں — اور ان میں سے بیشتر ناکافی ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق، امریکہ کے معاہدے سے انخلا کے باعث عالمی حدت کا تخمینہ 2.2 ڈگری سیلسیس تک بڑھ گیا ہے۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار ماحولیاتی تبدیلی کو “فریب” قرار دیا، اندرونِ ملک ماحولیاتی پالیسیوں کو منسوخ کیا، اور تیل و گیس کی ڈرلنگ کو فروغ دیا۔ پہلی بار امریکہ نے کسی COP کانفرنس میں کوئی سرکاری وفد نہیں بھیجا۔
تاہم، ماہرین کے مطابق، پیرس معاہدے کے بعد مجموعی منظرنامہ کچھ بہتر ہوا ہے، کیونکہ پہلے 3.6 ڈگری حدت کے خدشات تھے، جو اب کم ہو کر 2.6 ڈگری تک آ گئے ہیں۔ اس بہتری کی بڑی وجہ صاف توانائی کا پھیلاؤ اور کوئلے کے استعمال میں کمی ہے۔
GCP کی رپورٹ نے خبردار کیا کہ قدرتی کاربن سنکس (carbon sinks) کمزور ہو رہے ہیں، جس سے بحران مزید بڑھ رہا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی امریکہ کے بڑے جنگلات اب کاربن جذب کرنے کے بجائے اسے خارج کر رہے ہیں — درجہ حرارت کے بڑھنے اور جنگلات کی کٹائی کے باعث۔
جاری عالمی حدت ‘پاگل پن’ کے مترادف
COP30 اجلاس میں G77 ممالک اور چین — جو دنیا کی 80 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں — نے فوسل فیول کے منصفانہ خاتمے کی اپیل کی۔ تاہم، آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان، ناروے، برطانیہ اور یورپی یونین نے اس کی حمایت نہیں کی۔
برازیل نے جنگلات کی کٹائی سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا ہے، مگر برطانیہ سمیت کئی اہم ممالک نے تاحال اس میں شمولیت اختیار نہیں کی۔
سابق امریکی نائب صدر ایل گور نے اجلاس میں کہا کہ جاری عالمی حدت “حقیقی معنوں میں دیوانگی” ہے۔
ان کے الفاظ میں٬ ہم کب تک خاموش تماشائی بنے رہیں گے اور درجہ حرارت بڑھاتے رہیں گے تاکہ تباہ کن واقعات مزید سنگین ہو جائیں؟ ہمیں نہ صرف تخفیف بلکہ موافقت کی پالیسی اپنانی چاہیے، ورنہ یہ رویہ ہمیں ایسے مقام پر لے جائے گا جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔
یونیورسٹی آف ایسٹ انگلیا کی پروفیسر کورین لی کریرے نے کہا کہ اگرچہ رفتار ناکافی ہے، مگر قابلِ تجدید توانائی کے پھیلاؤ نے اخراج میں اضافے کی رفتار کو کم کیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ واضح ہے کہ مؤثر ماحولیاتی پالیسیاں نتائج دیتی ہیں، اور دنیا آہستہ آہستہ ان منحنی خطوط کو موڑنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 35 ممالک — جو عالمی جی ڈی پی کا چوتھائی حصہ رکھتے ہیں — اب ایسی معیشتیں ہیں جو بڑھ رہی ہیں مگر ان کے اخراج کم ہو رہے ہیں، جن میں آسٹریلیا، اردن، جنوبی کوریا اور کئی یورپی ممالک شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، CO2 کی سطح 2025 تک 425 پی پی ایم تک پہنچنے کی توقع ہے، جو صنعتی دور سے پہلے 280 پی پی ایم تھی۔ ماہرین کے مطابق، اگر قدرتی کاربن سنکس کمزور نہ ہوئے ہوتے تو یہ سطح 8 پی پی ایم کم ہوتی۔
آئل چینج انٹرنیشنل کے رومین یوآلالین نے زور دیا کہ COP30 میں شریک ممالک کو قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری دگنی کرنی چاہیے اور فوسل فیول کی پیداوار و استعمال کے تیز تر خاتمے کی منصوبہ بندی شروع کرنی چاہیے۔

