ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومنقطہ نظرصیہونی سلطنت کے قیام کی مہم میں تائیوان صیہونی ہدف بن گیا...

صیہونی سلطنت کے قیام کی مہم میں تائیوان صیہونی ہدف بن گیا ہے
ص

تحریر: ڈیوڈ ملر

27 اکتوبر کو تائیوان کے صدر لائی چِنگ-تے نے جزیرے پر AIPAC کے پہلے وفد کے خیرمقدم کے موقع پر ایک تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ “امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی کے پہلے وفد کو تائیوان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ AIPAC ایک نمایاں غیر منافع بخش تنظیم ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کام کرتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل” تائیوان کے لیے دفاع کو مضبوط بنانے کے لحاظ سے ایک مثالی ماڈل ہے اور انہوں نے بائبلی کہانی "ڈیوڈ بمقابلہ گولیتھ” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آمریت کے مقابل ڈٹ جانے کی ضرورت ہے۔ صدر نے AIPAC کو "انتہائی بااثر اور معتبر” قرار دیا۔

یہ وفد دو سو سے زائد افراد پر مشتمل تھا، جن میں سی ای او ایلیٹ برانٹ، بورڈ چیئرمین مائیکل ٹچن، اور بورڈ صدر برنی کامی نیٹسکی شامل تھے۔ AIPAC اب ایک عالمی سطح پر متحرک ادارہ بن چکا ہے، جو “صیہونی سلطنت” کے قیام کے لیے بین الاقوامی کردار ادا کر رہا ہے، اور حالیہ برسوں میں اس نے خلیجی ممالک، بھارت اور یورپ کے دورے بھی کیے ہیں۔

AIPAC نے صدر لائی کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی ایک چمک دار یادگاری ماڈل پیش کی — جو امریکی طاقت کی علامت تھی۔ تاہم، اس نے اپنے باقی وفد کے ارکان کے نام ظاہر نہیں کیے۔

رائٹرز کے مطابق، “تائیوان، الاقصیٰ طوفان (Al-Aqsa Flood) کے آغاز کے بعد سے اسرائیل کا مضبوط حامی رہا ہے،” اگرچہ “اسرائیل، بیشتر ممالک کی طرح، تائی پے کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں رکھتا۔”

صدر نے مزید کہا کہ “تائیوان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو ہر سال عالمی یومِ یادِ ہولوکاسٹ کی تقریبات منعقد کرتا ہے۔”

تائیوان ایک جغرافیائی و سیاسی استثنا رکھتا ہے، جسے نوآبادیاتی دور میں "فارموسا” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بظاہر یہ چین کا حصہ ہونا چاہیے۔ تاہم، یہ چینی انقلاب 1949 میں کامیاب ہونے کے بعد چیانگ کائی شیک کی قوم پرست جماعت “کومِنتانگ” کے شکست خوردہ عناصر کا آخری ٹھکانہ بن گیا۔ انہوں نے یہاں ایک علیحدہ ریاست قائم کر کے خود کو "جمہوریہ چین” قرار دیا اور مارشل لا نافذ کیا، جو 1987 میں ختم ہوا۔

اس کے بعد سے تائیوان نے نام نہاد “معاشی معجزہ” حاصل کیا، جو امریکی مالی اور عسکری سرپرستی، مزدوروں کے استحصال، اور عالمی سرمایہ دارانہ مفادات کی تابعداری پر مبنی تھا — ایک ایسا نظام جو سامراجی طاقتوں اور مقامی استحصالی طبقے کے مفادات کی خدمت کرتا رہا۔

اب، “پکس جیوڈائیکا” (Pax Judaica) یعنی “صیہونی سلطنت” کے ابھرتے دور کے ساتھ، تائیوان جیسے خطوں میں بھی صیہونی اثر و رسوخ اور مداخلت بڑھتی جا رہی ہے۔

صدر لائی چِنگ-تے نے اپنی گفتگو میں اس عزم کا اظہار کیا کہ “سیمی کنڈکٹرز، آئی سی ٹی (انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی)، اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کیا جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ تائیوان “صدر ٹرمپ کے AI ایکشن پلان کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔” یہ منصوبہ جنوری میں ٹرمپ نے لانچ کیا تھا، جس کے موقع پر ان کے ساتھ دو معروف صیہونی ارب پتی — اوریکل کے لیری ایلیسن اور اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین — موجود تھے۔

ایلیسن ٹرمپ کے “غزہ پلان” کا مرکزی کردار تھا، جس کا مقصد فلسطینی مزاحمت کو کچلنا اور “آٹھویں محاذ” یعنی معلوماتی جنگ میں صیہونی غلبہ حاصل کرنا تھا — جس کے لیے ایلیسن کی ٹک ٹاک، سی بی ایس اور ممکنہ طور پر سی این این پر اثر و رسوخ استعمال کیا جا رہا ہے۔

یوں تائیوان “پکس جیوڈائیکا” کے ابھرتے ہوئے نیٹ ورک میں ایک اور کلیدی نکتہ بن گیا ہے۔ اگرچہ تائیوان میں صیہونی تحریک کی دراندازی نسبتاً حالیہ ہے۔

2011 میں “چاباد” نامی انتہا پسند حریدی صیہونی فرقے نے اپنے نمائندے (شلوحیم) تائیوان بھیجے۔ ان کا مرکز "تائی پے یہودی مرکز” کہلاتا ہے، جو جزیرے کے دو عبادت خانوں میں سے ایک فراہم کرتا ہے۔ چاباد کی موجودگی چین میں بھی ہے، جہاں بیجنگ، شنگھائی اور دیگر شہروں میں دس سے زائد دفاتر قائم ہیں۔

چاباد کے مطابق، تائیوان میں تقریباً 1,500 سے 2,000 یہودی آباد ہیں — جو 2.4 کروڑ کی آبادی کا 0.001 فیصد بھی نہیں بنتے۔
1970 کی دہائی میں یہاں زیادہ تر روسی نژاد پچاس کے قریب یہودی خاندان مقیم تھے، مگر 2007 تک یہ آبادی گھٹ کر محض 150 تک رہ گئی۔

چاباد نے 16 ملین ڈالر لاگت سے ایک نیا مرکز بھی قائم کیا ہے، جسے “جیفری ڈی۔ شوارتز یہودی کمیونٹی سینٹر” کہا جاتا ہے۔ اس کا نام اس کے مرکزی مالی مددگار، امریکی نژاد صیہونی جیفری شوارتز کے نام پر رکھا گیا ہے، جو 1970 کی دہائی سے تائیوان میں مقیم ہیں۔ شوارتز نے AIPAC کے حالیہ وفد کے انتظامات میں کلیدی کردار ادا کیا اور تائیوانی صدر نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

شوارتز تائیوان کے دوسرے عبادت خانے “کونگریگیشن لیو ہامیذراخ” کے سرپرست بھی ہیں۔ یہ ایک صیہونی کنیسہ ہے جو صیہونی بستیوں کے لیے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور قابض افواج کے لیے دعائیں کرتا ہے۔

2024 میں اس کنیسہ نے "بی بی وائی او ایشیا پیسیفک کانفرنس” میں ایک وفد بھی بھیجا۔ "بی بی وائی او” یعنی بنی بریت یوتھ آرگنائزیشن دنیا کی سب سے بڑی صیہونی نوجوان تنظیموں میں سے ایک ہے، جو “ورلڈ صیہونی آرگنائزیشن” سے منسلک ہے — ایک ایسا ادارہ جو یہودی نوجوانوں کو شدت پسندی اور نسل کشانہ نظریات کی طرف راغب کرتا ہے۔

اسی طرح “تائیوان-اسرائیل پارلیمانی ایسوسی ایشن” بھی قائم کی گئی ہے، جو کنیسٹ کے ساتھ روابط بڑھانے، پارلیمانی وفود کے تبادلوں، اور سیاسی تعاون کی نگرانی کرتی ہے۔ جولائی میں کنیسٹ کے 72 ارکان — حکومتی اور اپوزیشن دونوں — نے مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں تائیوان کو بین الاقوامی فورمز سے خارج کیے جانے کو “غیر منصفانہ اور غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا گیا۔

صیہونی ریاست چین کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے تائیوان کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں رکھ سکتی۔ تاہم، اس نے تائی پے میں “اسرائیل اکنامک اینڈ کلچرل آفس” قائم کیا ہوا ہے۔ اس کی نمائندہ مایا یارون اکتوبر میں AIPAC وفد کی ملاقات کے انتظامات میں شریک تھیں۔

ان تعلقات کی نوعیت کے باعث بیشتر رابطے خفیہ یا نیم خفیہ رہتے ہیں۔ تاہم یہ معلوم ہے کہ تائیوان نے 1970 کی دہائی میں اسرائیلی میزائل خفیہ طور پر خریدے تھے۔
1992 میں، جب اسرائیل نے عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے، تو تائیوان کو براہِ راست ہتھیاروں کی فروخت روک دی گئی۔

آج کم از کم آٹھ تائیوانی کمپنیاں اسرائیلی اسلحہ ساز اداروں — مثلاً “ایل بٹ”، “رافائل”، اور “آئی اے آئی” — کو ڈرونز اور ہتھیاروں کے پرزے فراہم کر رہی ہیں۔
ساتھ ہی کئی اسرائیلی کمپنیاں بھی تائیوان میں سرگرم ہیں، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں، جہاں صیہونی انٹیلی جنس کا گہرا اثر موجود ہے۔

اس کے علاوہ، اطلاعات ہیں کہ صیہونی ریاست تائیوان کو اپنے “آئرن ڈوم” دفاعی نظام کی تیاری میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ خاص طور پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ 2024 میں لبنان میں ہونے والے صیہونی پیجر دھماکوں کے سپلائی چین میں تائیوان کا کردار شامل تھا۔

رواں سال جولائی میں تائیوان، مغربی کنارے میں ایک غیر قانونی اسرائیلی بستی میں قائم میڈیکل سینٹر کے لیے مالی تعاون فراہم کرنے والی پہلی غیر ملکی حکومت بن گیا۔

یوں تائیوان نے نہ صرف فلسطینی نسل کشی کے منصوبے بلکہ “گریٹر اسرائیل” کے قیام کی حمایت میں بھی عملی شرکت ظاہر کی ہے۔ صیہونی ریاست اب تائیوان سمیت جنوبی و مشرقی ایشیا کے متعدد ممالک میں پہلے سے کہیں زیادہ گہرائی سے سرایت کر رہی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین