ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیایران، چین اور روس کی آئی اے ای اے چیف سے اہم...

ایران، چین اور روس کی آئی اے ای اے چیف سے اہم ملاقات
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – ایران، چین اور روس کے مستقل مندوبین نے ویانا میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی، جو 19 تا 21 نومبر ہونے والے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس سے قبل منعقد ہوئی۔

روس کے نمائندے میخائل اولیانوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ تینوں ممالک کے مندوبین نے گروسی سے ملاقات میں آئندہ اجلاس کے ایجنڈے اور ایران کے جوہری پروگرام پر تبادلۂ خیال کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران، چین اور روس ایران کے جوہری معاملے میں ’’اہم کردار‘‘ ادا کرتے ہیں اور بڑی حد تک طے کرتے ہیں کہ آئندہ صورتحال کس سمت میں جائے گی۔ یہ ملاقات گزشتہ ہفتے تینوں ممالک کے سفیروں کے درمیان ہونے والے ہم آہنگی اجلاس کے بعد عمل میں آئی، جو آئی اے ای اے بورڈ کے اجلاس سے قبل ان کے مشترکہ مؤقف کو ظاہر کرتی ہے۔

آئندہ بورڈ اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام پر صرف ’’سیف گارڈز معاہدے‘‘ کے فریم ورک کے تحت غور کیا جائے گا، جس کے تحت آئی اے ای اے غیر فوجی مقاصد کے لیے جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے۔

ایران نے ایک بار پھر اس معاہدے پر اپنی مکمل عملداری کے عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پارلیمان کی جانب سے رواں سال منظور کیے گئے قانون کے مطابق ایجنسی سے تعاون جاری رکھے گا۔ اس قانون کے تحت ایران نے اضافی معائنوں جیسی رضاکارانہ سرگرمیوں کو معطل کر دیا تھا، جب آئی اے ای اے نے جون میں ایران کے جوہری مراکز پر امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت سے گریز کیا۔

تہران مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام خالصتاً پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور ایجنسی سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مغربی دباؤ کے تحت سیاسی موقف اختیار کرنے سے گریز کرے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ٹیلیفونک گفتگو میں ایران، چین اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعاون پر زور دیا، جو اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارمز پر مغربی خصوصاً امریکی یکطرفہ پالیسیوں کے مقابلے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

عراقچی نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان تعمیری تعاون غیر وابستہ تحریک کی حمایت سے بھی مستحکم ہے، جو کثیرالقطبی عالمی اصولوں کے فروغ کی حامی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہم آہنگی یورپی ممالک کے یکطرفہ اقدامات، خصوصاً اسنیپ بیک میکنزم کے اطلاق کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین