ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ نے امریکی سرکاری شٹ ڈاؤن ختم کرنے والا بل منظور کر...

ٹرمپ نے امریکی سرکاری شٹ ڈاؤن ختم کرنے والا بل منظور کر لیا
ٹ

واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے وفاقی اخراجاتی بل کی منظوری کے چند گھنٹے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پر دستخط کر دیے، جس سے امریکی تاریخ کے طویل ترین 43 روزہ حکومتی شٹ ڈاؤن کا خاتمہ ہو گیا۔

ٹرمپ نے بدھ کی شب کہا کہ میرے دستخط کے ساتھ وفاقی حکومت اب معمول کے مطابق کام شروع کرے گی، اور وعدہ کیا کہ وہ مہنگائی میں کمی کے لیے کام کریں گے۔

یہ بل، جو 30 جنوری تک وفاقی فنڈنگ میں توسیع کرتا ہے، ریپبلکن اکثریتی ایوان میں 209 کے مقابلے میں 222 ووٹوں سے منظور ہوا، جبکہ سینیٹ نے اسے رواں ہفتے کے آغاز میں منظور کیا تھا۔

شٹ ڈاؤن کے دوران تقریباً 6 لاکھ 70 ہزار وفاقی ملازمین کو تنخواہوں کے بغیر کام کرنا پڑا یا عارضی طور پر فارغ کیا گیا تھا، جنہیں اب بقایا ادائیگیاں ملیں گی۔

امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس فیصلے سے ایئر ٹریول کے متاثرہ شعبے کو آئندہ تھینکس گیونگ تعطیلات سے قبل بحالی کا موقع ملے گا، جبکہ کرسمس سے قبل لاکھوں امریکی خاندانوں کے لیے غذائی امداد کی بحالی بھی ممکن ہو سکے گی۔

تاہم معاہدہ صحت انشورنس سبسڈی کے اہم مسئلے کو حل نہیں کر سکا، جو 2 کروڑ 40 لاکھ امریکیوں کے لیے اہم ہے۔ سینیٹ میں اس پر دسمبر میں رائے شماری متوقع ہے۔

دونوں جماعتیں 43 روزہ شٹ ڈاؤن کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہی ہیں۔ رائٹرز/اِپسو کے تازہ سروے کے مطابق 50 فیصد امریکیوں نے ریپبلکنز کو جبکہ 47 فیصد نے ڈیموکریٹس کو اس بحران کا ذمہ دار قرار دیا۔

ٹرمپ نے دستخطی تقریب میں ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک چلانے کا طریقہ نہیں، ہمیں دوبارہ ایسا نہیں ہونے دینا چاہیے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹ رکن میکی شیرل نے کہا کہ یہ بل دراصل ایک ایسی حکومت کے لیے رسمی مہر ثابت ہو گا جو بچوں سے خوراک اور عوام سے علاج چھین رہی ہے۔

ماہر قانون بروس فین کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ بل کی منظوری ریپبلکنز کی جیت ہے، کیونکہ جنوری میں ایک اور شٹ ڈاؤن کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔

نیا بل وفاقی حکومت کو ہر سال تقریباً 1.8 ٹریلین ڈالر مزید قرض میں اضافہ کرنے کا باعث بنے گا، جو پہلے ہی 38 ٹریلین ڈالر کے قرض تلے دبی ہوئی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ شٹ ڈاؤن کے دوران امریکی معیشت کی شرحِ نمو میں ہر چھ ہفتوں میں 0.1 فیصد تک کمی ہو رہی تھی، تاہم اب بیشتر مالی نقصان آئندہ مہینوں میں پورا ہو جانے کی توقع ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین